47

عوامی توقعات اور سیاسی مجبوریاں۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

جوں جوں اگلے عام انتخابات قریب آرہے ہیں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آناشروع ہوگئی ہے ،کئی ایک جماعتوں نے بعض حلقوں پر اپنے امیدواروں کااعلان بھی کردیاہے جبکہ اعلان نہ بھی ہوتو انیس بیس کافرق ہی سہی لیکن کون کس حلقے پر کس جماعت کاامیدوار ہوگااتنی سمجھ بوجھ عوام کوبھی ہے،سابق وزیراعظم نوازشریف کی عدالت سے نااہلی کے بعد تولگ یہ رہاہے کہ بیشترسیاسی جماعتیں اگلے الیکشن مل مہم کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں کیونکہ ان کی نظرمیں قبل ازوقت انتخابات کے امکان کو بھی رد نہیں کیاجاسکتاجس کاپی ٹی آئی مطالبہ کرہی ہے اس صورتحال کے پیش نظرملک کے طول عرض میں ہرسوسیاسی جماعتیں اوران کے موجودہ منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی خاصے متحرک ہوتے دکھائی رہے ہیں،پارٹی ٹکٹ پر یاآزادحیثیت میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متوقع امیدواروں کی جانب سے جلسوں، جلوسوں، کارنر میٹنگز،آپس میں صلاح مشوروں،غمی اور شادی بیاہ کی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت ، جیسی سرگرمیوں میں سیاسی جماعتوں میں فرنٹ لائن کے متحرک ورکرزاورعلاقائی قائدین جوگزشتہ عام انتخابات کے بعد رفوچکر ہوگئے تھے وہ دوبارہ نمودارہوناشروع ہوگئے ہیں جو پولیس تھانوں، کچہریوں ،واپڈا ،سوئی گیس اورنادراسمیت ان سرکاری اداروں کے دفاترمیں نہ صرف موجودبلکہ مدعی بن کر نظرآتے ہیں جہاں ان کے علاقے کے عوام اور ووٹرزکسی نہ کسی حوالے سے سائلین بن کر پائے جاتے ہیں اور انہیں ان سیاسی پیادوں کی مدد بھی درکارہوتی ہے سوجس طرح کوئی بھکاری لوگوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کران سے بھیک وصول کرتاہے اسی طرح سیاسی لوگ بھی اپنی ضرورت کے مطابق تعاون کے محتاج شہریوں کی مدد کرکے ان کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں،اگرچہ عوامی خدمت اور مخلوق خداکی مددکرنا عبادت سے کم بات نہیں لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ عوامی خدمت سیاسی لوگوں کی مجبوری بن کررہ گئی ہے کیونکہ اسی خدمت کے نام پر وہ لوگوں سے ووٹ مانگ کر اقتدارکے ایوانوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔خدمت کی حد تک تومعاملہ سمجھ میں آتاہے کہ عوامی مسائل ومشکلات حل کروانے ،ترقیاتی پایہ تکمیل تک پہنچانے اور لوگوں کوسرکاری ملازمت دلوانے سمیت دیگرشعبوں میں اپنے حلقہ نیابت کے شہریوں کوریلیف اور سہولیات کی فراہمی کے لئے دوڑدھوپ کرنا سیاسی لوگوں بالخصوص منتخب عوامی نمائندوں کی اخلاقی اور پیشہ وارانہ ذمہ داری بنتی ہے لیکن اٹھتاسوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی زندگی میں غمی اور شادی بیاہ کی تقریبات میں عوامی نمائندوں اور سرکردہ سیاسی شخصیات کے شریک ہونے کاجو کلچر فروغ پاچکاہے کیایہ درست عمل ہے،کیااس سے ترقی کاعمل متاثرنہیں ہوتا،کیونکہ دیکھاجائے تومنتخب ممبران اسمبلی کاکام جہاں وفاق اور صوبے کی سطح پر قانون سازی کے عمل میں شریک ہونے کاہوتاہے وہیں وہ عوامی ترقی کے منصوبوں کی منظوری،منظورشدہ منصوبوں پر کام کی رفتارتیز کرنے،فنڈز کے اجراء،وزیراعظم،وزیراعلیٰ اور متعلقہ محکموں کے وزراء اوربااختیارحکام کو قائل کرنے کی دوڑدھوپ میں بھی ہمہ وقت مصروف ہوتے ہیں اورحقیقت احوال یہ ہے کہ یہ انتہائی مشکل اور صبرآزماکام ہوتاہے بعض اوقات انہیں دن میں کئی کئی مرتبہ متعلقہ دفاتر کے چکرلگانے پڑتے ہیں جبکہ ان کے حلقہ کے ترقیاتی عمل اورحلقے کے عوام کی ریلیف اورسہولیات سے سے جڑا کوئی معاملہ اگر رکاؤٹ شکارہوجاتاہے توان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں،وہ کھانے پینے کی پرواہ کئے بغیر حائل رکاؤٹیں دورکرنے میں لگے رہتے ہیں کیونکہ پیچھے عوامی دباؤہوتاہے اورجہاں عوام کااعتمادحاصل کرنامشکل مرحلہ ہوتاہے وہیں کامیابی کے بعد اس اعتماد کوبحال رکھنااس سے بڑھ کر مشکل کام ہوتاہے اورذکرہوعوامی دباؤ کاتوجہاں منتخب عوامی نمائندوں پر سرکاری اورحکومتی سطح کے عوامی منصوبوں کے لئے ہمہ وقت دوڑدھوپ کرنے کادباؤ ہوتاہے وہیں انہیں اپنے آبائی علاقوں اور انتخابی حلقوں میں فوتگیوں کی صورت میں جنازوں میں شریک ہونے ،تعزیتوں ،شادی بیاہ کی تقریبات اوردیگر عوامی اجتماعات میں اپنی شرکت یقینی بنانے میں بھی خاصے دباؤکاسامنا ہوتاہے اور عیدالاضحیٰ کے بعد حج کی سعادت حاصل کرنے والے حجاج کرام کو مبارکباددیناتوالگ کلچر بن گیاہے جسے نظراندازکرناگویاناقابل معافی خطاسمجھی جاتی ہے ،منتخب عوامی نمائندوں پرغفلت ولاپرواہی ،اسمبلی سیشنزبالخصوص قانون سازی اور سرکاری دفاتر میں پڑے عوامی معاملات میں عدم دلچسپی کے حوالے سے طرح طرح کے الزامات تولگتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں سوچتاکہ ان معاملات کو دیکھنے اور بطریق احسن نمٹانے کے لئے ان کے پاس وقت کہاں بچتاہے ظاہر ہے جب ان کازیادہ تروقت دارالحکومت سے دورواقع اپنے حلقہ نیابت میں سرف ہوتاہوتو اسمبلی فلورپر عوام کی نمائندگی کیاخاک ہوگی،اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایساکیوں ہوتاہے کیااس لئے نہیں کہ اگروہ اس طرح کے عوامی سرگرمیوں کاحصہ نہیں بنتے توان کے ووٹرزناراض ہوجاتے ہیں جن کی ناراضگی وہ مول نہیں سکتے کیوں کہ اس کابرے اثرات مستقبل میں ان کے سیاسی ساکھ پر پڑنے کاخدشہ ہوتاہے جبکہ درحقیقت ایساہی ہوتاہے کیوں کہ ہمارے ہاں فروغ پایاکلچریہ بھی ہے کہ کوئی منتخب نمائندہ چاہے کروڑوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے لیکن کسی کے غمی میں شریک نہ ہوتواس ناراضگی کاجواب اسے ووٹرزکی جانب سے سیاسی وابستگی ختم کرانے کی صورت میں ملتاہے گویاقوم اپنے پاؤں پر کلہاڑی خودمارتی ہے،قوم کے لئے یہ بات عام فہم ہونی چاہئے کہ منتخب ممبران اسمبلی کااصل کام ایوان اقتدارمیں ان کے حقوق کاتحفظ کرناہوتاہے نہ کہ وہ عوامی تقریبات میں مصروف رہ اپنی اصل ذمہ داریاں نبھانے سے قاصررہے اب جبکہ اگلے انتخابات قریب آرہے ہیں توجہاں عوام کواپنی مرضی سے نمائندوں کے چناؤکاحق حاصل ہے وہیں انہیں یہ بھی فیصلہ کرناہوگاکہ اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے وہ اقتدارکے ایوانوں میں بھیجنے والوں کاانتخاب کیوں کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے مسائل حل ہوں اورترقی آئے یااس لئے کہ ترقی آئے نہ آئے مگروہ بس ان کی گھریلوسرگرمیوں میں شریک ہوں ،یہ توطے ہے کہ قوم کی جانب سے یہ فیصلہ کئے بغیرترقی کاخواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email