تازہ ترین
Home >> مضامین >> قبل ازوقت انتخابات مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ
Qashqar Lab

قبل ازوقت انتخابات مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیراعظم نوازشریف عدالت کی جانب سے نااہل اوران کی جگہ شاہد خاقان عباسی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوجانے کے باوجود ملک میں اقتدارکی باگ ڈوراب بھی مسلم لیگ نواز کے ہاتھ میں ہے اس لحاظ سے دیکھاجائے توبحیثیت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم نوازشریف جوکہ درحقیقت پارٹی کے سربراہ ہیں کی پالیسیوں کوآگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اوران کاحکومتی ایجنڈاوہی ہوگاجونوازشریف کاایجنڈاہے جس پر وہ اب تک کاربند رہتے دکھائی دے ہیں لیکن تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی پالیسیاں سمجھ سے بالاتر ہیں کیونکہ انہوں نے 24 ستمبر کو بنی گالہ میں شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہاں دیگر معاملات پر گفتگوکی کہ اسحاق ڈارنے ملکی معیشت کوتباہ کردیاہے ان کانام اے سی ایل میں ڈالاجائے،خورشید شاہ کواپوزیشن لیڈر نہیں ہوناچاہئے ،فاٹاکو فوری ضم ہوناچاہئے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی سکینڈل کادھبہ ہے وہیں انہوں نے ملک میں فوری نئے انتخابات کرانے کابھی مطالبہ کیاہے،اپوزیشن لیڈر، وزیراعظم اوروزیرخزانہ پر تنقید،فاٹا کے معاملات پر پارٹی پالیسی بیان کرنادرست ہے لیکن اب جبکہ موجودہ حکومت کے پارلیمانی مدت پواراہونے میں محض چند مہینوں کاوقت رہ گیاہے دوسری جانب نوازشریف کے نااہل ہونے پر وزیراعظم کی تبدیلی کے عمل سے جہاں نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب سے محروم ہوگئے وہیں نیب اور دیگر عدالتی مقدمات ،پارٹی قیادت کے لئے جاری رسہ کشی اورنوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازکی علالت جیسے معاملات نے نوازشریف اوران کے بچوں کوغیرمعمولی مشکلات سے دوچارکردیاہے ایسے میں عمران خان اورنوازلیگ مخالف جماعتوں کے لئے اچھا موقع ہے کہ قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ کرنے کی بجائے بقیہ پارلیمانی مدت میں حکومتی غلطیوں اور کمزوریوں پر نظررکھتے ہوئے اس سے خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اورچاہئے تو یہ تھاکہ اپنے سیاسی حریف نون لیگ کے ساتھ وہی کھیل کھیلتے جونون لیگ نے 2013میں خیبرپختونخوامیں حکومت بنانے کے لئے کسی مہم جوئی کی بجائے پی ٹی آئی کو حکومت سازی کاموقع دے کر کھیلاتھا، سیاسی دانشورکہتے ہیں کہ 2013میں خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے اورنیاخیبرپختونخوابنانے کانعرہ لگانے کے بعد عمران خان کوشہر قتدار اسلام آباد میں 126 دنوں کا دھرنانہیں دیناچاہئے تھا، پنجاب میں جلسوں سمیت عدالتی الیکشن کمیش اورعدالتی معاملات میں الجھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی بس انہیں صوبے کی طرز حکمرانی پر نظررکھ کر صوبے میں انتظامی اورترقیاتی امور پر توجہ دینی چاہئے تھی مگر وہ ایسا نہیں کرپائے کیونکہ دھرنوں ، جلسوں اور عدالتی معاملات میں پھنس کر ان کی ترجیحات کچھ اوررہیں جس کے باعث وہ خیبرپختونخواکے حکومتی معاملات دیکھنے اورعوامی مسائل ومشکلات حل کرنے پر توجہ دینے کاموقع ضائع کرگئے،سیاسی دانشوروں کے مطابق اگر عمران خان خوشحال اور ترقیافتہ نیا خیبرپختونخوابنانے میں کامیاب ہوتے تواگلے الیکشن میں انہیں نہ صرف خیبرپختونخوابلکہ پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بھی انتخابی مہم چلانے کی زیادہ مشقت نہ کرنی پڑتی،اب جبکہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان ملک میں قبل ازوقت انتخابات کامطالبہ کررہے ہیں تو عمران خان کی پالیسی کیاہے اور کس کے ایجنڈے پر عمل پیراہیں سیاسی فہم وفراست رکھنے والے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہونے کے باوجود نوازشریف کواس حقیقت کا مکمل احساس وادراک ہے کہ اقتداران کے ہاتھ سے چلاگیاہے اوراگرچہ شاہد خاقان عباسی بظاہر ان کے انتہائی پراعتمادساتھی ہیں لیکن اگران کی حکومتی پالیسیاں کمزوررہیں تواس کااگلے الیکشن میں نون لیگ خاصانقصان اٹھاسکتی ہے جس کابراہ راست اثرنوازشریف اوران کے خاندان پر ہوگا اور جائزہ لیاجائے تو شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے حکومت اور نون لیگ کے کردارپر سوالیہ نشان کھڑاکردیاہے ایسے میں ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق حکومت ختم اور قبل ازوقت نئے انتخابات کرانے کی کوشش تو نوازشریف کو کرنی چاہئے تھی جبکہ وزارت عظمیٰ کے منصب سے الگ ہونے کے بعد اپنے ہی ہاتھوں پارلیمنٹ کی چھٹی کراناان کی سیاسی موت ثابت ہوسکتی تھی وہ شائد اس حقیقت سے آشناتھے اس لئے ایسی کسی بھی مہم جوئی کی بجائے انہوں نے شاہد خاقان عباسی کوروزیراعظم بناکران ہاؤس چینج پر اکتفاء کیا تاہم ایساکسی اورکی طرف سے ہوجس سے انہیں سیاسی شہادت ملے یہ نوازشریف اوران کی جماعت کی خواہش ہوسکتی ہے اوران کی یہ خواہش تب پوری ہوگی جب سیاسی جماعتوں کے مطالبے پرنئے انتخابات کے لئے ان کی حکومت کاخاتمہ ہو،ایسے میں اٹھتاسوال یہ ہے کہ حالات نوازشریف کاساتھ نہیں دے رہے اورحکومت ختم کرانے کی خواہش رکھنے کے باوجود وہ ایساکرنے سے قاصر ہیں ان وجود رکھتے حقائق کے باوجود قابل ازوقت انتخابات کرانے کامطالبہ کرکے کیاعمران خان نوازشریف کے سیاسی شہید بننے کی خواہش پوری کررہے ہیں،دوسری جانب کل تک عمران خان پیپلزپارٹی پر فرینڈلی اپوزیشن اورنون لیگ کے ساتھ مک مکاکاالزام لگاتے تھے مگر آج پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ہر ایکشن نے نوازشریف کومضبوط کیا،قبل ازوقت انتخابات کامطالبہ لے کر عمران خان سیاسی تنہائی کے بھی شکاردکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی جو خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے سمیت عوامی نیشنل پارٹی،پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں عمران خان کے اس اقدام کو حیراں کن قراردے رہے ہیں اور ان کامؤقف ہے کہ ایساکرنانوازشریف اوران کی جماعت کوسیاسی شہادت دیناہے،عمران خان کی جانب سے حکومت پرکمزورطرزحکمرانی،مالی بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کے الزامات درست مگر قبل ازوقت انتخابات کامطالبہ کرناسمجھ سے بالاتر ہے ۔

error: Content is protected !!