99

خیبرپختونخوا کی اساتذہ تنظیموں نے اساتذہ کی بھرتی کےلئے حکومت کے مجوزہ نئے طریقہ کار کو مسترد

خیبرپختونخوا کی اساتذہ تنظیموں نے اساتذہ کی بھرتی کےلئے حکومت کے مجوزہ نئے طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پراسپیکٹیو ایسوسی ایشن کے نمائندوں شعیب الرحمن اور جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری اطلاعات ارباب فاروق جان نے کہا کہ نئی مجوزہ پالیسی میں پیشہ ورانہ تعلیم کی شرط ختم کرکے نا اہل افراد کو تدریسی شعبے میں لانے کےلئے راہ ہموار کی گئی ہے جو اساتذہ کی آسامیوں کےلئے کورسز کرنے والے افراد کے ساتھ نا انصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی مجوزہ پالیسی کو شروع کرنے سے پہلے ماہرین تعلیم اور ریسرچرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے، نئی مجوزہ پالیسی میں ایلیمینٹری سطح پر بی ایڈ کا دورانیہ بڑھا دیا ہے اور اس ضمن میں ایچ ایس سی نے بی ایڈ کو ختم کرکے اے ڈی ای 2 سالہ اور بی ایڈ آنرز پروگرام شروع کیا تھا اب نئی مجوزہ پالیسی میں سب پروفیشنل کوالیفکیشن کو ختم کردیا گیا ہے جو ایچ ای سی پالیسی کے خلاف ہے جبکہ دنیا بھر میں ٹیچنگ کےلئے پروفیشنل کوالفکیشن لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مذکورہ پالیسی این جی او کی ایماء پر بنائی ہے، مذکورہ پالیسی لاگو کرنے کے بعد طلبہ کا مستقبل بھی تاریک ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ وہ نئی تعلیم کش پالیسی پر نظر ثانی کرے اور یہ فیصلہ واپس لے لیں۔

Print Friendly, PDF & Email