107

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

اِس عیدِقُربان پر پتہ نہیں میرے میاں کے جی میں کیا آئی کہ اُنہوں نے ’’بَیل‘‘ قُربان کرنے کی ٹھان لی۔ ہم نے لاکھ زور مارا کہ مہنگائی بہت ہے ،بکروں چھتروں کی قیمتیں ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور آپ بیل کی قُربانی پر تُل گئے ہیں ۔ آخر اِس کی وجہ کیا ہےَ؟۔ میاں نے سگریٹ کا ایک طویل کَش لیتے ہوئے فرمایا ’’دیکھو !ایک ’’مُنہ مَتھے‘‘ لگنے والا بکرا پینتیس ،چالیس ہزار سے کم کا نہیں آتا،دو بکروں کی قیمت ہوئی ستّر ہزار۔ اتنے میں تو گائے کا اچھا بھلا بچھڑا (وَچھا)آ جاتاہے ۔ایک بکرے کی تو صرف ایک قُربانی ہوتی ہے جبکہ بَیل کی قُربانیاں سات ، پھر میں گھاٹے کاسودا کیوں کروں۔ ویسے بھی بَیل کی قُربانی سے دوسروں پر رعب شعب بھی پڑتا ہے‘‘۔ میاں کی طویل تقریر اور لایعنی توجیہہ سُن کر ہم ’’اَندرواَندری‘‘ کھول کر رہ گئے لیکن اپنے غُصے کا اظہار بھی نہ کر سکے کہ صنفِ نازک کی بھلا سُنتا ہی کون ہے۔ روسو نے تو کہا تھا ’’انسان آزاد پیدا ہوتا ہے لیکن جہاں دیکھو پابہ زنجیر ہے‘‘۔ لیکن ہم اگر روسو کی جگہ ہوتے تو کہتے ’’عورت آزاد پیدا ہوتی ہے لیکن جہاں دیکھو مرد کے پنجۂ ستم میں گرفتار ہے‘‘۔ یہ حقوقِ نسواں اور آزادئ نسواں کے نعرے تو بَس ’’دِل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ کے مصداق اور بَس ’’ایویں ای‘‘ہیں۔ بہرحال ہوا وہی جو ہمارے میاں نے چاہااور عید سے ایک دِن پہلے ہمارے گھر میں پَلاپلایا ایک خوبصورت ’’وَچھا‘‘ آگیا۔
وَچھا گھر کے لان میں باندھ کر میاں اصل مہم یعنی قصاب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ سبھی جانتے ہیں کہ عیدِ قُربان کے دِنوں میں لوہار ،ترکھان ،موچی ،تیلی ، نائی بلکہ عیسائی بھی قصائی بن جاتے ہیں ۔اِس لیے ہم نے میاں سے کہا کہ ’’اصلی تے نَسلی‘‘ قصائی ڈھونڈ کے لانا۔ جواباََ اُنہوں نے ہمیں صرف گھورنے پر اکتفا کیا اور چلے گئے ۔ اُن کی واپسی تین ،چار گھنٹے بعد ہوئی ،چہرے پر تھکن اور غصے کے مِلے جُلے تاثرات اور ماتھے کی تیوریاں ایسے جیسے کئی بَل کھاتے ،پھنکارتے ناگ۔ ہم نے پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘۔ بولے ’’بَس اب یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔یہاں ہر بندہ فراڈیا اور دوسرے کی مجبوریوں کا سودا کرنے والا ہے۔ کئی قصابوں سے ملاقات اور دوستوں سے مشاورت کے بعد ایک قصاب بمشکل پندرہ ہزار پہ راضی ہواوگرنہ بیس ،پچیس ہزار سے کم کی کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا‘‘۔ ہم نے کہا ’’چلو جو ہوا ،سو ہوا لیکن یہ بتائیں کہ کیا قصاب بَروقت آ تو جائیگا؟‘‘۔ جواب ملا ’’صبح عید کی نماز کے بعد ہمارا ’’وَچھا‘‘ ہی ذبح ہوگا؟‘‘۔ ہم نے حیرت سے پوچھا’’کیا واقعی ۔۔۔۔؟۔ کہنے لگے کہ وہ قصاب کو بیعانہ بھی دے آئے اور اُس کا موبائل نمبر بھی لے آئے ہیں۔ ہم نے سُن تو لیا لیکن اعتبار کیانہ اس کا اظہارکہ شَر پھیلنے کا خدشہ تھا البتہ دِل ہی دِل میں یہ ضرور کہا کہ
تیرے وعدے پہ جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مَر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
