45

چترال میں 18ستمبر سے شروع ہونے والی پولیو کے خلاف مہم کی تیاریوں کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) پولیو کے خاتمے کے لئے ضلعی سطح پر قائم کمیٹی ڈیپک کے اجلاس  میں 18ستمبر سے شروع ہونے والی پولیو کے خلاف مہم کی تیاریوں کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یوسفزئی نے کی جبکہ ڈی پی او چترال سید علی اکبر شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرار اللہ، کوارڈینیٹر ڈاکٹر ارشاد احمد، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا نمائندہ ڈاکٹر ناصر، ایڈیشنل ڈی۔ سی منہاس الدین، اے سی چترال عبدالاکرم خان موجود تھے جبکہ محکمہ صحت کے سوا کسی محکمے کا ضلعی سربراہ اس اجلاس میں پہلے کی طرح موجود نہ تھا جوکہ اس کمیٹی کا بلحاظ عہدہ ممبر ہوتا ہے۔ اس موقع پر کوارڈینیٹر ڈاکٹر ارشاد احمد نے بتایاکہ چار دن تک جاری رہنے والی اس مہم کو ضلعے کے چوبیس یونین کونسلوں میں بیک وقت چلائے جائیں گے جس کے لئے 342پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ اس کے علاوہ 9ٹرانزٹ پائنٹ اور کئی فکسڈ سنٹر قائم کئے گئے ہیں تاکہ سوفیصد ٹارگٹ بچوں تک پہنچاجاسکے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس افیسر نے اس بات پر زور دیا کہ مہم کے لئے مائکروپلان بروقت ترتیب دے کر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کئے جائیں تاکہ سیکیورٹی کے انتظام میں کوئی نقص نہ رہ جائے جبکہ اس سے قبل نامکمل مایکروپلان پولیس کو بھیجے جاتے تھے۔ انہوں نے محکمہ صحت کی طرف سے بعض یونین کونسلوں کو سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس قرار دے کر مہم کے لئے ناقابل عمل قرار دینے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے حوالے سے یہ بات سراسر غلط ہے۔ اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے نمائندے کی طرف سے کئی سوالات بھی اٹھائے گئے جن کا محکمہ صحت کے افسران تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ اس موقع پر بتایاگیا کہ جولائی کا پولیو مہم یارخون کے کئی علاقوں میں نہ چلائے گئے اور نہ بعد میں ان علاقوں میں مہم چلاکر کمی پوری کرنے کی کوشش کی گئی۔ انتظام کے لحاظ سے اس اجلاس میں یونین کونسل سطح پر قائم یوسی مانیٹرنگ افسران کی غیر حاضری کا بھی جائزہ لیا گیا اور بات پر تشویش کا اظہار کیا گیاکہ 24میں سے صرف 5یو سی ایم اوز نے اجلاس میں شرکت کی زحمت کی۔ ڈی سی چترال شہاب حامد یوسفزئی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پولیو ایک قومی ایمرجنسی ہے جس میں ہم سب کو اپنا اپنا کردار بطریق احسن ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی سرکاری اہلکارکی طرف سے کسی بھی پیمانے پر کوتاہی اور لاپروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email