94

عنایت اللہ کابڑے شہروں کی خوبصورتی پروگرام پرعمل تیزکرنے کی ہدایت

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے صو بے کے ڈویژنل ہیڈ کو ا ٹر شہروں کی خو بصورتی اور ترقی کیلئے جا ری پرو گرام پر عمل درآمد کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے اسے ہنگا می بنیادوں پر تیز کر نے کی ہدایت کی ہے اُ نہوں نے اس بات پر انتہا ئی افسو س کا اظہار کیا کہ صو بے کے چھ بٹر ے شہروں کو ہا ٹ ، بنو ں،ڈیڑہ اسماعیل خا ن، مر دان، سوات اور ایبٹ آباد کیلئے اس پروگرام کے تحت ایک ارب ساڑے 29 کروڑ روپے منظو ر ہو چکے اور محکمہ خزانہ نے 40 کروڑ روپے جاری بھی کئے مگر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود پیشر فت نہ ہو نے کے برابر ہے اُنہو ں نے متعلقہ ڈویژنل کمشنر ز کوپروگرام کا فوکل پرسن مقرر کرتے ہو ئے ہدایت کی کہ انکی زیرنگرانی ضلعی اور میو نسپل انتظامیہ ان ڈویژنل شہروں کی خوبصورتی اپنی ترجیحا ت میں سر فہرست رکھتے ہوئے یقینی بنائے وہ اپنے دفتر بلدیات سیکرٹریٹ پشاور میں شہری خو بصو رتی کے اس پروگرام پر پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں و زیر اطلاعا ت و اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی، سیکرٹری بلدیات سید جمال الدین شا ہ، کمشنر ہزارہ اور دیگر متعلقہ ڈویژنل، ضلعی اور میونسپل حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی سینئر وزیر نے ہدایت کی کہ شہری ترقیاتی سکیمو ں میں متعلقہ علاقوں کے ار کان اسمبلی سے مشاورت کی جائے نیز پروگرام پر ٹھو س پیشرفت کے علاوہ شبانہ روز کام کرکے انکی بین الاقوامی معیار کے مطابق تکمیل یقینی بنائی جائے اور ہر شہر میں پارکس، جدید فٹ پاتھ، سولر سٹریٹ لا ئٹس، استقبالیہ دروازں، قبرستا نوں کے گرد چار دیواری ا ور ندی نالو ں کی ماحولیاتی ضروریات کے مطابق لائننگ اور تعمیر یقینی بنائی جائے اُنہو ں نے ایبٹ آباد کی خو بصورتی سکیموں میں پیشرفت سے متعلق صوبائی وزیر مشتاق غنی کے تحٖفظات دور کرنے کی ہدایت بھی کی عنایت اللہ نے خبردار کیا کہ اگلے چند ہفتوں میں واضح پیشرفت نہ دکھائی گئی اور پروگرام کیلئے دستیاب دس کروڑ روپے کا شفاف استعمال یقینی نہ بنایا گیا تو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر صورت پہلے مرحلے میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو خوبصورت اور ترقیافتہ شہر بنانا ہے جس کے بعد پروگرام کا دائرہ صوبے کے تمام شہروں تک پھیلا دیا جائے گا سینئر وزیر نے شہروں میں پولی تھین بیگز بالخصوص کالے پلاسٹک لفافوں کے استعمال کی روک تھام کیلئے ماحولیاتی ا دارے کو موثر اقدامات کرنے اور انکی مکمل حوصلہ شکنی کیلئے بھاری بھر کم جرمانے عائد کرنے کی سفارش بھی کی تاکہ انکی وجہ سے شہروں میں نکاسی اور آبپاشی کے ندی نالے آئے روز بند ہونے اور گلی کوچے تالاب بن جانے کی شکایات کا خاتمہ ہو اس موقع پر حکام نے سینئر وزیر کو یہ بھی بتایا کہ خوبصورتی پروگرام کے تحت مذکورہ بڑے شہروں کے آغاز پر آرائشی صدر دروازے بھی تعمیر ہونگے جن میں منگورہ شہر کے شروع میں باب سوات، ڈیرہ شہر کے آغاز پر باب گومل اور بنوں شہر کے آغاز پر باب کرم کی شایان شان تعمیر شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں