46

یقیناًتعلیم ، تحقیق ، مہارت اور عمل درامت ہی بہتر ین تبدیلی کے زرائع ہیں۔۔۔سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر

ماہ اگست کے چترال ٹائمز کے شمارے میں جاوید حیات صاحب کے دو آرٹیکلز با عنوان ’’ پیش بندی کا نہ ہونا ‘‘ اور ’’تعلیمی انقلاب کی پھر جادہ پیمائی ‘‘ کے بعد دیگرے پڑھ کر بہت حوصلہ ہوا ۔ چترال ٹاون کے بجلی کا مسلہ ایک حد تک ہسپتالوں، دفاتر ، عدالت اور بازار کے احاطے میں بڑے بڑے ہوٹلز میں فراہم کرنے کے بعد پورے ضلع کے دور دراز اور قرب و جوار سے چترال شہر میں آنے والوں کے بنیادی مسائل حل ہو رہے ہیں ۔ عدالتوں میں پیشی کے مرض میں مبتلا پریشان حال معزز شہریوں کے فوٹو اسٹیٹ کے مسائل ، ہسپتالوں میں اکسیڈنٹ شدہ مریضوں کے ایکسرے ، اپریشن اور ٹھنڈک ، ہوٹلوں میں ٹورسٹ مہمانوں کی اعلی خدمت شہر کے اندر بڑے بڑے جامع مساجد میں عبادت کرنے والوں اور تعلیمی اداروں اور مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں، بازار میں مشروبات کے کاروبار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے دوکاندروں کے کاروبار کو تقویت ملی ہے ۔ چترال ٹاون کے قریبی بستیوں کے باشندے بھی خواہ ملازم ہوں یا نہ ہوں، لیڈر ہوں یا عام لوگ صبح تیاری کرکے بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی ضروریات مکمل کرکے مطمئن اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یقیناًکام نہ کرنے والون کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہوتا ، جو کام کرتے ہیں انکو مشکلات تو ہونگے ان پر بات کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوگی مگر مشکلات سے گھبرا کر کام نہ کرنا بے ہمتی ہی کہی جائے گی ۔ لہذا SRSP کی مثبت کوشش قابل تحسین ہے صرف بجلی ہی نہیں SRSP کے بلا تفریق مسلک و علاقہ و نسل ضلع چترال کیلئے لواری ٹنل کے دونوں طرف انتظار گاہوں سے لیکر یارخون گولدور شندور لاہور اور دیگر مقامات پر ترقیاتی کام کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں لہذا SRSP نے اپنے آپ کو چترال کے باشندوں کا مشترکہ ملکیتی ترقیاتی ادارہ ثابت کیا ہے ۔ بہتری کی گنجائش تو رہتی ہے اور تعمیری تنقید اداروں کے مظبوط کرنے کا سبب ہوتا ہے مگر تعمیری ، فلاحی اداروں کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنا کسی طرح سے دانشمندی اور چترال کے معزز باشندوں کی خیر خواہی نہیں ، چترال میں کام کرنے والے تمام نجی غیر سرکاری اداروں نے چترال کی پسماندی دور کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں ہم ان تمام اداروں کے مشکور ہیں ۔
خاصکر سیلاب اور زلزلے میں پاک آرمی، چتراال اسکاوٹس ،سول انتظامیہ ،چترال پولیس کے جوانوں کا کردار نمایان رہا ہے ۔
’’دوسرا حصہ تعلیم اور تبدیلی ‘‘
محکمہ تعلیم کے ایک ذمہ دار ، فعال ، ادیب اور قابل استاد ابن استاد جاوید حیات صاحب کا مظمون اپنے محکمانہ فصالیت کا ترجمان اور یقیناًقابل تعریف اور تعلیم کی بہتری کیلئے بہترین رہنمائی کرتی ہیں ۔ ہم تمام ذمہ داران کو ان کی چترال کے طلبا و طالبات کو سرکاری اسکولوں میں بہتر تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی تعریف کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ مگر چند تجاویز PTI گورنمنٹ کے آخری سیشن میں عملی طور پر کرنے کیلئے پیش کرکے توقع رکھتے ہیں کہ ہماری اداز صدا بہ صحرا نہیں ہوگی۔
خا ص کر سرکاری اسکولوں میں کمروں کی کمی پرائمری اسکولوں کو قدیم اور یام سے درپیش ہے اور اساتذہ کی کمی کے ہمارے بنیادی پرائمری تعلیم کو نہایت کمزور کردیا ہے ۔ دو استاد 120 بچے چھ کلاسز 36 مضامین ایک کمرے میں دو بلیک بورڈ ، نیچے بیٹھنے کو ٹاٹ بھی میسر نہیں ، باتھ رومز ، پینے کا صاف پانی ، لیباٹری اور کھیل کا میدان% 90 اسکولوں میں میسر نہیں ان حالات کو بدلنے کیلئے PTI حکومت نے دو ارب روپے خرچ کرکے تمام سرکاری اسکولوں کے PTC کو چار ، چار دن کی ٹریننگ SRSP سے کردار کر عملی کام تعلیمی بہتری کیلئے کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ایک سوال کیا سرکاری اسکولوں کے PTC کو ان کے متعلقہ اسکولوں کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کیلئے ان کے مشترکہ اکاؤنٹ میں لازمی ضروریات کے فراہمی کیلئے دئے گئے ۔
EMIS ڈیٹا کے مطابق تمام سرکاری کے بنیاد ی ضروریات کا محکمہ تعلیم کو بخوبی علم ہے لہذا تجویز ہے کہ EMIS ڈیٹا روشنی میں اسکولوں کے مسائل حل کرنے کیلئے محکمہ تعلیم خود ہی PTC,S کے جائنٹ اکاونٹ میں ان کے لازمی ضروریات کھیل کا میدان ، ٹنجک کٹس ، تدریسی مقامات اور اساتذہ کی ٹریننگ اور جدید سائنسی ، انگریزی ، جعرافیائی ڈکشنریز اور جدید مضامین کے تدریسی مقامات اور پرانے اساتذہ کو فراہم کرنے کیلئے دئے جاتے ہیں ۔ اور مظبوط محکمانہ نگرانی کی جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email