70

محکمہ وائلڈلائف چترال نے بروغل سے کسی بھی درخواست گذار کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی/چیئرمین امین جان تاجک

چترال (پریس ریلیز)چیئرمین ویلج کونسل بروغل امین جان تاجک نے ایک پریس ریلیزمیں کہاہے کہ وادی بروغل چترال کا ایک دور افتادہ اور انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔جو چترال شہر سے تقریباً 300کلو میٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ بروغل کی تمام آبادی غربت کی لکیر سے بہت نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ زندگی گذارنے کے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور سخت موسمی حالات کے باعث ذرائع آمدن کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بروغل کی تمام تر آبادی کا ذریعہ معاش مال مویشی ہیں جن سے یہاں کی آبادی جسم اور روح کا رشتہ برقرارکھے ہوئے ہیں۔ بروغل کو جانے والے راستے سال کے زیادہ تر مہینے کبھی برفانی تودوں کے گرنے اور کبھی دریائے بروغل میں طغیانی کے با عث بند رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہاں کے مقامی باشندے میلوں کا سفر پیدل طے کرکے مستوج اور چترال علاج معالجے کیلئے آتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں بروغل کے بد قسمت لوگ اس ایٹمی دور میں بھی عملاً پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سن 2010 ؁ء میں محکمہ وائلڈ لائف چترال نے بروغل کے بے چارے اور سادہ لوح عوام کو سنہرے خواب دیکھا کر بروغل کے پورے علاقے کو کمیو نٹی مینجڈ (Community Managed) نیشنل پارک قرار دیا۔ اس وقت وائلڈ لائف کے اہلکاروں اور افیسروں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نیشنل پارک کے Declarationسے بروغل کے عوام کو بہت فائدہ ہو گا اور یہ کہ بروغل میں نیشنل پارک کے قیام سے روزگار کے بہت سارے مواقع پیدا ہو ں گے جن پر مقامی لوگوں کی تقرری ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔ تاہم وقت گذرنے کے ساتھ یہ سب وعدے کبھی ایفا نہیں ہوئے۔ بروغل کے سادہ لوح عوام کے ساتھ با ر بار دھوکہ ہو ا۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں بروغل نیشنل پارک کے انتظام کو بہتر کرنے کیلئے واچرز اور دیگر اسامیوں کا اشتہار دیا گیا۔ ان میں 6 واچروں ، 2وائلڈ لائف ڈپٹی رینجرز، ایک سوشل آرگنائزر، ایک Office Assitant، ایک SDFO،چوکیدار اور چڑاسی کے اسامیاں شامل تھے۔ بروغل کے اہل نوجوانوں نے بھی واچرز، ڈپٹی رینجرز، چوکیدار اور چپڑاسی کے اسامیوں کیلئے اپنے درخواست محکمہ وائلڈ لائف چترال کے ساتھ جمع کرا دیے۔ لیکن ستم ظریفی کی انتہاء دیکھئے کہ با وجود مقامی سطح پر اہل افراد دستیاب ہونے کے پورے بروغل سے کسی بھی درخواست گذار کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی۔ سوشل آرگنائزر جس کا کام مقامی لوگوں کی ذہن سازی کرنا ہو تا ہے، اخصوصاً بروغل جیسے علاقے جہان شرحِ خواندگی نہ ہونے کے برابر ہے سو شل آرگنائزر کا کردار اور بھی اہم ہو تا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کی نااہلی اور اقربا پروری کی انتہاء ملاحظہ کیجیے کہ سو شل آرگنائزر کی اسامی کیلئے مردان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتوں کاانتخاب عمل میں لایا۔ Office Assistant جس کا کام دفتری امور کو انجام دینا ہو تا ہے ، اس کیلئے بھی پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک فرد کا انتخاب کیا گیا۔
اسی طرح بروغل نیشنل پارک کے SDFOکا تعلق بھی دیر سے ہے۔ جس نے ابھی تک نیشنل پارک کا دورہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کیا ہے۔ واچروں کے اسامیاں پر کرنے کیلئے دروش، جغور، کوشٹ، مستوج، تورکہو، چپالی اور مراگرام سے افراد کا انتخاب کیا گیا۔ چوکیدار ، ڈرائیور اور نائب قاصد کیلئے مستوج اور تورکہو کا انتخاب ہوا۔ مذاق اور اقراپروری کی اس سے اعلیٰ اور جیتی جاگتی مثال ملنا فی زمانہ ناممکن ہے۔ میں حیران PTIاور جاعت اسلامی کے حکومت پر ہوں جنہوں نے کرپشن اور اقربا پروی کے خاتمے کو اپنا منشور بنا کر انتخابات جیتے تھے۔ کیا یہ نعرے صرف عوام خصوصاً بروغل کے سادہ لوح اور غریب عوام کو دھوکہ دینے کیلئے تھے۔ کہاں گئی تحریک انصاف کی وہ میرٹ کا دعویٰ، کیا ہوا جماعت اسلامی کی مساوات کو ، کیوں خاموش ہے روٹی کپڑا اور مکان کے دعویدار ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں میں وائلڈ لائف کے اعلیٰ حکام خصو صاً سیکریٹری ما حولیات، چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف اور خیبر پختون خواں کے حکومت سے یہ سوال کرناچاہتا ہوں کہ کیا اس طرح آپ لوگ عمران خان کے Green Pakistanکو شرمندہ تعبیر کریں گے، کیا نیشنل پارک کا انتظام اس طرح بہتر کر سکیں گے۔ سابق وزیر اعظم کو ادارے تباہ کرنے کا الزام دینے والے اس طرح اپنے ادارے چلا رہے ہیں۔ کیایہ وہ نیا پاکستان ہے جس کا PTIحکومت دعویدار ہے۔ کیا وہ شریعت ہے جو جماعت اسلامی لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وادی بروغل کو وہ وسائل عطاء کی ہیں جس کی نظیر پوری دینا میں نہیں ملتی۔ اس مراسلے کی ذریعے میں تمام اداروں اور ذمہ داروں خا ص کر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوں اور چیرمین تحریک انصاف تک یہ بات پہنچاناچا ہتا ہوں کہ اگر بروغل کے عوام کے محرومیوں کا ازالہ بروقت نہیں کیا گیا اور یہ تمام Appiontment orders فی الفور منسوخ کر کے ایک تفصیلی انکوئری منعقد نہیں کی گئی تو میں چترال پریس کلب کے سامنے خود سوزی پر مجبور ہو جاؤں گا۔ گذشتہ سالوں سے میں نے ہر ایک دروازہ کھٹکھٹایا لیکن میری کسی نے نہ سنی۔ میری تمام تر امیدیں اب میڈیا پر ہیں۔ امید ہے کہ میڈیا کہ معزز نمائندے ہماری داد رسی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email