189

صدا بصحرا ۔۔۔۔اساتذہ کی فتح ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

ایجوکیشن کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر سکولوں اور کالجوں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگئی ہے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بل اسمبلی میں پیش کرنے کے بجائے اساتذہ کا نیا سروس سٹرکچر تشکیل دینے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد اپنی سفارشات پیش کرے کسی بل ،کسی قانون ،کسی ضابطے کو ختم کرنے یا واپس لینے کا آسان اورتیربہدف نسخہ یہ ہے کہ اس پر کمیٹی قائم کی جائے 5 سال پہلے چند لوگ اپنے پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی فائلیں اٹھا کر دفتروں میں در بدر پھرتے تھے پھر قدر ت نے ان کو حکومت میں آنے کا موقع دیا تو انہوں نے سرکاری حکام اور سرکاری سکولوں سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا اس انتقام کا نتیجہ مختلف صورتوں میں سامنے آیا اس کی ایک صورت یہ تھی کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کیلئے ملازمت اور پنشن کا سلسلہ ختم کر کے سکولوں اور کالجوں کو نجی تحویل میں دیدیا جائے اس وجہ سے اساتذہ میں بے چینی پھیل گئی اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے با لا آخر اساتذہ کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی کیونکہ ’’ کمیٹی بن گئی ‘‘ کمیٹی حکومت ہراُس کا م کے لئے بنا تی ہے جو حکومت کبھی نہیں کرتی اور کرنا بھی نہیں چاہتی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو اچھی طرح علم ہے کہ جس کا م کے لئے کمیٹی بنا ئی گئی وہ کام ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا چنا نچہ خیبر پختونخوا میں سرکاری سکولوں ، کالجوں اور سرکاری ملازمت کرنے والے اساتذہ کر ام کے خلاف قانون سازی کا کام ردی کی ٹوکری میں چلا گیا اب اسے کوئی بھی طاقت ردی کی ٹوکری سے باہر نہیں نکال سکتی اساتذہ کے خلاف سیاستدانوں اور معاشر ے کے دوسرے طبقوں کی سازشیں نئی نہیں ہیں ایک زمانے سے یہ سازشیں چل رہی ہیں پشاور یونیورسٹی کے سابق پر ووسٹ اور شعبہ جعرافیہ کے مشہور پروفیسر ایم ڈی نوید کے پاس اس حوالے سے معلومات کا خزانہ تھا وہ کہا کرتے تھے لوگوں نے جب استاذ کو عزت دی ، مقام دیا تو سازشی عنا صر نے کہا کہ استاذ کا نام صرف سکول ماسٹر ، لیکچرز یا پروفیسر کے ساتھ مخصوص نہیں ہو نا چاہیے چنانچہ کوچوان سے لیکر ترکھا ن تک سب کا نام استاذ رکھو ادیا گیا یہ حال دیکھ کر استاذ جی نے اپنا نام ماسٹر رکھ دیا یار لوگوں نے یہ نام بھی چھین لیا مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کو ماسٹرکا نام رکھ دیا ماسٹر فلاں اور ،سٹر فلان کہہ کر سبکو پکا رنے گلے استاذ نے پنیتر ا بدل کر اپنا نام پروفیسر رکھ لیا تو مداری آیا اب مداری بھی پروفیسر کہلاتا ہے ایم ڈی نوید یہ بات مز احیہ انداز میں کرتے تھے مگر موضوع سنجید ہ ہے اشفاق احمد نے لکھا ہے کہ روم میں جج اپنی نشست سے کھڑا ہو کر استاذ کی تعظیم کرتا ہے وہ اعلان کرتا ہے کہ خواتین و حضرات ! عدالت میں ٹیچر آیا ہے اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ اٹلی میںیہ استاذ کا مقام ہے برطانیہ میں فزکس اور ریاضی کا استاذاسٹیفن ہا کنگز بیماری کی وجہ سے معذور ہو چکا ہے حکومت نے اس کی پہیوں والی کرسی کے ساتھ 26 ماہر ین کا عملہ مقرر کر دیا ہے ان میں ڈاکٹر ، نرسیں ،کمپیوٹر کے ماہرین اور ٹیکنیشن شامل ہیں جو تین شفٹوں میں رات دن ڈیوٹی دیکر ، ایک استاد کی زندگی کو سہارا دیتے ہیں تاکہ وہ معذوری کے با و جود باقاعد گی کے ساتھ لیکچر دے سکے تحقیق کا کام کر سکے کانفرنسوں میں جاکر مقالہ پیش کر سکے اب امریکی تحقیقی ادارے ناسا (NASA) نے سٹیفن ہا کنگز کو اُس کی پہیوں والی کرسی ، زانو پر رکھے ہوئے کمپیوٹر اور پورے عملے کے ساتھ چاند پر اتا رنے کی پیشکش کی ہے اور ایسے راکٹ کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے جو کیمبر ج یونیورسٹی میںآئن سٹائن چےئر کے نامور پروفیسر کو چاند پر لیجا کر ایک ہفتہ چاند کی سیر کروانے کے بعد واپس بحفاظت زمین پر اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہو جو قومیں استاذ اور مدرس کو ایسامقام دیتی ہیں وہ قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں اور نام کماتی ہیں ہماری حکومت دو تین وزیروں کے ذاتی مفادات کے لئے سکولوں اور کالجوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر نا چاہتی ہے اساتذہ کرام کودر بدر کر نا چاہتی ہے احتجاج پر مجبو ر کرتی ہے دھر نا دینے پر مجبور کرتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ صوبے کا تعلیمی ماحول برباد کر نا چاہتی ہے شکر کا مقام ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس کا نوٹس لے لیا وہ اپنی کابینہ کے وزراء اور اسمبلی کے سپیکر کو ناراض کر نا نہیں چاہیتے اس لئے انہوں نے ایسا راستہ ڈھو نڈ لیا جو سب کے لئے قابل قبول ہے پاکستان کی تاریخ میں گذری ہوئی ہزاروں کمیٹیوں میں سے ایک کمیٹی بنادی اور کمیٹی کو ہدایت کی کہ اساتذہ کے مستقبل اور سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے اساتذہ کے لئے نیا سروس سٹرکچر دیکرقابل عمل منصوبہ تجویز کیا جائے اب قیامت تک یہ کام کمیٹی کے پاس رہیگا اساتذہ کی بے چینی دور ہوگی اب سرکاری شعبے کے تعلیمی اداروں پر لٹکنے والی تلوار ہٹادی گئی ہے کشمیر کمیٹی اور فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرح نئی کمیٹی کو وطن عزیز کی کمیٹیوں میں ایک نا گزیز اضافہ کا درجہ دیا جائیگا
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم ، جب اُٹھینگے
لے آئینگے بازار سے جاکر دل و جاں اور

Print Friendly, PDF & Email