31

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوکریں ۔۔۔ایم سرورصدیقی !

OOO کبھی غورکریں توعقل تسلیم کرنے سے انکارکردیتی ہے کہ دنیا میں ایسے عظیم مسلمان حکمران بھی ہو گذرے ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے اس پانی سے وضوکرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر آپس میں الجھ پڑیں اسلام کے ابتدائی دور میں فارس(ایران) کی حیثیت ایک سپرپاور کی سی تھی وہاں سے ایک حکومتی وفد امیرالمومنین سے ملاقات کے لئے دارالحکومت مدینہ شریف آیا انہوں نے دریافت کیا آپ کے امیر سے کہاں ملا جا سکتاہے لوگوں نے بتایا کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں ہوں گے وفد وہاں چلا گیا لیکن اتفاق سے آپ وہاں موجودنہیں تھے وفدنے ایک صحابیؓ سے پوچھا آپ کے خلیفہ کہاں ہیں؟۔ اس نے بتایا کہ فلاں جگہ امیرالمومنین آرام کررہے ہیں وفد مطلوبہ مقام پر پہنچاتو حیرت زدہ رہ گیا ۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمرِ فاروقؓ ایک درخت کے نیچے سرکے سرہائے اینٹ رکھ کر سورہے ہیں انہوں نے آپس میں کہا ان کو اپنی جان کا کوئی خوف نہیں ہمارے حکمران تو سیکورٹی کے سخت حصار میں رہتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں ہم لڑائی میں ان لوگوں سے کبھی نہیں جیت سکتے ۔ غور کریں آج ہمارے حکمران پروٹوکول کے محتاج ہیں ان کی حفاظت پر ہزاروں اہلکار معمورہیں حکمر انوں کی آمدپر سڑکیں بازار بندکردئیے جاتے ہیں پھر بھی انہیں اپنی جان کا خوف لاحق ہے ا۔ نبیئ اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں جن 10 افراد کو جنت کی بشارت دی ان میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ بھی شامل ہیں اس سے ان کی فضیلت و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتاہے انہی حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کو دوسرے خلیفۃ المسلمین حضرت عمرِ فاروقؓ نے اپنے دور حکومت میں دمشق(موجودہ ملک شام) کا گورنر مقرر کیا تھا ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ نے شام کا دورہ کیا تو گورنر حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے ان کا شہرکے آخری کنارے استقبال کیا وہ ہستی جس کی ہیبت سے دنیا بھر کے کفارپر دہشت طاری تھی ان کے پروٹوکول کے لئے کوئی انتظام نہ تھا خلیفہ گھوڑے سے اترے گورنران کے منتظر تھے دونوں گرم جوشی سے بغلگیرہوئے دونوں باتیں کرتے ایک ساتھ لے کر شہر میں داخل ہوئے۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمرِ فاروقؓ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ سے کہا میں سب سے پہلے آپ کے گھر جانا چاہتاہوں انہوں نے نفی میں سرہلاکر کہا میں آپ ہمارے فوجی انتظامات کا جائزہ لے لیں اور اس کی بہتری کے لئے مشورہ دیں حضرت عمرِ فاروقؓ نے کہا میں تو سب سے پہلے آپ کے گھرجانا چاہتاہوں۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کا انکار اورسیدنا عمرِ فاروقؓ کا اصرار بڑھتا چلا گیا گورنرنے التجاکی آپ میرے گھر نہ جائیں وہاں حسرتوں کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ سیدنا عمرِ فاروقؓ نے مسکراکر کہا میں تو آپ کے گھر جاکر کچھ دیر آرام کرنا چاہتاہوں۔ناچار اس نے کہنا مانتے ہوئے گھوڑوں کا رخ اپنے گھر (گورنرہاؤس)کی جانب موڑدیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے وہاں جاکر خلیفہ کی حیرت سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی حضرت عمرفاروقؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے انہوں نے بے ساختہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی طرف دیکھا اور بے تابی سے انہیں گلے لگا کر رونے لگ گئے ان کے گھر (اس وقت کے گورنرہاؤس) میں ایک بوریا ایک لوٹا ایک مشکیزہ ،چند برتن اور کچھ کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔خلیفہ نے اس وقت جو الفاظ بولے وہ تاریخ بن گئے انہوں نے کہا تھا وقت نے ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کے سوا سب کو بدل ڈالا کاش دوسرے بھی ان سے کچھ سیکھ سکیں۔ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کے گورنرہاؤس ایکڑوں اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں جو عام آدمی کی رسائی سے باہرہے یہ اشرافیہ کی حکمرانی کی بدترین مثال ہے بدقسمتی سے ہرحکمران نے ایوانِ صدر، وزیرِ اعلی ہاؤس، وزیرِ اعظم ہاؤس اور گورنرہاؤس جیسی عمارت کو ہیبت ناک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا لاہورمیں واقع گورنرہاؤس چندسال پہلے شملہ پہاڑی کی طرف بیت المال کے دفاترمیں آسانی سے داخلہ ممکن تھا اور گیٹ تک جگہ اوپن تھی اب سڑک سے ہی اسے نو گوز ایریا بنادیا گیا ہے اب تو وہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی عام آدمی تو حکمرانوں کے محلات، بڑی بڑی سرکاری عمارات کے اندر کسی درخت کو بھی نہیں دیکھ سکتا پھر بھی کہا جا تاہے کہ ملک میں جمہوریت ہے ۔سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو کون نہیں جانتا آج بھی دنیا بھر کے عیسائی ان سے شدید نفرت کرتے ہیں اسلام کے عظیم جرنیل،فاتحِ بیت لمقدس، فلسطین،شام، مصر، اردن اور لبنان کا جب وصال ہوا تو ان کی تدفین کے لئے قرض لے کر انتظام کیا گیا جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے اثاثوں کا حساب کتاب لگایا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ بکتر،ایک دینار اور36درہم کے سوا کچھ نہ تھا اور وہاں پر موجود شخصیات کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اسلامی تاریخ کا یہ عظیم حکمران شدید خواہش کے باوجود حج کے لئے نہ جا سکا کہ ان کے پاس وسائل ہی نہ تھے ایک مرتبہ ایک سردارنے حج کے لئے زادِ راہ دینے کی پیش کش کی لیکن سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے کہا میں اپنے ذاتی وسائل سے حج کرنا چاہتاہوں۔۔اس کے برعکس۔ آج کے حکمرانوں نے پورے ملک کو اپنی جاگیر شمجھ رکھاہے غیرملکی دوروں کے دوران جہازبھربھرکر اپنے عزیزواقارب اور سیاسی ہم نواؤں اور صحافیوں کو لے جانا معمول ہے خوشامدی لوگوں کو مختلف قومی اداروں کا چیئر مین بنانا بھی ان کی سیاست ہے ایک غریب ملک کی معیشت پر اتناظلم کرتے ہوئے ان کو ذرا خداکا خوف نہیں آتا ایسے حکمرانوں پر تو مالِ مفت دل بے رحم کا مقولہ صادق آتاہے یہ اپنے عظیم اسلاف کی درخشندہ روایات سے بھی کچھ نہیں سیکھنا چاہتے ہمارے حکمرانوں کو حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کی وہ مثال یاد نہیں کیا جب رات کے وقت وہ کوئی سرکاری کام کررہے تھے ایک شخص ان سے اپنے کسی ذاتی کام کی غرض سے ملنے چلا آیا انہوں نے اسے انتظارکرنے کہ کہا پھر جب اسے بلایا توجلتی شمع(فانوس) گل کردیا اس شخص نے حیرت سے دریافت کیا آپ نے شمع کیوں بجھا دی؟۔ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کا جواب تاریخ بن گیا انہوں نے کہا ذاتی کام کیلئے سرکاری وسائل استعمال کرنا میں گناہ سمجھتاہوں ہمارے حکمران دوسرے خلیفہ حضرت عمرِؓ فاروق کا قول بھی بھول گئے انہوں نے کہا تھا دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مرجائے تو قیامت کے روز عمر اللہ کے حضور جوابدہ ہوگا دنیا بھرکے آئین،قانون اور منشور اٹھاکردیکھ لیجئے انسانیت کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی نہیں سوچ سکتا۔بلاشبہ کبھی غورکریں توعقل تسلیم کرنے سے انکارکردیتی ہے کہ دنیا میں ایسے عظیم مسلمان حکمران بھی ہو گذرے ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے اس پانی سے وضوکرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر آپس میں الجھ پڑیں ۔ وہ اتنے عظیم حکمران تھے اور آج ہمارے حکمرانوں پرکیا تبصرہ کریں بس جانے ہی دیں زیادہ باتیں کرنے سے دل دکھتاہے۔

Print Friendly, PDF & Email