179

لو کل گورنمنٹ کا مستقبل ؟…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ 

fffاگر چہ ہمارے کونسلر ز اور ناظمین 29 اور 30 اگست کو حلف اٹھارہے ہیں پھربھی خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشانات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون کئی تضادات کا مجموعہ ہے اس قانون کے تحت انتخابات میں کئی فاش غلطیاں سرز د ہوئیں اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو قائم کرنے اور چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اس وجہ سے ویلج کونسلوں اور نیبر ہڈ کو نسلوں کے لئے دفاتر اور عملہ ، فرنیچر ، ٹیلیفون وغیرہ کا جو انتظام چھ ماہ پہلے ہونا چاہئے تھا وہ کام انتخابات کے تین ماہ بعد بھی نہیں ہو رہاہے دفاتر کے لئے عمارتوں کا حصول معرض التوا میں ہے سکرٹریوں کی تقرری کو چوتھی بار ملتوی کیا گیا نائب قاصد کی بھرتی اور فرنیچر وغیرہ کے حصول کا کام تیسری بار ملتوی ہوا صوبے کی سیاسی قیادت لو کل گورنمنٹ کے نئے اداروں کو اختیارات دینے اور کامیاب کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اگر سپریم کورٹ کی طرف سے دباؤ نہ ہوتا تو خیبر پختونخوا میں ووٹ نہ ہوتے کچھ لوگ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حوالہ دیتے ہیں میں اس بات سے متفق نہیں ہوں منشور کا حوالہ دینا بیکار ہے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ، دکھانے کے اور ہوتے ہیں منشور میں جو کچھ لکھا ہے وہ دکھانے کے لئے ہے کام سے اس کا کوئی تعلق نہیں بالکل تعلق نہیں اگر کام کے تعلق ہوتا تو 1979 ء یا 2001 ء کا بلدیاتی نظام لایا جا تا ، اور انتخابات کروا کر ایک آز مودہ نظام کو نافذ کیا جا تا نصف سیاسی اور نصف غیر سیاسی انتخابات کی کیا ضرورت تھی ؟ویلج کونسلوں اور نیبر ہڈ کونسلوں کی کیا ضرورت تھی ؟ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ سیاسی قیادت بلدیاتی نظام میں مخلص نہیں تھی اس لئے متضاد قانون منظور کیا ایکٹ کے اندر بے شمار تضادات کو جگہ دیدی اور پھر انتخابات سے پہلے یا انتخابات کے بعد ویلج کونسلوں کے قیام ، عملہ اور سہولتوں کی فراہمی کے کام کو روک دیا تا کہ کم از کم دو سالوں تک کوئی کونسل نہ بنے ،کوئی کونسل کام نہ کرے کرک ، لکی مروت اور بٹگرام یا بونیر کے پہاڑی دیہات میں 4 دیہات کو ویلج کونسل بنایا گیاہے قوانین میں تضاد کی وجہ سے ناخواندہ شخص اس کونسل کا چیرمین ہے دوسر نا خواندہ شخص وائس چیرمین ہے دو ایم اے ، تین گر یجویٹ اور ایک ایف ایس سی مرد اُس کے ماتحت کونسلر ہیں ویمن کونسلر بھی گریجویٹ ہے بعض نیبر ہڈ کونسلوں میں ایم اے ایل ایل بی جنرل کونسلر ہے ان پڑھ شخص چیرمین منتخب ہواہے وجہ یہ ہے کہ قانون ان پڑھ لوگوں نے بنایا تھا اس قانون کو ریو یو کے لئے ان پڑھ لوگوں کے پاس بھیجا گیا تھا اگلے دوسالوں تک اس کونسل کو نہ دفتر ملنے کی اُمید ہے نہ عملہ ملنے کی تو قع ہے نہ فرنیچر ملنے کی اُمید ہے حالانکہ انتخابات سے چھ ماہ پہلے تینوں ضروریات پوری ہونی چا ہئے تھیں اگر سیاسی قیادت چاہتی تو یہ ساری ضروریات انتخابات سے چھ ماہ پہلے مکمل ہو چکی ہوتیں مگر مسئلہ سیاسی قیادت کی نیت کا ہے اگر پنجاب اور سندھ میں انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت کو مجبور اً لوکل گورنمنٹ کے منتخب اداروں کو دفتر ،عملہ اور اختیارات دینے پڑے تو قانون میں خامیوں کی وجہ سے کئی تضادات کھل کر سامنے آئینگے ویلج کونسلون اور تحصیل کو نسلوں میں اختیارات کی رسہ کشی شروع ہو گی ڈسٹرکٹ کونسل اور نیبر ہڈ کونسلوں میں اختیارات کا ٹکر اؤ ہوگا بیور کریسی کے کام سیاسی مداخلت کی وجہ سے پی ایف سی ایوارڈ میں برے پیمانے پر گھپلے ہونگے ایک سال بعد خبر آئے گی کہ فنڈ واپس کر دئیے گئے دوسرا سال ختم ہو نے پر خبر آئیگی کہ فنڈ واپس کر دئیے گئے جس طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام کا فنڈ ہر سال واپس کئے جاتے ہیں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے نئے لوکل گورنمنٹ سسٹم کو کام کرنے دیا تو اُ س کے تضادات اور قانونی نقائص کو دور کرنے میں 5 سال لگینگے کسی بھی قانون میں اتنے تضادات اور نقائص نہیں تھے جتنے تضادات اور نقائص اس قانون کے اندر ڈال دئیے گئے ہیں پہلے سے ایک مسئلہ یہ چلا آرہا ہے کہ مارشل لاء کے دور میں لوکل گورنمنٹ سسٹم آتا ہے جمہوری دور میں سسٹم کو لپیٹ دیا جاتا ہے 12 سال یا 15معطل رہنے کے بعد لوکل گورنمنٹ سسٹم بحال ہوتا ہے تو سارا کام صفر سے شروع ہوتاہے قوانین کو سمجھنے میں 3 سال لگتے ہیں کام شروع ہوتے ہی کونسلوں کی مدت پوری ہوتی ہے اور اچھے بھلے قانون پر بھی عملدر آمد نہیں ہوتا موجودہ حالات میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور اس کے ضمیمہ جات سب تضادات سے بھرے ہوئے ہیں اس وجہ سے خیبر پختونخوا کے اندر لوکل گورنمنٹ کا مستقبل انتہائی تاریک ہے اس کی قانونی مدت کے 5 سال اختیارات کی تقسیم میں رسہ کشی کی نذر ہو جائینگے اوپر سے سیاسی مداخلت ویلیج کونسلوں اور نیبر ہُڈ کونسلوں س کو کام سے روکے رکھیگی اور عوام کو ایک بار پھر مایوسی ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں