تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے تحت تیسری سالانہ پرنسپلز کانفرنس کا انعقاد/ ماہرین دائمی علم کے فروغ کے لیے نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور
Qashqar Lab

آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے تحت تیسری سالانہ پرنسپلز کانفرنس کا انعقاد/ ماہرین دائمی علم کے فروغ کے لیے نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور

“دائمی علم نہ صرف طلبا کو ذاتی تعمیر کے قابل قدر طریقے سکھاتا ہے بلکہ ایک مجموعی انداز فکر سے آشنا کرتا ہے جو ان پر، خصوصاً اساتذہ، والدین اور عمومی طور پر تمام معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے” ، یہ بات آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (اے کے یو۔ای بی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد جیوا نے بورڈ کے تحت منعقد کی جانے والی تیسری سالانہ پرنسپلز کانفرنس کے موقعے پر کہی۔ اس سالانہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے اے کے یو۔ای بی کو اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس(او یو پی) کا اشتراک و تعاون حاصل رہا۔ڈاکٹر شہزاد نے اس موقعے پر کہا، ” تیزی سے عالمگیریت کی جانب بڑھتی ہوئی دنیا میں ہمارے طلبا کو مستقبل میں زیادہ چیلنجز کا سامنا ہو گا، یہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں معیشت کی اساس علم اور ہمہ جہت مہارتوں پر ہے۔ ” اس کانفرنس میں گلگت ۔ بلتستان اورچترال سمیت ملک بھر سے ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔
کاؤنسل آف انٹرنیشنل اسکولز انگلش ایز اے سیکنڈ لینگویج اینڈ مدر ٹنگ کمیٹی کے سابق چیئر ایتھین گیلیگر نے اس موقعے پر اہم خطاب کیا جس کا عنوان “کیا انسپائریشنل پیڈاگوجی کسی بچے کی تاحیات تعلیم کے حوالے سے اہم ترین شے ہے؟” تھا۔ انھوں نے ذریعہ تعلیم اور مادری زبان کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا، ” آپ اس علم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے ہیں جو بچے کے پاس پہلے ہی موجود ہے۔ اگر بچوں کو ان کی مادری زبان سے جبراً الگ نہ کیا جائے تو وہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم بچوں کو صرف اردو یا صرف انگریزی میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں تو درست نہیں کرتے کیونکہ بحیثیت انسان ہم سب مختلف زبانوں میں سوچتے ہیں۔”
اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے 360 سے زائد صدور مدرس نے شرکت کی۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی واحد کانفرنس ہے جہاں اسکول کے اہم قائدین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں اور کلاس روم کی بنیاد پر کی جانے والی حقیقی تحقیق کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس کانفرنس میں 31 مقالوں کی تلخیصات پیش کی گئیں جن میں پرائمری اسکولز میں فارمیٹیو اسیسمنٹ، پسماندہ علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں پر کیس اسٹڈی اور متحرک تعلیمی و تدریسی طریقہ کار میں معلومات کے حصول کا کردار جیسے موضوعات شامل تھے۔مختصر اور متاثر کن، “ٹیڈ ٹاک” کی طرز پر کی جانے والی گفت و شنید کا ایک سلسلہ بھی پروگرام کا خاصہ تھا جس کا عنوان “ماہرین تعلیم؛ تبدیلی کے محرک”۔ اے کے یو۔ای بی میں ٹیچر ڈیویلپمنٹ کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر آمنہ پاشا ؛ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ اونٹراپرینیورشپ کے بانی آفاق ریاض احمد اور کرن فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر سبینہ کھتری جیسے ماہرین نے اپنی رائے سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ سبینہ کھتری نے اس موقعے پر کہا، ” تعلیمی دنیا میں رائج ذہنی اور جذباتی صحت کے طور طریقے معاشروں کی نشوونما میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور شاید انہی کو سب سے کم توجہ دی جاتی ہے”۔آمنہ پاشا کی گفتگو کا مرکزی نکتہ معاشرتی ترقی کے لیے فنون کی اہمیت پر زور تھا۔ ان کے مطابق، “مسائل کبھی بھی یک رخی نہیں ہوتے؛ بلکہ ہمیشہ متعدد رخوں اور زاویوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے حل کے لیے متعدد علوم کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی وہ لائحہ عمل ہے جس کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے۔”
“تعلیم سب کے لیے 150 سال 2030” کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن میں تعلیمی ماہرین نے حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے جن میں بیلا رضا جمیل، عباس راشد اور عرفان مظفر شامل تھے۔ انھوں نے مربوط تعلیمی نظام کے قیام کے طریقوں، معیاری تعلیم اور دائمی علم جیسے موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ہر فرد تک تعلیم کی ترویج کے لیے نجی تعلیمی اداروں کے کردار، ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ ماہرین نے اس امر پر غور کیا آیا معیاری تعلیم تک رسائی میں اضافے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم میں زبان کے کردار خصوصاً انگریزی زبان میں تعلیم کے حوالے سے مباحث کیے گئے۔او یو پی پاکستان کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا، “تعلیم کا معیار اور مقدار انسانی زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتا ہے؛ ملازمت کے امکانات، معاشی کارکردگی، معیار زندگی، سماجی تعلقات، معیارفکر حتی کہ فارغ اوقات کی سرگرمیاں۔ معاشرے کی واحد تعمیراتی اور سماجی سرگرمی کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے اس پر توجہ دی جائے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے اے کے یو۔ای بی کا کردار قابل ستائش ہے اور اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان کے ہر علاقے میں تعلیمی تبدیلیوں کا نظام قائم ہونا چاہیے۔”