بقر عید کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے مولانا حضرات صبح جتنی جلدی ممکن ہو نمازِ عید سے فارغ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ وجہ شاید یہ کہ اُنہوں نے مسجد اور اُس سے ملحقہ مدرسے کے نام پہ کھالیں اکٹھی کرنی ہوتی ہیں۔ ویسے اب تو وہ کھالیں اکٹھی کرنے کے معاملے میں بھی ’’خودکفیل‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔شہر میں جگہ جگہ ’’اجتماعی قُربانی‘‘ کے بینرز آویزاں دکھائی دیتے ہیں۔ مولانا حضرات کئی کئی اونٹ اور بَیل خرید کر اجتماعی قُربانی کے ذریعے لوگوں میں ’’ثوابِ دارین‘‘تقسیم کرتے نظر آتے ہیں ۔ اب عیدِ قُربان اچھے بھلے نفع بخش کاروبار میں ڈھل چکی ہے اور صرف مولانا حضرات ہی نہیں، جگہ جگہ کھُلی گوشت کی دُکانوں اور بڑے بڑے سٹورز بھی پُرکشش ’’آفرز‘‘ کرتے ہیں،یہ الگ بات کہ اُن آفرز کا نتیجہ ہمیشہ اُلٹ ہی نکلتا ہے اور بندہ سر پیٹ کے رہ جاتا ہے۔
نمازِعیدسے فارغ ہوکر ہم قصاب کا انتظار کرنے لگے۔ جب لَگ بھگ ایک گھنٹہ گزر گیا تو ہماری پریشانی کا دَور شروع ہوا ۔میاں بھی تھوڑے تھوڑے پریشان اور پشیمان نظر آئے۔ جب دو گھنٹے گزر گئے تو اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ کہنے لگے ’’اُس ۔۔۔۔۔ کو فون کرتا ہوں کہ کہاں مَر گیا ہے‘‘۔ جب کال ملائی تو خوبصورت نسوانی آواز آئی ’’آپ کا مطلوبہ نمبر فی الحال بندہے‘‘۔ پھر وہ کال پہ کال ملاتے چلے گئے اور جواباََ وہی نسوانی آواز اُن کا مُنہ چڑاتی رہی ۔یہ سلسلہ شام چار بجے تک جاری رہااور ہمارے میاں پریشان سے زیادہ پشیمان نظر آئے کیونکہ وہ قصاب کے بَروقت آنے کا دعویٰ جو کر بیٹھے تھے۔ بالآخر شام چار بجے ’’تھا جِس کا انتظار ،وہ شاہکار آگیا‘‘۔ گھر کی گھنٹی بجی ،میاں تیزی سے باہر کی طرف لپکنے لگے تو ہم نے اُن کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کہا ’’اگر باہر قصاب ہو تو خُدارا اُس سے کچھ کہیے گا مت کیونکہ آج ہمیں اُس کی ضرورت ہے ،اُسے ہماری نہیں‘‘۔ میاں اچھا کہہ کر باہر چلے گئے اور شاید زندگی میں پہلی مرتبہ ہماری بات کا بھرم رکھتے ہوئے قصاب اور اُس کی ’’فوج‘‘ کے ہمراہ اندر آگئے۔ ہمارے تنومند ’’وچھے‘‘ نے قصابوں کی اِس فوج ظفر موج کو یوں گھور کر دیکھا جیسے اُن کی گنتی کر رہاہو۔ پھر جب اُسے ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹانے کا مرحلہ درپیش ہوا تو وہ کسی کے قابو میں آتا دکھائی نہ دیا۔ تب ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ فوج کھلاڑیوں کی نہیں ،اناڑیوں کی ہے۔ بعد از خرابئ بسیار جب وَچھے کی ٹانگوں سے رَسے لپٹ دیئے گئے تو پتہ نہیں کیسے اُس نے اپنی پچھلی ٹانگ اِس زور سے گھمائی کہ ایک ’’اناڑی‘‘ ہوا میں اچھل کر دور جا گرا۔ ہماری قربانی بیچ ہی میں لٹکتی رہ گئی اور سبھی اُس ’’مضروب‘‘ کی طرف لپکے ۔ اب کوئی اُس کے پاؤں کی مالش کر رہا تھا تو کوئی ہاتھوں کی اور کوئی اُس کے مُنہ میں پانی ٹپکاتا دکھائی دیا۔ ہمارا وَچھا دور کھڑا اپنے ’’شکار‘‘ کا بغور جائزہ لے رہا تھا اور ہمیں تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ زیرِلَب مُسکرا بھی رہا ہو۔
بات طولانی ہے لیکن مختصر یہ کہ وَچھے نے تو چھُری تلے آنا ہی تھا بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان لاکھ ٹانگیں چلائے بالآخر امریکہ کی چھری تلے آہی جاتا ہے۔ قُربانی کے بعد کھال اتارنے کا مرحلہ شروع ہوا اور ٹکڑوں میں بَٹی کھال اُترتے اُترتے ملگجا سا اندھیرا چھا گیا۔ گوشت کیسا بنا اور کِس طرح بنا ،یہ ایک الگ دردناک داستان ہے جو پھر کبھی ،البتہ گوشت بنانے کے مرحلے میں اچھی خاصی رات ہو گئی۔ اب ہمارے گیراج میں ’’گوشت کا ٹیلہ‘‘ پڑا تھا اور ہم سوچ رہے تھے کہ اِن تاریک راہوں میں قُرباوغُربا میں گوشت تقسیم کریں بھی توکیسے؟۔

Print Friendly, PDF & Email