تازہ ترین
Home >> خواتین کا صفحہ >> بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر
Qashqar Lab

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

لگ بھگ تین عشرے قبل روشنیوں کے شہر کراچی پر ایک عذاب نازل ہوا جس کا نام ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ تھا جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ میں ڈھلی۔ آجکل اُسی کا نام’’ ایم کیو ایم پاکستان‘‘ ہے، لیکن چہرے وہی جن کے دامن بے گناہوں کے خونِ ناحق سے آلودہ ۔ حیرت ہے کہ صرف لندن میں بیٹھے ڈان الطاف حسین سے علیحدگی کے اعلان نے ایم کیو ایم پاکستان کے سارے گناہ ایسے دھو ڈالے جیسے اُس سے کبھی کوئی گناہ سَرزد ہی نہیں ہوا۔بُزدِل الطاف حسین 1992ء میں رات کے اندھیرے میں پاکستان سے فرار ہو کر لندن جا پہنچااور پھر وہیں بیٹھ کر ایم کیو ایم کو کنٹرول کرنے لگا۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دِن آڈیو/ ویڈیو کال پر اپنے کارندوں کو خطاب کرتا اور یہی ایم کیو ایم پاکستان نامی کارندے اُس کی وائی تبائی بکنے پر تحسین کے ڈونگرے برساتے۔ ایم کیو ایم کو اُس وقت تک کسی نے کچھ نہیں کہا جب تک اُس نے پاکستان کے خلاف ’’بکواس‘‘ شروع نہیں کی۔ جب اُس غدارِوطن نے اپنی ہی دھرتی ماں کو گالی دینا شروع کی اور پاکستان میں بیٹھے اُس کے ہرکاروں کو پکڑ دھکڑ کا خطرہ محسوس ہونے لگا تو اُنہوں نے الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
ماضی میں کپتان ایم کیو ایم کے شدید مخالفین میں سے تھے اور ایک بار تو وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوتوں کا بیگ بھر کر لندن بھی گئے تھے لیکن ’’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘‘ ،آج وہی کپتان اُسی ایم کیو ایم کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں ہیں کیونکہ اُنہیں قائدِحزبِ اختلاف سیّد خورشید شاہ کی جگہ اپنا بندہ چاہیے۔وہ 2018ء کے انتخابات سے پہلے اپنا قائدِحزبِ اختلاف لا کر چیئرمین نیب کی تقرری اور نگران حکومتوں کی تشکیل پر نوازلیگ سے ’’ پھڈا‘‘ ڈالنے کے موڈ میں ہیں۔ تحریکِ انصاف کے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ایک وفد ڈاکٹر فاروق ستّار سے ملا اور دونوں جماعتوں میں نیا اپوزیشن لیڈر لانے پر اتفاق ہوگیا۔ اب قائدِحزبِ اختلاف کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ کپتان سے سوال ہے کہ وہ جس ایم کیو ایم سے ووٹوں کی بھیک مانگنے نکلے ہیں ،کیا اُس کے دامن پہ کوئی داغ نہیں؟۔ کیا یہ وہی ایم کیو ایم نہیں جو کل تک بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہی؟۔ کیا ’’پرچی مافیا‘‘ اِسی ایم کیو ایم کا نام نہیں؟۔ جس گروہ نے عروس البلاد کراچی کو خونم خون کر دیا، کل تک جس کے خوف سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کانپتا تھا اور کسی میں اُس کے خلاف قلم اٹھانے یا بات کرنے کی جرأت نہیں تھی ،آج کسی کو اُس کا آلودہ دامن کیوں نظر نہیں آتا؟۔ ’’پاک صاف‘‘ متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ
دامن پہ کوئی چھینٹ ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
صرف کپتان ہی کیا ،اِس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔ پیپلزپارٹی اپنے دَورِ حکومت میں مفاہمت کے نام پر اِسی جماعت کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی۔ ایم کیو ایم روٹھتی رہی اور پیپلزپارٹی کے وزیرِداخلہ رحمٰن ملک لندن یاترا کرکے’’ الطاف بھائی‘‘ کے حضور زانوئے تلمذ تہ کرتے رہے ۔ نوازلیگ کو اپنے وزارتِ عظمیٰ کے اُمیدوار شاہد خاقان عباسی کے لیے اِسی جماعت کے ووٹوں کی بھیک درکار تھی حالانکہ اگر ایم کیو ایم مخالفت بھی کرتی تو پھر بھی شاہد خاقان عباسی اچھی خاصی برتری سے کامیاب ہو جاتے ۔ آج کپتان کو بھی اپنا قائدِ حزبِ اختلاف لانے کے لیے اُسی ایم کیو ایم کے ووٹ درکار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حبِِّ علیؓ نہیں ،بغضِ معاویہؓ ہے۔ یقیناََ کپتان کو ایم کیو ایم پاکستان سے آج بھی اُتنی ہی نفرت ہو گی جتنی پہلے تھی لیکن چونکہ وہ بہرصورت نوازلیگ خصوصاََ ’’شریف برادران‘‘ کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں اِسی لیے وہ بار بار یو ٹرن لیتے رہتے ہیں۔ یہ تازہ ترین یو ٹرن بھی اُسی کھیل کا حصّہ ہے جسے جیتنے کے لیے عمران خاں ایک حد تک نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
