67

عمران خان اور الیکشن کمیشن ۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

fff
کہتے ہیں اپنے مؤقف پر قائم رہنااور ڈٹ کرمقابلہ کرناوہ پالیسی ہوتی ہے جوکامیابی کے حصول کی راہ میں کلیدی کرداراداکرتی ہے اورجب مقابلہ ہوکارزارسیاست اورانتخابی اکھاڑے کا تواس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ سیاسی لیڈر وہ رہنماء ہوتے ہیں جوقوم کی قیادت کابیڑہ اٹھاتے ہیں ۔سیاسی رہنماء ہی وہ رہنماء اصول وضع کرتے ہیں جن کی پاسداری کے نتیجے میں قوم وملک ترقی وکامیابی کے منازل طے کرتے ہیں تاہم اس کے لئے ضروری ہوتاہے کہ سیاسی رہنماء قوم کو وضع کردہ اصولوں پرعمل کرنے کی تلقین سے قبل خود اس پر عمل پیراہوں مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں قومی اور سیاسی لیڈرزآئے روزخود ہی اصولوں کوتوڑتے اس کاگلاگھونٹتے اورپیروں تلے روندھتے نظرآتے ہیںیہی وجہ ہے کہ قانون وانصاف کادوہرامعیارسرچڑھ کربولتاہے اور اصولوں کی کوئی پاسداری نظرنہیں آتی۔ذکرہواصولوں اور اپنے مؤقف پر قائم رہنے کاتو اگرواقعی تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے اراکین کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کوریفرنس بھجوانے کااقدام اٹھانے کافیصلہ کیاہے تو کیایہ اقدام اس امر کو ثابت نہیں کرتا کہ عمران خان نے پھر یوٹرن لے لیاہے سراٹھا تایہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ دیکھاجائے تو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122لاہور سے متعلق 22اگست کو الیکشن ٹریبونل کاتاریخی فیصلہ جس میں مذکورہ حلقے میں دوبارہ پولنگ کرانے کاحکم دیاگیاتھاآنے کے بعد جہاں ملک کے مختلف شہروں اور بیرون ممالک مقیم پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر جشن منا رہے تھے وہاں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے چہرے پر بھی خوشی اورمسرت کے نمایاں آثاردیدنی تھے جواس امر کی واضح نشاندہی کررہے تھے کہ مذکورہ فیصلہ نہ صرف انتخابی دھاندلی سے متعلق عمران خان کے مؤقف کوتقویت بخشنے کامؤجب بن رہاتھابلکہ تحریک انصاف کی سیاست کونیاموڑدینے کا اہم ذریعہ بھی ثابت ہورہاتھاسوعمران خان اور ان کی جماعت کے کارکنان کا خوش ہونا،جشن منانا اوربھنگڑے ڈالنافطری امر تھامگراس رات لاہور میں پارٹی ورکرزکے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے الزامات عائد کرنے اور استعفیٰ مانگنے کی روایات کوبرقرار رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی اراکین سے مستعفی ہونے کامطالبہ کرتے ہوئے واضح اعلان کیاکہ اگران کامطالبہ تسلیم نہ ہواتووہ ایک اور دھرنادیں گے اور اس دفعہ ایسا دھرنادیں گے کہ لوگ پرانے دھرنوں کوبھول جائیں گے۔ انہوں نے تو کارکنان سے یہاں تک کہاتھاکہ وہ ابھی سے دھرنے کی تیاری کریں۔ اب اگرچہ پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق نے صوبائی الیکشن کمشنرز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ الیکشن کمیشن کولکھے گئے خط کا انتظارکررہے ہیں تاہم دوسری جانب میڈیاکے ذریعے موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ تحریک انصاف نے دھرنادینے کی بجائے الیکشن کمیشن کے اراکین کے خلاف آئینی اور قانونی طریقہ استعمال کرتے ہوئے کارروائی کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کوریفرنس بھیجنے کافیصلہ کیاہے ۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین نے ایک ریفرنس تیارکرکے بذریعہ کورئیرسپریم جوڈیشل کونسل کوبھجوادیاہے جس میں یہ استدعاکی گئی ہے کہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں اور کوتاہیاں کی گئی ہیں جس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے چاروں اراکین پر عائد ہوتی ہے لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کانوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اراکین کے خلاف کارروائی کرے اور انہیں نااہل قرار دے کر عہدوں سے ہٹائے۔بلاشبہ احتجاج کے لئے پرتشدد مظاہروں اور دھرنوں کی بجائے تبدیلی کی دعویدارپی ٹی آئی جیسی سیاسی جماعت کوقانونی اور آئینی راستہ اپناناچاہئے تاہم قطع نظر اس کے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے اراکین کے خلاف کارروائی کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے کافیصلہ کیاہے یاعمران خان اور ان کی جماعت مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں دھرنادینے کے اعلان پر قائم ہیں تاہم اگر پی ٹی آئی واقعی دھرنادینے کی بجائے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتی ہے یاکوئی دوسراراستہ اختیارکرتی ہے تواس سے بعض تجزیہ نگاروں اور پی ٹی آئی مخالف سیاسی جماعتوں کاوہ مؤقف درست ثابت ہوگاکہ اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتے وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں جب کہ اس سے اور ان کی جماعت کے خلاف سوشل میڈیامیں کئے جانے والے اس پروپیگنڈہ کوبھی تقویت ملے گی جس میں مختلف مواقعوں پر عمران خان سے منسوب ان کی کہی ہوئی باتوں کاذکرہوتاہے مثال کے طورپر نوازشریف استعفیٰ دیں ورنہ دھرنا ختم نہیں ہوگا۔اسٹیٹس کووالوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ہم استعفے واپس نہیں لیں گے سول نافرمانی کے تحت بجلی کابل ادانہیں کروں گامگر دھرنااپنے انجام کوپہنچااور نوازشریف بدستوروزیراعظم ہیں،پی ٹی آئی کے اسٹیٹس کووالوں سے مذاکرات بھی خوب ہوئے،استعفے بھی واپس لئے گئے جبکہ سول نافرمانی کے واضح اعلان کے باوجود بجلی کابل بھی اداکردیاگیا۔کہنے لکھنے اور بتانے کامقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اقدام اٹھانے سے اس کاقانونی پہلوپہلے دیکھناچاہئے اور آخری حد تک یہ کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی عمل ماورائے آئین وقانون نہ ہوایک ایسی جمہوری نظام کوپروان چڑھاناچاہئے جس میں فیصلے سڑکوں اور چوراہوں پر دھرنوں اور پرتشدد احتجاج کے برعکس قانون سازاداروں کے اندرآئین وقانون کے مطابق ہوں ۔اگرچہ احتجاج کرنااجتماعی یاانفرادی حیثیت میں سب کاانسانی اور جمہوری حق ہے مگرسیاسی جماعت کی حیثیت سے حکومت وقت کے خلاف احتجاج ہوتوایسانہ ہوجس میں نوجوانوں کواشتعال انگیزی کا درس اور قوم کومایوسی کاپیغام ملے جب کہ اس میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ قوم کے صحیح رہنماء مایوسی کے دلدل میں پھنسی قوم کوباہر تونکالنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں مزید دھکیلانہیں کرتے۔پی ٹی آئی کے سربراہ کو126دن کادھرنادینے جوکہ ایک تلخ تجربہ تھاکے بعد ایک اور دھرنے کااعلان کرکے قوم کومزید آزمائش سے نہیں گزارناچاہئے تھاتاہم جب اعلان کیاہے اور انہیں یقین ہے کہ جوکچھ وہ کرتے اورکہتے آرہے ہیں وہ قوم وملک کی بہتر مفاد میں ہیتوپھر اپنے مؤقف پر ڈٹے رہناچاہئے کیونکہ کہیں ایسانہ ہو کہ۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں