169

پی پی پی نے چترال میں دینی جماعتوں کی دو اہم وکٹیں گراکے چترال میں 2018 کیلئے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی؍اقرارالدین خسروؔ

چترال (نامہ نگار)ممتازشاعر،ادیب اورافسانہ نگاراقرارالدین خسروؔ نے اپنے ایک کالم میں چترال کے سیاسی جماعتوں پرمختصرنظرثانی کرتے ہوئے یون کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے چترال میں دینی جماعتوں کی دو اہم وکٹیں گراکے چترال میں 2018 کیلئے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی ہے۔ پی پی میں شامل ہونے والے جمعیت علماء اسلام کے اہم رہنما اور سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد اور جماعت اسلامی کے انجینئر فضل ربی ہیں۔ دونوں کے پارٹی چھوڑنے سے دونوں جماعتوں کو وقتی طور پہ تھوڑا نقصان ضرور ہوگا۔ مگر پارٹی کے نظریاتی کارکنوں پہ ان کے فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جہاں تک حاجی صاحب کا تعلق ہے وہ صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کیلئے جمعیت میں شمولیت اختیار کی تھی ورنہ نظریاتی طور پہ اسکا جمعیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جمعیت نے بھی اسے ٹکٹ نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا۔ تو سب کو علم تھا کہ حاجی صاحب چلے جائینگے۔ اور انجینئر صاحب کی پارٹی وابستگی بھی نظریاتی نہیں تھی۔ دونوں چلے گئے مگر جاتے جاتے یہ سبق دے کر گئے کہ پارٹی کا سہارا ہمیشہ نظریاتی کارکن ہی بنتے ہیں۔دوسری طرف پیپلز پارٹی ایک ایسی حقیقت ہے جسے مخالفت کے باوجود بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے اس وقت صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں پی پی کے پاس ہیں۔ آئندہ بھی ان کا مقابلہ اکیلے پارٹی نہیں کرسکتی ان کو ہرانے کیلیے جے آئی اور جے یو آئی اتحاد ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی بھی اکیلے جیتنے کی پوزیشن میں نہیں۔ آل پاکستان کو پرویز مشرف کا انتظار ہے۔ ن لیگ بھی امدادی چیک تقسیم کرنے کے باوجود اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے۔ اکیلے الیکشن لڑنے کی صورت میں صرف پی پی واحد پارٹی ہے جو اپنی نشستیں جیت سکتی ہے۔ کیونکہ سلیم خان صاحب کو ان کے ووٹرز کا پتہ ہے۔ وہ انھیں خوش رکھنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جبکہ دوسروں کو بھی گاہے بگاہے شامل کرتے رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت کا زور جلسوں کی حد تک ہے۔ جلسوں سے پی پی کو ہرانا آساں نہیں۔ سلیم خان کام کرتا ہے خاموشی سے اپنے حلقوں میں اپنے ووٹرز کو ساتھ لے کر۔ پی ٹی آئی بھی تقریباً تقسیم ہوچکی ہے۔ جے یو آئی کا بھی یہی مسئلہ ہے جبکہ جماعت اسلامی بھی اپنے کارکنوں کو ناراض کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ان سب کا فایدہ خاموشی سے پی پی حاصل کر رہی ہے۔ بلاشبہ 2018 الیکشن میں ضرور انھیں فایدہ ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ پی پی مر رہی ہے مگر فی الحال بھٹو ملک کے انتہائی جنوب میں زندہ ہے۔ اور انتہائی شمال میں بھی بھٹو زندہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email