84

گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ چترال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی ہدایت /مذکورہ انسٹیٹیوٹ چترال میں صنعتی زون کے اندر ہی قائم کیا جائے

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ٹیوٹا کے لئے چیف ایگزیکٹو افسرکی آسامی اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں معاشرے کے غریب اور ضرورت مند بچوں کو مفت فنی تعلیم دینے کی منظوری دی ہے۔انہوں نے صوبے کے صنعتی زونز میں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی مراکز قائم کرنے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے اور سکیموں کو ازمک کے ساتھ مل کر حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ ٹیکنیکل تربیتی مراکز میں بائیومیٹرک سسٹم کو محکمہ تعلیم کے حوالے کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ فنی تربیتی مراکز کے قیام کا مقصد ہنرمند اور پیشہ ورانہ افرادی قوت تیار کرنا ہے لہٰذا مراکز کے تحت امتحانی نتائج حقیقت پسندانہ ہونا چاہئیں مطلوبہ نتائج دینے والے طلبا کوہی اسناد جاری کی جائیں اور مراکز سے فارغ التحصیل طلباء کو روزگار کے مواقعوں کی فراہمی بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ ہم نے صرف ان کو تربیت ہی نہیں دینی بلکہ ان کے مستقبل کا بھی سوچنا ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوامی فلاح کے حکومتی منصوبوں کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونی چاہئے۔مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں اور مسائل کا حل نکالیں ترقی کا عمل رکنا نہیں چاہئے ۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ٹیوٹا کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے دسویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔وزیراعلیٰ نے ٹیوٹا کے مجوزہ بجٹ برائے 2017-18 پر نظر ثانی کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ جون تک جو اخراجات ہونگے وہ فراہم کئے جائیں گے۔ بجٹ میں اخراجات کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے بی پی ایس۔15 کی آسامیوں پر امیدواروں کے انٹرویو کے لئے ٹیوٹا ریگولیشنز میں ترمیم کے حوالے سے ہدایت کی کہ جو آسامیاں مشتہر ہو چکی ہیں انکو ا شتہارات میں دیئے گئے طریقے پر ہی بھرتی کیا جائے جبکہ آئندہ کے لئے بی پی ایس ۔15 کے مردانہ امیدواروں کے انٹرویو کے لئے کوالیفائی مارکس 60فیصد جبکہ زنانہ امیدواروں کے لئے 45فیصد رکھنے کی منظوری دی۔اجلاس میں ٹیوٹا کے ہیڈ آفس میں آسامیوں کی ریشنلائزیشن کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ اس پر عملدرآمد کو نظر ثانی سے مشروط کیا گیا تاکہ اس عمل کو قانون کے مطابق حتمی شکل دی جا سکے۔اجلاس میں کلاس فور کی 63سرپلس آسامیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ ٹیوٹا کالجز میں نئی بھرتیاں کرنے کی بجائے سرپلس آسامیوں کو ایڈجسٹ کیا جائے۔اسی طرح SVTIآسامیوں کو ٹیوٹا کی پوسٹوں پر ایڈجسٹ کرنے کی تجویز سے اصولی اتفاق کیا گیا۔ گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹس لکی مروت ، مانسہرہ، شانگلہ اور کوہستان کے لئے آلات کی خریداری کے سلسلے میں پی سی ون کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ مختلف انسٹیٹیوٹس میں آلات اور مجوزہ لاگت کا ازسرنو جائزہ لے کر معقول بنایا جائے اور سکیمیں رواں مالی سال میں ہی مکمل کی جائیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ ہر معاملے کو بورڈ کے اجلاس میں لانا ضروری نہیں ہے جو چیزیں کمیٹی کے اختیار میں ہیں انہیں خود ہی ہینڈل کرے۔ آلات وغیرہ کی خریداری کے سلسلے میں لمبے چکر میں نہ پڑے اور پالیسی کے مطابق خریداری کرے۔کمیٹیاں ضرورت کو مد نظر رکھ کر وسائل مانگیں۔وزیر اعلیٰ نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ بٹ خیلہ کے لئے اراضی کے حصول کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی اور اس سلسلے میں سمری دوبارہ طلب کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر مشتمل سمری کوئی بھی محکمہ واپس نہ کرے بلکہ قانون کے مطابق اپنا موقف دے دے۔ سمری راستے میں غائب یا واپس نہیں ہونی چاہئے۔ ہم نے دو اڑھائی سو قوانین اور ترامیم اس لئے عمل میں لائی ہیں کہ ترقی کا عمل آسان ہو۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کام کرنے کی نیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی چارسدہ کے تنگی میں بی ٹیک بلاک کی تعمیر کی سکیم کے حوالے سے کہا کہ پہلے سے موجود انفراسٹرکچر اور عمارتوں کو ٹھیک کرکے قابل استعمال بنانے کو ترجیح دی جائے ۔گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ چترال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ مذکورہ انسٹیٹیوٹ چترال میں صنعتی زون کے اندر ہی قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں بدستور فیصلہ دے چکی ہے۔ ٹیکنیکل ادارے صوبہ بھر میں صنعتی زونز میں ہی قائم کئے جائیں گے۔ فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے ازمک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ صدر گڑھی پشاور میں آرکیٹکچر اور بائیو میڈیکل ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی منظوری دی۔انہوں نے ٹیوٹا کے انسٹیٹیوٹس میں سٹاف کی خالی آسامیوں پر بھرتی کے عمل کو اسٹبلیشمنٹ کے جائزہ لینے سے مشروط کرتے ہوئے اسکی اصولی منظوری دی۔ انہوں نے سٹاف کے دوسرے سٹیشنز پر تبادلے کے سلسلے میں سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جو لوگ کام نہیں کرتے انہیں سرپلس پول میں ڈال دیں۔ اداروں میں جزا اور سزا کا نظام لائیں جو کام کرنے پر آمادہ نہیں اسے گھر کا راستہ دکھائیں۔ نتائج کا حصول یقینی بنائیں اچھے افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کریں اور جو کام نہیں کرتے انکوفارغ کرنے کے لئے سفارشات دیں۔ وزیر اعلیٰ نے سول سرونٹس خواتین ٹیچرز کی اپ گریڈیشن اور پروموشن کے مسئلے کے حل کا راستہ نکالنے کی ہدایت کی۔انہوں نے ایس وی ٹی آئی گدون امازئی میں لفٹ ہینڈ ڈرائیو ہیوی وہیکل متعارف کرانے کی بھی منظوری دی۔انہوں نے عملے کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے برٹش کونسل کی معاونت حاصل کرنے جبکہ چکدرہ ، چترال، بونی اور سوات کے ایس وی ٹی آئیز کو فعال بنانے کے لئے نظر ثانی شدہ پی سی ون کی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں تمام فیصلوں پر سو فیصد عمل درآمد دیکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email