تازہ ترین
Home >> مضامین >> پیپلز پارٹی کی انتخابی تیاری۔۔۔ تحریر : محکم الدین ایونی
Qashqar Lab

پیپلز پارٹی کی انتخابی تیاری۔۔۔ تحریر : محکم الدین ایونی

چترال کے معروف کاروباری شخصیت و سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد اور معروف چترالی صنعت کار انجینئر فضل ربی اپنی اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں ۔ شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی موجودگی میں ایک شمولیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں دونوں نے باضاطہ طور پر پارٹی میں شامل ہو نے کا اعلان کیا ۔ شریک چیئرمین نے اُنہیں ہار پہنایا ۔ اور پارٹی میں شامل ہونے پر اُنہیں خوش آمدید کہا ۔ یو ں یہ دونوں سیاسی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے ۔ یہ ایک با ضابطہ پروگرام تھا ۔ جس میں پی پی پی چترال کی کابینہ بھی موجود تھی ۔ سابق ایم پی اے حاجی غلام محمد پی پی پی میں شمولیت سے پہلے جمعیت العلماء اسلام سے وابستہ تھے ۔ لیکن اُن کی اس پار ٹی سے وابستگی غیر فطری دیکھائی دیتی تھی ۔ گذشتہ چند مہینوں سے اُن کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبریں گشت کر رہی تھیں جو کہ بالاخر سچ ثابت ہوئیں ۔ اُن کے مقابلے میں انجینئر فضل ربی کا جماعت اسلامی سے ناطہ توڑ نا کافی عجلت میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اپنی دیرینہ رفاقت انتہائی جذباتی انداز میں ختم کرنے سے یہ ظاہر ہو تاہے ۔ کہ جماعت اسلامی کے ساتھ اُن کے چلنے کے راستے مسدود کر دیے گئے تھے اور الیکشن 2018کے امیدواروں کی نامزدگی سے متعلق اختلافات اتنے ناقابل برداشت تھے ۔ کہ اُنہیں اپنا راستہ مکمل طور پر جدا کرنا پڑا ۔ جس کا انہوں نے یہ کہ کر اظہار کیا ۔ کہ جماعت اسلامی بروز اور جغور کے دو خاندانوں کے مابین رسہ کشی کا شکار ہے ۔ یہ نہیں معلوم کہ بروز سے جغور منتقل ہونے کے بعد جغور میں اُس کا قیام کتنے سالوں پر محیط ہو گا ۔ اسلئے اس جماعت میں امیداوار کے طور پر سوچنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ۔ اس سے بہتر ہے کہ اپنا راستہ ہی جدا کردیا جائے ۔ یوں ان کویہ کٹھن فیصلہ کرنا پڑا ۔ دونوں رہنماؤں کی نئی پارٹی میں شمولیت سے یہ اندازہ ہوتا ہے ۔ کہ انہوں نے پی پی پی کی چترال قیادت کے ساتھ معاملات پہلے سے ہی طے کر لئے ہیں۔ گو کہ پارٹی ٹکٹ کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ لیکن یہ بات یقین کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ کہ اگر پی پی پی کی طرف سے اُن کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے معاملات طے نہیں پا گئے ہیں ۔ تو پھر ان دونوں کو اپنی پارٹی چھوڑ کر ایک کارکن کی حیثیت سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ جہاں تک ذرائع سے معلومات حاصل ہوئی ہیں ،پی پی پی کی قیادت کی طرف سے آنے والے الیکشن کیلئے دونوں کو ٹکٹ کی آفر کی گئی ہے ۔ جس کے بعد ہی وہ پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اگرچہ سابق ایم پی اے غلام محمد کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے ۔ کہ انہوں نے بلا کسی شرط کے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اگر حاجی غلام محمد اور انجینئر فضل ربی کیلئے پارٹی کے دروازے وا کرنے کی حکمت عملی کی ہے۔ تو انہوں نے یقیناًالیکشن کیلئے دانشمندی سے کام لیا ہے ۔ کیونکہ چترال ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ضلع ہے ۔ جس کے انتخابات پر بھاری اخراجات اُٹھتے ہیں ۔ ان اخراجات کو برداشت کرنے کیلئے مالی وسائل کے حامل عوام کیلئے قابل قبول امیدوار ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں ۔ شمولیت کرنے والے ان رہنما ؤں کو پارٹی کے سو فیصد کارکنان کی طرف سے ا بتدائی طور پر قبول کرنے کا شرف توحاصل نہیں ہو گا ۔ جس کا اظہار خود کارکنان نے کسی حد تک گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں کر دیا ہے ۔ لیکن پارٹی کے بہت کم لوگوں کو اس بات کا ندازہ ہے کہ الیکشن کی گیم صرف پرانا کارکن ہونے کے اعزاز کے ساتھ نہیں جیتی جا سکتی ۔ اس کیلئے بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہے ۔ اس کے جلسے جلوسوں ، کارنر میٹنگز، گاڑیوں کے اخراجات اور ورکر ز و پولنگ ایجنٹ تک کو بھی چائے پانی کیلئے کچھ دینا پڑتا ہے ۔ جو کہ عام جان نثار کارکن امیدوار کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے ۔ کہ پی پی پی کی ضلعی قیادت اس بات کو بہت بہتر طور پر سمجھتی ہے ۔ اور انہوں نے ان دونوں رہنماؤں کو پارٹی میں جگہ دینے کا فیصلہ بھی اس لئے کیا ہے ۔ کہ ان امیدواروں میں یہ استطاعت موجود ہے ۔ کہ وہ یہ اخراجات برداشت کرسکیں ۔ حاجی غلام محمد اپر چترال میں مقبول شخصیت ہیں ۔ اُن کی تمام طبقۂ فکر کے لوگوں سے قریبی مراسم ہیں ۔ جبکہ اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک وسیع ووٹ بینک بھی موجود ہے ۔ جس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے ۔ کہ حاجی غلام محمد بطور صوبائی امیدوار الیکشن میں حصہ لینے کی صورت میں مد مقابل امیدواروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔جبکہ اس کے مقابلے میں موجودہ ایم پی اے سید سردار حسین کی پوزیشن بہت کمزور ہے ۔ گذشتہ الیکشن میں حاجی غلام محمد کے مقابلے میں طویل عدالتی جدو جہد کے بعد جب سید سردار حسین کامیاب ہوئے ۔ تو لوگوں کی اُن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں ۔لیکن کامیابی کے بعد لوگوں سے روابط نہ رکھنے کی بنا پر عوام کے ایک بڑے حلقے کی توقعات پر پورا نہ اُتر سکے ۔ یوں اُن کی پوزیشن پہلے کی نسبت کمزور دیکھائی دیتی ہے ۔اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے ۔ کہ 2018کے الیکشن کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے حاجی غلام محمد صوبائی اسمبلی کے ممکنہ امیدوار ہوں گے ۔ اسی طرح سیاسی تجزیہ نگاروں کے ایک حلقے کے مطابق انجینئر فضل ربی بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہو سکتے ہیں ۔ وہ جماعت اسلامی سے حادثاتی طور پر وابستہ تھے ۔ کیونکہ اُن کے خاندان کے زیادہ تر لوگ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اب اُن کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کو ” صبح کا بھولا شام کو گھر آئے “کے مصداق ہی کہا جا سکتا ہے ۔ جماعت اسلامی سے اختلاف کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت سے پہلے انہوں نے پورے چترال کا دورہ کرکے اس بات کا اندازہ لگایا ہے ۔ کہ اگر پی پی پی میں اُن کی شمولیت ممکن ہوئی اور بطور امیدوار انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔ تو اُن کی کس حد تک سپورٹ ہو سکتی ہے ۔ وہ اپنے دورے کے بعد بہت پُراُمید و پُر اعتماد ہیں ۔ اور اسی عوامی اعتماد نے اُس کی پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
حاجی غلام محمد اور انجینئر فضل ربی کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کے حجم اور طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا غیر جانبدار تجزیہ کرنے والے افراد واضح طور پر محسوس کرتے ہیں ۔ اور یہ کریڈٹ یقینی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سلیم خان اور تحصیل مستوج کے صدر امیراللہ کو جاتا ہے ۔ جنہوں نے انتخابات سے قبل ہی انتخابی سمت کا صحیح تعین کیا ہے ۔ اور پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط قوت کے طور پر انتخابات کیلئے تیا ر کر لیا ہے ۔ لیکن ان دونوں رہنماؤں کی پارٹی میں شمولیت کے بعد اُن کے امتحان کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ جن میں سابق ایم پی اے غلام محمد اور انجینئر فضل ربی کو پیپلز پارٹی کے اُن رہنماؤں اور کارکنوں کیلئے قابل قبول بنانا شامل ہے جو گذشتہ دو تین دہائیوں سے انتخابات کے موقع پر اختلافات پیدا کرکے پیپلز پارٹی کیلئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں ۔

error: Content is protected !!