تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ
Qashqar Lab
OLYMPUS DIGITAL CAMERA

خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ

پشاور(نیوزبائی نوائے وقت)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ صوبے بھر میں کرش مشینوں کیلئے مروجہ قوانین اور قوائد و ضوابط حقیقت پسند بنانے اور سرکاری افسران کو یکساں ایگزیکٹیو الاونس دینے کے لئے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایسے اضلاع اور علاقے جہاں مقامی حکومت کے انتخابات نہ ہوئے ہوں یا کسی وجہ سے مقامی حکومتوں کا نظام غیر فعال ہو وہاں کے ترقیاتی فنڈزکو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے شفاف استعمال کی منظوری دی جبکہ ایک سب کمیٹی ضلعی ،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر حکومت کی طرف سے منظور شدہ فارمولے کے تحت مختلف شعبوں کے لئے دیئے گئے فنڈ زکے انہی شعبوں میں شفاف استعمال کے لئے سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک سب کمیٹی کی منظوری دی۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران صوبے بھر میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے ایسے تمام کنٹریکٹ ملازمین کی تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان کومستقل کرنے کے لئے طریق کار وضع کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہونے جا رہی ہے۔ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدے ہو چکے ہیں جو عملی شکل میں گراو¿نڈ پر آنے والے ہیں جب ترقیاتی عمل شروع ہو گا تو اسکے لئے مقامی طور پر دستیاب میٹریل کا استعمال بھی تیز تر اور بڑے پیمانے پر شروع ہو جائے گا۔تاہم یہ ترقیاتی عمل انسان دوست اور ماحول دوست بنانے کے لئے بنیادی نوعیت کے قوائد و ضوابط کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ ترقی کا عمل حقیقت پسند اور دیرپا ہو۔انہوں نے ترقیاتی عمل کو سہل اور دیرپا بنانے کے لئے سفارشات مانگی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی فیصلہ سازی دیرپا ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی ترقی میں تمام شراکت دار پوری نیک نیتی سے حصہ لیں۔ وزیر اعلیٰ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ترمیمی ایکٹ2014کی کابینہ سے منظوری کو سی پیک کے تناظر میں ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ انکی حکومت سی پیک پراجیکٹس کو عملی طور پر مستقبل قریب میں دیکھ رہی ہے۔حکومت نہ صرف سرمایہ کاری کے لئے موزوں ماحول فراہم کرچکی ہے بلکہ پہلے سے ہی پالیسی کے رہنما اُصول وضع کر چکی ہے جن میں پر کشش مراعات اور آسان طریقہ کار موجود ہے اور اس کو قانونی شکل دینا ضروری سوچا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے پاور کرشنگ کے قوانین کو حقیقت پسند بنانے، سرکاری افسران کے لئے ایگزیکٹیو الاو¿نس اور مقامی حکومتوں کے تحت مختلف شعبوں کے لئے مختص شدہ وسائل کی انہی شعبوں میں شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لئے مختلف سب کمیٹیوں سے جلد ازجلد سفارشات وضع کرنے کی ہدایت کی۔ایگزیکٹیو الاﺅنس کیلئے ایک منصفانہ اور یکساں پیمانہ ہونا چاہیئے اس عمل میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہیئے حکومت سب کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حقیقت پسندانہ اور منصفانہ فیصلہ کرے گی ۔ تاہم انہوںنے ایسے اضلاع اور علاقے جہاں مقامی حکومت کا نظام یا تو الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے اور یا کسی اور وجہ سے نہ ہو کیلئے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے موجود طریقہ کارکے تحت وسائل کو ترقیاتی عمل میں خرچ کرنے کی ہدایت کی ۔انہوںنے کہاکہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے ثمرات پہنچنا ضروری ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے ریٹائرہونے والے چیف سیکرٹری عابد سعید کی گراں قدر خدمات پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا۔انہوںنے اپنا دور انتہائی ایمانداری اور دوستانہ طریقے سے گزارااور اپنے سرکاری فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔اُن کا دور صوبے کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہونے والے چیف سیکرٹری نے کہاکہ وزیراعلیٰ کی رہنمائی میں انہوںنے صوبے کی خدمت میں اخلاص سے اپنا حصہ ڈالا۔صوبے کے لوگ انتہائی خوش دلی اور محبت کے ساتھ پیش آئے اور یہ گزرا ہوا وقت میرے لئے سرمایہ ہے ۔

error: Content is protected !!