تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> 1975کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سوختنی لکڑی کا حق مقامی باشندگان کو دیا گیاہے ۔ مگر مقامی پولیس مذکورہ حق کے حصول سے اُنہیں منع کر رہا ہےکالاش عمائدین کاپریس کانفرنس
Qashqar Lab

1975کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سوختنی لکڑی کا حق مقامی باشندگان کو دیا گیاہے ۔ مگر مقامی پولیس مذکورہ حق کے حصول سے اُنہیں منع کر رہا ہےکالاش عمائدین کاپریس کانفرنس

چترال ( محکم الدین ) کالاش ویلی بمبوریت کے دو دیہات پڑاوناندہ اور انیژ کے مردو خواتین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے فوری طور پر اُن کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ یہ ناانصافی اگر فوری نہ روکی گئی ۔ تو وہ ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوںگے ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز کالاش قبیلے کی مردو خواتین نے ایک احتجاجی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ایک باثر شخصیت شہزادہ مقصود الملک ساکن ایون اپنے اثرو رسوخ سے پولیس کو استعمال کرکے اُن کو اُن کے موروثی ، مملوکہ مقبوضہ جائداد وں اور جنگلات جو کہ صرف سرکاری ملکیت ہیں ،سے محروم کر رہا ہے ۔اورمقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود مقصود المک ڈی پی او سے ملی بھگت کرکے سرکاری چراگاہ و جنگلات سے استفادہ حاصل کرنے سے اُنہیں روک رہا ہے ۔ جبکہ کالاش قبیلے کی زندگی کا مکمل دارومدار چراگاہوں اور جنگلات پر ہے ۔ مقامی دیہات کی نمایندگی کرتے ہوئے شیر محد کالاش ، منگل خان کالاش ، شواربیگم کالاش ، گالسام کالاش ، شیرین نسہ کا لاش ، ( ر) صوبیدار رحمت کریم ، محمد رفیع ، سراج الدین ،شہاب الدین وغیرہ نے کہا ۔ کہ 1975کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سوختنی لکڑی کا حق مقامی باشندگان کو دیا گیاہے ۔ مگر مقامی پولیس مذکورہ حق کے حصول سے اُنہیں منع کر رہا ہے ۔ جبکہ کالاش ویلی میں سوختنی لکڑی ااستعمال کئے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش پوری دنیا میں منفرد تہذیب کے مالک اور پاکستان کا انتہائی پُر امن اور مجبور قبیلہ ہے ۔ جس کی اقلیت ہونے اور مجبوری کا بااثر شخصیت مقصود الملک اور مقامی پولیس فائدہ اُٹھا رہی ہے ۔ اور اُن کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ اس حد تک تنگ ہو چکے ہیں کہ اُن کے پاس پاکستان سے ہجرت کرنے کے سوا اور کوئی چارئہ کار نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مقامی پولیس فریق کا کردار ادا کر تے ہوئے کسی بھی قسم کے ظلم و جبر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔حالانکہ قانون کی رو سے مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران پولیس کو مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ جبکہ عدالت نے مقامی پولیس کو اختیارات سے تجاوز کرنے سے منع کیا تھا ۔ مگر ڈی پی او چترال کے حکم پر مقامی پولیس عدالتی احکامات کو بھی یکسر نظر انداز کر رہا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پُر زور اپیل کی ۔ کہ کالاش قبیلے کو پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ اور کالاش قبیلے پر چترال پولیس خصوصا ڈی پی او چترال کی ظلم و زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش قبیلے کو چترال کا سب سے قدیم باشندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ لیکن اس کے حقوق و جائداد پر ناجائز قبضہ جمانے اُنہیں علاقہ چھوڑنے کی راہ ہموار کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جو کہ یقینا ایک چھوٹی اور محب وطن اقلیت کے ساتھ سراسر ظلم ہے ۔