55

سوات،دیر، گمرات،کوہستان، چترال اور جنوبی اضلاع میں ٹوارزم کے بہت زیادہ سیاحتی مراکز بن سکتے ہیں/سی ایم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مخالفین ہماری حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کی بدولت آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی ممکنہ سوئپنگ کامیابی سے پریشا ن اور بدحواس ہیں۔اُن کا رونا دھونا ، چیخنا اور پی ٹی آئی کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرناقابل فہم ہے ۔اُن کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ماضی کے حکمرانوں اور ڈاکوؤں میں کوئی فرق نہیں ۔ڈاکو لوٹ مار کرکے چلے جاتے ہیں اور حکمران بھی عوامی وسائل لوٹ کر چلے گئے۔ اُن کو عوام نے اپنے ووٹ اور نمائندگی کی امانت دی تھی۔ لیکن وہ اس امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ۔ غریب کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنا مسائل کا حل نہیں بلکہ اُن کی زندگی میں اطمینان اور خوشحالی لانا صحیح حق نمائندگی ہے۔یہ عمران خان ہی کی سوچ ہے کہ وسائل انسانوں پر خرچ کئے جائیں ۔وسائل کسی کی جیب میں نہیں جانے چاہئیں ۔چار سال قبل خیبرپختونخو امیں گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل تھا ۔سرمایہ کار اپنا سرمایہ لپیٹ کر یہاں سے نکل چکے تھے ۔ بیروزگاری کا جم غفیر اور ادارے تباہ حال تھے ۔صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت خیبرپختونخوا اپنے پاؤں پر کھڑ اہونے لگا ہے۔کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تباہ حال خیبرپختونخوا میں کبھی تعمیر نو کا عمل شروع ہو پائے گا۔ اب سرمایہ کار واپس آرہے ہیں۔ادارے ڈیلیور کر رہے ہیں۔زندگی کے معمولات بحال ہو چکے ہیں اور عوام کی زندگیوں میں خوشحالی اور اطمینان پھر سے لوٹ آیا ہے۔کالام فیسٹیول کا شاندار انعقاد ان حقائق کا عکاس ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالام فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی وزیر کھیل و سیاحت محمود خان ،وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی عبد المنعم ، ڈاکٹر امجد ، ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم، ضلعی ناظم محمد علی شاہ اوردیگر مقامی نمائندوں اور سماجی اور سیاسی شخصیات نے تقریب میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے فیسٹیول کو بدلتے ہوئے خیبرپختونخو اکا غماز قرار دیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں کھیل و سیاحت ، ثقافتی اور معاشی سرگرمیوں کے اُبھرتے ہوئے رجحان سے سیاسی ڈاکو خوفزدہ ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی ڈاکہ زنی نے ملک وقوم کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا۔ڈگڈگی بجانے والے دوبارہ پر تو ل رہے ہیں مگر عوام ان کو مسترد کردیں گے ۔کیونکہ یہ لوگ غریب کے مسائل سے چشم پوشی کرکے صریح جرائم کے مرتکب پائے گئے۔ان لٹیرے حکمرانوں کو پھر موقع ملا تو بھی لوٹ مار کریں گے ۔اسلئے عوام اُن کو اپنی نمائندگی کا دوبارہ کبھی اختیار نہیں دے گی ۔اگر ماضی کے حکمران لوگوں کی عزت نفس بحال کرتے ، لوگوں سے کئے گئے وعدے پورے کرتے، تھانہ کلچر تبدیل کرکے غریب کو انصاف دلاتے ، غریب کے بچوں کو بہترین صحت اور تعلیمی سہولیات دیتے تو عوام اُن کے ہمنوا رہتے لیکن اُن کا اُڑھنا بچھوڑنا لوٹ مار ، بدعنوانی ، اقرباء پروری اور غریبوں کے مسائل میں اضافہ کرنا تھا اسلئے وہ عوام کی نظر وں میں گرے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ہم نے خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کا مرحلہ عبور کرنا تھا تو ہمیں دہشت گردی ، اغواء برائے تاوان ، بھتہ خوری اور جرائم کا لامتناہی سلسلہ وارثت میں ملا۔ گھر سے نکلنا مشکل تھااور خود ساختہ سیاستدان اپنے اپنے بلوں میں چھپ چکے تھے لیکن اﷲ نے ہمیں اس عذاب سے نجات دی۔ہم نے ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے سرمایہ کار واپس آنے لگے ۔ بیروزگار ی کم ہوتی گئی ۔اداروں سے سیاست بازی کا خاتمہ کیا گیا۔کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا گیا۔ بدعنوانی کا خاتمہ کیا گیااور اداروں کو عوام کے کام پر لگادیا گیا ہے۔ہمارے اقدامات نے بہت فرق ڈالا۔انہوں نے کہاکہ ملک کی جو ضروریات ہیں وہ ملکی سطح پر پوری ہونی چاہئیں اور ساتھ میں عوام کے مسائل پر توجہ دینا بھی حکومتوں کاکام ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی نے ہم سے پہلے حکمرانوں سے کبھی بھی نہیں پوچھا کہ غریب کو تعلیم اور دیگر سہولیات کیوں فراہم نہیں کیں۔ پی ٹی آئی نے اسے اپنا مسئلہ سمجھ کر غریب اور امیر کے لئے یکساں تعلیمی نظام وضع کیاکیونکہ ماضی کے حکمرانوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پرائمری سکول میں دو کمرے اور دو اساتذہوں اور غریب کی تعلیم پر کوئی توجہ نہ ہو۔جب غریب اُردو میں تعلیم حاصل کرے گا اور امیر انگریزی میں تو یہ کہاں کا مقابلہ ۔ اس لئے ہم نے غریب کو بھی تعلیم کے وہی مواقع فراہم کئے تاکہ وہ جدوجہد کرے اور اس ملک کے حکمران بنیں ۔ یہی تبدیلی ہے۔جو کسی کی سمجھ نہیں آرہی ۔ پرویز خٹک نے کہاکہ سڑکیں اور گلیاں تو ہرکوئی بناتا آیا ہے ۔لوگوں نے کرپشن اور کمیشن کرکے بنائیں اور ہم نے بغیر کمیشن او ر کرپشن کے بنائیں۔ فرق صاف واضح ہے اور یہی تبدیلی ہے۔ پہلے ہسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں تھے ۔ ساڑھے تین ہزار کل ڈاکٹر تھے جس کو ہم نے ساڑھے سات ہزار تک پہنچا دیا ہے۔ معیاری تعلیم اور معیاری علاج جو ماضی میں نہیں تھا اور اب موجود ہے۔ یہ فرق ہے۔انصاف کارڈ کے ذریعے غریبوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس سال 10 لاکھ مزید صحت انصاف کارڈز تقسیم کررہے ہیں تاکہ 70 فیصد آبادی کو فری ہیلتھ کیئر کی سہولیات حاصل ہوں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت نے پولیس کے ظلم و ستم کو بھی ختم کیا۔ تھانہ کلچر کو تبدیل کیا ۔ایس ایچ او ظلم و زیادتی کا خاتمہ کیا ۔ ماضی میں یہ لوگ شتر بے مہار کی طرح غریبوں پر ظلم کرتے تھے اور جو خوانین اور عوامی نمائندے انہیں لگاتے تھے یہ لوگ اُن کی خدمت کرتے ۔ہم نے پولیس کو با اختیار کیا اور اب یہ سیاسی مداخلت سے بالکل آزاد ہے۔ اب رشوت اور لوت کھسوٹ نہیں چلے گی عوام سے ان کی کارکردگی جانچی جائے گی ۔ہم نے اداروں کو سسٹم دیا اور جومعیار پر پورا نہیں اُترے گا اُن سے اختیار ات لیکر زیادہ سخت اقدامات کریں گے ۔ہم نے حکمرانی کا حقیقی معنی متعارف کرایا ہے ۔ ہمارے نزدیک اور ہمارے سسٹم میں حکمرانی رشوت کے خاتمے ، عوام کی خدمت ، لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کے ہاتھ روکنے اور عوام کو تکالیف دینے والوں سے باز پرس کرنے کا نام ہے اور یہی حکمرانی کا اصل مفہوم ہے ۔ہم نے حکمرانی کا شفاف اسلوب متعارف کراکے نئے پاکستان کی بنیا درکھ دی ہے ۔ اس پر عمارت کھڑی ہونی ہے ۔اس مجموعی عمل کے لئے مطلوبہ قانون سازی کی گئی ہے اور تمام مطلوبہ لوازمات اور اقدامات اُٹھائے گئے ہیں تاکہ عوام گھٹن کے احساس سے آزاد ہو کر اطمینان بخش ماحول میں ترقی اور خوشحالی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔وزیراعلیٰ نے سیاحت کی ترقی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سوات اور کالام کوسیاحتی خطو ط پر بالکل اُسی طرح ترقی دیں گے جس طرح نتھیاگلی کو سیاحتی مرکز بنایا گیا ہے۔کالام پر زیادہ توجہ دیں گے ۔اس کی سڑکیں بہترین بنائیں گے کیونکہ ہم نے صوبے اور صوبے کے عوام کے مستقبل کیلئے راستے بنانے ہیں اور یہ راستے محفوظ بھی ہوں گے ۔ترقیافتہ بھی ہوں گے اور اس میں خوشحالی بھی ہوگی ۔ملک کے سب سے زیادہ سیاحتی مقامات خیبرپختونخوا میں ہیں اور پورے ملک کے لوگ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری حکومت آتے ہی ٹوارزم میں بوم پایا گیا۔اور ہم نے وسائل کی فراہمی میں بخل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہزارہ ، سوات،دیر، گمرات،کوہستان، چترال اور جنوبی اضلاع میں ٹوارزم کے بہت زیادہ سیاحتی مراکز بن سکتے ہیں۔ ہم نے اس میں انفراسٹرکچرکو ترقی دینی ہے اور سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے ترغیبی سہولیات فراہم کرنی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر ہم صرف اس صوبے پر توجہ دیں تو اس سے ہم دس گنا وسائل پیدا کر سکتے ہیں جو صوبے میں ترقی اور خوشحالی کی راہوں کا تعین کرے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک ارب 30 کروڑ کی لاگت سے کالام میں سڑکیں اعلی کوالٹی کی تعمیر کی جارہی ہیں۔ جبکہ دو مزید روڈز منظور کئے گئے ہیں جو اتھروڑ سے گبرال 62 کروڑ روپے میں مکمل ہو گی اور کالام سے مہو ڈنڈ 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو گی ۔اس کے علاوہ آئندہ برفباری کے موسم کیلئے محکمہ ٹوارزم سڑکوں کو کھلا رکھنے کیلئے مشینری خریدے گا اور ضلعی حکومت کے حوالے کرے گا اور یہ روڈ سالہا سال کھلے رہیں گے جبکہ مدین سے کالام تک کی سڑک این ایچ اے تعمیر کر رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس سڑک کو تو 2013 میں مکمل ہونا چاہیے تھا لیکن نا انصافی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت کی ایماء پر اب این ایچ اے الیکشن سے قبل اس پر کام شروع کر رہی ہے اور اس کا ٹینڈر ہو چکا ہے۔ایک ٹھیکیدار امیر مقام ہے اور دوسرا ٹھکیدار پنجاب کا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ یہ دونوں ٹھیکیدار عوام سے کتنے مخلص ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ہم اقتدار میں آئے تو کالام میں سول ہسپتال ، سول ڈسپنسری اور 9 پرائمری سکول بند تھے ۔لیکن ہم نے ان کو کھول کرتمام سہولیات بہم پہنچا دی ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ 2800 سکولوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے ان میں سے 800 سکول اپنے وسائل سے تعمیر کرلئے ہیں جبکہ اس کے لئے آئے فنڈ کی وفاق سے بازپرس ہونی چاہیئے تاکہ باقی ماندہ 2000 سکولوں کی تعمیر ممکن ہو سکے۔کالام بجلی گھر جو سیلاب کی نظر ہو چکا تھا وہ30 کروڑ روپے کی لاگت سے ایمرجنسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیرکیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو چار روپے فی ٰیونٹ سستی بجلی ملے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت صوبے بھر میں 356 پن بجلی کے چھوٹے بجلی گھر تعمیر کر رہی ہے جن میں سے 200 سے زائد مکمل ہیں اور متعلقہ کمیونٹی کے حوالے کئے جارہے ہیں ۔ہم 700 مزید تعمیر کرنے کا پلان بنا چکے ہیں اس طرح مجموعی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو جائے گی۔ان منصوبوں کی تکمیل سے مقامی آبادی سستی بجلی سے استفادہ کر سکیں گے ۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نے کالام کی مجموعی خوبصورتی کے پلان کے تحت چلڈرن پارک، فوڈ سٹریٹ ، مختلف سڑکوں اور آرام کیلئے بیٹھنے کی مختلف جگہوں کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کالام بازار کی نئی تعمیر ہونے والی سڑک کا معائنہ کیا اور وہاں پر موجود عوام کے مسائل بھی سنے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دریا کے کنارے حفاظتی پشتے تیزرفتاری سے مکمل کئے جائیں تاکہ سڑک کی توسیع ممکن ہو سکے ۔انہوں نے تجاوزات کی حوصلہ شکنی کی بھی ہدایت کی ۔ 

Print Friendly, PDF & Email