88

پاکستان کے معروف سینئر صحافی مطیع اللہ جان پر حملہ دراصل آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایس اے صہبائی

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کے معروف سینئر صحافی مطیع اللہ جان پر بارہ کہو کے نزدیک ہونے والے حملے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے جرنلسٹس ایسو سی ایشن آف پاکستان کے بانی ایس اے صہبائی نے کہا ہے کہ صحافیوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد قابلِ ستائش ہیں۔ عوام الناس اور حکمرانوں کو صحافیوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اگر پاکستان کا میڈیا اپنا مثبت کرادر ادا نہ کرتا تو آج پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستانی صحافی اپنے فرائض منصبی پوری دیانتداری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو پاکستان دنیا پر اپنی دھاک بٹھا سکتا ہے۔ ٰایس اے صہبائی نے صحافیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا مالکان کرپشن کی روک تھام کے لئے اپنے ورکرز کو باقائدگی سے ماہانہ تنخواہ دیں۔ صحافی بھی انسان ہیں۔ انہیں اپنے خاندان کی دیکھ بھال کے لئے ہر ماہ کی پہلی تاریخ تنخواہ کو اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی ایک عام پاکستانی ورکر کو۔ ویج بورڈ کو سرکاری فائلوں کی نذر کرنے کے بجائے عملی طور پراقدامات پر متحد ہو جائیں۔ جب تک ہم اپنے ذاتی و ادارتی مفادات سے باہر نکل کر عام صحافی کی آواز کو حکام بالا تک نہیں پہنچائیں گے تب تک صحافی برادری کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی صہبائی عارف صہبائی نے کہا کہ صحافیوں کا میڈیا ٹرائل بند ہو چاہئے کیونکہ صحافی معاشرتی معالج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email