82

سڑکوں، پلوں، ابنوشی اور ابپاشی کے اسکیموں کی بحالی پر کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے جو کہ مایوس کن ہے۔مولاناعبدلاکبرچترال

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) چترال سے قومی اسمبلی کے سابق رکن مولانا عبدلاکبرچترالی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر انفراسٹرکچر کی بحالی اور متاثرین سیلاب کی دوبارہ آبادکاری کے لئے موسم سرما کی آمد سے پہلے پہلے دس ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جائے ورنہ چترال کے عوام کے مصائب و مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگاکیونکہ چترال میں کام سیزن صرف چھ مہینوں تک محدود ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں مولانا اسرار الدین الہلال، عبدالحق، عبدالکبیر، حکیم مجیب اللہ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت نے متاثریں سیلاب کے لئے اخبارات میں بیان بازی سے ذیادہ کچھ نہیں کیا ہے جبکہ اب تک متاثریں کو جو ریلیف دی گئی ہے ، وہ نہ ہونے کے برابر ہے اور سڑکوں، پلوں، ابنوشی اور ابپاشی کے اسکیموں کی بحالی پر کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے جو کہ مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال اس سیلاب کے نتیجے میں کم از کم بیس سال پیچھے چلا گیا ہے اور یہاں سہولیات کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر اس علاقے کو مزید سردمہری کا نشانہ بنایا گیا تو علاقے میں شدید احساس محرومی بڑھ جائے گی ۔ مولانا چترالی نے اس بات پر بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف کے قانون میں صرف سیلاب برد مکان کے لئے معاوضے کی گنجائش موجود ہے جبکہ اکثر لوگوں کے باغات، زرعی زمینیں اور فصل اور دکانات اور موٹر گاڑیاں سیلاب برد ہوگئے ہیں مگر سرکار کے رجسٹر میں ان کی ریلیف کے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ چالیس دن گزرنے کے باوجودانگارغون واٹر سپلائی اسکیم کو بحال نہ کرنا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے اور گولین گول واٹر سپلائی اسکیم کے باوجود شہراو رمضافات میں لوگوں کا پینے کے پانی کا ایک ایک قطرے کے لئے ترسنا افسوسناک بات ہے۔ چترال کے سابق ایم این اے مولانا چترالی نے وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے زرعی قرضہ جات کی معافی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ دراصل زرعی قرضہ مافیا کو پہنچ گیا ہے اور سیلاب کے متاثر یں کو ایک پائی کا فائدہ بھی نہیں پہنچا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی قرضے صرف ان کو معاف کئے جائیں جن کے نام متاثرین ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تیار کردہ متاثرین کی فہرست میں شامل ہوں ورنہ اس کا فائدہ صرف وہ لوگ اٹھائیں گے جو کہ عادی طور پر زرعی قرضہ لے کر اس تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب کسی قدرتی آفت کی بنا پر یہ معاف ہوں گے۔ انہوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے تمام طالب علموں کے لئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں فیسوں کی مکمل معافی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مولانا چترالی نے اس موقع پر بتایاکہ انہوں نے پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں کے مخیر حضرات سے متاثریں سیلاب کے لئے چندہ مہم چلا کر چھ لاکھ روپے کی رقم موڑکھوسمیت دوسرے علاقوں میں تقسیم کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں