49

ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باؤجود پی پی پی اپر چترال کے منتخب تنظیم کی نوٹیفیکشن نہ کرنا پارٹی کو تقسیم کرنے کی سازش ہے ۔حمید جلال

بونی ( کریم اللہ ) مستوج کی سطح پر علیحدہ تنظیم کے لئے الیکشن کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باؤجود نوٹیفیکشن نہ کرنا پارٹی کو توڑنے کی سازش ہے جس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی ، ان خیالات کا اظہار پی پی پی مستوج کے سنئیر رہنما حمید جلال نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے لوئر چترال سلیم خان نے مجھے دو مرتبہ فون کرکے اپر چترال کے لئے الگ ضلعی حیثیت منظور ہونے کی نوید سنائی اور مجھ سے کہا تھا کہ جلد از جلد اپر چترال کے لئے پارٹی تنظیم سازی کی جائے، تاکہ تحصیل ، یونین کونسل اور پھر ویلج کونسلز کی سطح پر تنظیم سازی کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سلیم خان کی اس بات پر اعتماد کرکے ورکر کنونشن بلایا اور 9ستمبر 2017ء کو بونی میں منعقد ہ ورکرز کنونشن میں باقاعدہ انتخاب کے ذریعےنئی تنظیم کا چناؤ عمل میں آیا۔الیکشن کے اس مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضلعی جنرل سیکٹری حکیم خان ایڈوکیٹ ،شریف حسین اور بشیر حسین تشریف لائے تھے ۔ ان میں سے شریف حسین اور بشیر حسین نے بحیثیت پریذایڈنگ آفیسر پولنگ کا انعقاد کیا اور الیکشن کے نتائج یہاں سے لے کر گئے اس وقت وکرز کو بہت جلد نوٹیفیکشن کا عندیہ بھی دیا گیاتھا لیکن اب ایک ماہ سے زائد کا عرصہ بیتنےکے باؤجود نوٹیفیکشن نہ ہوسکی ۔ اور 15اکتوبر کو چترال میں دوبارہ میٹنگ بلایا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی تاخیری اور سازشی حربے ایک مستحکم پارٹی کو تقسیم کرنے کاباعث بن سکتے ہیں ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سلیم خان اپنے ٹیلی فونگ گفتگو میں سب ڈویژن مستوج کے لئے علیحدہ ضلعی سیٹ اپ کی نوید سنا کر ہمیں بے وقوف بنار ہے تھے ؟ یاد رہے 9ستمبر 2017ء کو بونی کے مقام پر سب ڈویژن مستوج کے پی پی پی کا ورکرز کنونشن بلایا گیا تھا جس میں سب ڈویژن کے کونے کونے سے بڑی تعدا د میں پارٹی جیالے شریک تھے ۔ اس میں کنونشن میں اپر چترال کے لئےعلیحدہ ضلعی سیٹ اپ کا انتخاب عمل میں آیا تھا جس میں دو پینل آمنے سامنے تھے ۔ ایک پینل میں سابق ناظم یوسی چرون امیر اللہ صدارت، حمید جلال جنرل سیکٹری اور پرویز لال انفارمیشن سیکٹری کے امیدوار تھے جبکہ دوسرے پینل میں سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن صدارت اور مستنصر حسین جنرل سیکٹری کے امیدوار تھے ۔ پولنگ کا مرحلہ شروع ہونے کے کافی عرصہ بعد شمس الرحمن پینل نے بائیکاٹ کیا لیکن پولنگ کا مرحلہ بدستورجاری رہا ۔ پولنگ کے اختتام پر جب نتائج کا اعلان کیا تو امیر اللہ پینل کو 200 جبکہ شمس الرحمن پینل کو صرف 4 ووٹ ملے تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email