178

اللہ پاک کی نعمتوں کے اسراف سے باز رہیں، خریدار خواتین اور دکانداراللہ پاک کے غضب سے نہیں بچ سکتے۔ ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین 

چترال ( محکم الدین) ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین نے چترال کے تمام مسلمانوں سے کہا ہے ۔ کہ اللہ پاک کی نعمتوں کے اسراف سے باز رہیں ۔ اللہ نے جس طرح اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیے ہیں ، اُس پر اُن کا شکر ادا کرنے کی بجائے ہم نے با لکل اُلٹ راستہ اختیار کیا ہے ۔ اورجس طرح اللہ کی نعمتوں کا اسراف کر رہے ہیں ۔ اُس کی مثال دُنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔وہ عیدالاضحی کے موقع پر ایون عید گاہ میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کر رہے تھے ۔ مولانا نے نماز پڑھائی ۔ اور خطبہ دیتے ہوئے کہا ۔ کہ ہم اسلامی اُصولوں سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اور ظلم کی انتہا یہ ہے ۔ کہ ہم اس کو خلاف اسلام قرار دینے کیلئے بھی تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جس طرح ہم کھانے اور پہنے میں اسراف سے کام لے رہے ہیں ۔ اگر یورپی ممالک اور غیر مسلم ہماری طرح اسراف سے کام لیں ۔ تو وہ دیوالیہ ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اسلام اعتدال میں زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے گذشتہ دو تین سالوں سے چترال شہر اور اطراف میں خواتین کی طرف سے بازراوں میں خریداری کیلئے آنے کے عمل کو انتہائی ناپسند قرار دیا ۔ اور مسلمانان چترال سے اسے کنٹرول کرنے میں کردار اداکرنے کی اپیل کی ۔ اور کہا ۔ کہ ایسی خریدار خواتین اور دکانداراللہ پاک کے غضب سے نہیں بچ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں خواتین کی حیا اور شرافت پورے ملک میں مسلمہ تھی ۔ ریاستی دور میں انگریز ڈاکٹر جب اپنی بیوی کے ہمراہ شاہی بازار چترال میں خریداری کیلئے آئی ۔ تو مقامی لوگوں کو یہ بات اتنی بُری لگی ۔ کہ انگریز کے اس عمل کے خلاف تمام لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ آج عالم یہ ہے ۔ کہ ہماری گھر والیاں ، بہن بیٹیاں بغیر محرم کے اور بغیر پوچھے بازاروں میں نامحرم دکانداروں سے خریداری کر رہی ہیں ۔ اور ہم اس کا احساس ہی نہیں کرتے ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا ۔ کہ جن کی حج کرنے کی استطاعت ہے ۔ وہ جوانی میں یہ فرض ادا کریں ۔ ضعیف العمری میں حج کیلئے جانا دوسرے حاجیوں کیلئے پریشانی کا سبب بنتا ہے ۔ اگرچہ ضعیف العمری میں حج پر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ سلام کی قربانی کو اسلام کی عظیم قربانی سے تعبیر کیا ۔ اور کہا ۔ کہ یہ قربانی اللہ رب العزت کو ایسی پسند آئی کہ رہتی دُنیا تک اسے زندہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ اور نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے خودبجا لایا ۔ 

Print Friendly, PDF & Email