صرف کپتان ہی نہیں ،بڑے بڑے ’’بزرجمہروں‘‘ کا بھی خیال تھا کہ میاں نوازشریف قصّۂ پارینہ بن چکے اور اب شریف فیملی کی ’’داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘ لیکن میاں صاحب نے واپسی کا ’’کھڑاک‘‘ کر دیا۔ کپتان کے کانوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری اوراُنہوں نے فوراََ ہی یوٹرن لیتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ حالانکہ اِس سے پہلے وہ بار بار یہ کہہ چکے تھے کہ نوازلیگ اپنی جماعت میں سے کسی کو بھی وزیرِاعظم منتخب کر لے ،اُنہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی تو محض ’’ڈَمی‘‘ ہے اور اصل وزارتِ عظمیٰ تو اب بھی نوازشریف کے پاس ہے۔ میاں صاحب جہاں بھی جاتے ہیں ،شاہد خاقان عباسی اُن کے دَرِ دولت پر حاضری دینے پہنچ جاتے ہیں ۔ اِس لیے اب نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عمران خاں کے اِس مطالبے کو ’’سُسرالی ایجنڈا‘‘ قرار دیا ہے۔ عرض ہے کہ یہ تو ایک عام فہم شخص کو بھی پتہ تھا کہ میاں نوازشریف کی اپنی جماعت پرگرِفت اتنی مضبوط ہے کہ وہ جس شخص پر بھی ہاتھ رکھ دیں گے ،وہی وزیرِاعظم بن جائے گا، تو کیا کپتان کواِس بات کا نہیں پتہ تھا؟۔ دراصل کپتان کی خواہشات اُن کے مطالبات میں ڈھلتی رہتی ہیں۔ اِسی لیے اُنہوں نے بِلا سوچے سمجھے اور بِنا ہوم ورک کیے نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ اُن کے اِس نئے مطالبے کی کسی بھی سطح پر پذیرائی نہیں ہوئی۔ تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہییں۔
نوازلیگ کسی بھی صورت میں نئے انتخابات کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ مارچ 2018ء میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں اُسے واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی اور وہ بڑی آسانی سے اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب کروا سکتی ہے۔ اِسی لیے میاں نوازشریف نے فرنٹ فُٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ منگل26 ستمبر کو احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے اِس کا عندیہ بھی دے دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ قائدِاعظم کے پاکستان اور ووٹ کے تقدس کا مقدمہ لڑتے رہیں گے۔ اِس پریس کانفرنس میں میاں صاحب نے پاناما فیصلے پر تو جی بھر کے تنقید کی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں محتاط رہے۔میاں صاحب نے کہا ’’عدلیہ نے ہر صورت نااہل کرنا تھا اِس لیے اقامہ کی آڑ لی گئی۔ عدلیہ نے پہلے اسی پٹیشن کو فضول قرار دیا ،پھر سماعت بھی شروع کر دی۔ جب کوئی ثبوت نہ ملا تو پُراسرار طریقے سے جے آئی ٹی بنائی گئی۔ ہیروں سے بنی جے آئی ٹی کو واٹس ایپ کالوں سے سُنا گیا۔ پھر اُس کی نگرانی بھی سنبھال لی، نیب کو حکم دیاکہ براہِ راست ریفرنس دائر کرو ،پھر نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ پاناما پہلا کیس ہے جس میں دفاع کرنے والوں کے آئینی و
قانونی حقوق سلب کیے گئے۔ جب فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی بھی نہیں رہتی‘‘۔ میاں صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک فیصلہ NA-120 میں آیا اب اگلا فیصلہ 2018ء میں آئے گا۔ اِس لیے کپتان کو وزارتِ عظمیٰ کی جنگ لڑنے کے لیے وقتِ مقررہ پر منعقد ہونے والے عام انتخابات کا انتظار تو کرنا ہی ہوگا۔

error: Content is protected !!