52

احتساب عدالت کی بَدمزگی۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

13 اکتوبر کو مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعے پر ایک دفعہ پھر بَدمزگی پیدا ہوئی۔ مسۂ وہی پرانا کہ احتساب عدالت میں گنجائش صرف تیس ،پینتیس افراد کی جبکہ عدالت میں گھُسنے کے شوقین اور نمبر ٹانکنے والے بیشمار۔ احتساب عدالت سے سو گَز کے فاصلے پر لگے ناکے پر ایک وکیل کا پولیس سے جھگڑا ہوا۔ وکیل نے پولیس اہلکار کے مُنہ پر تھپڑ مار دیا جس پر پولیس اور وکلاء آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ چار خواتین وکلاء کو معمولی زخم آئے اور ایک وکیل ،چودھری فرید کا سَر پھٹا۔ کمرۂ عدالت میں جب احتساب جج نے زخمی وکیل کو دیکھا تو وہ بھی طیش میں آ کر اُٹھ کر چلے گئے۔ جس کے بعد میاں نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر پر فردِجرم عائد نہ ہوسکی اور عدالتی کارروائی 19 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اِس سارے معاملے کو اپوزیشن اور اُس کے حواریوں ،مداریوں نے کچھ اور ہی رنگ دے دیااور اب ایک دفعہ پھر لایعنی اور بے معنی تبصروں کا مینابازار لگا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری وکلاء برادری 3 نومبر 2007ء کو لگنے والی ایمرجنسی کے بعد کچھ زیادہ ہی ’’ہَتھ چھُٹ‘‘ ہوگئی ہے۔ عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد وکلاء کا رویہ یک لخت بدل گیا اور عدالتوں میں اُن کا ’’پھینٹی پروگرام‘‘ جاری وساری ہوگیا۔ پولیس بیچاری تو اُن کے لیے ’’حلوہ‘‘ ہے جس پر وہ اکثر عدالتوں میں ’’ہاتھ صاف‘‘ کرتے رہتے ہیں۔ وہ تو اپنے کلائینٹس تک کو بھی نہیں بخشتے اور اُن کو بھی ’’گِدڑکُٹ‘‘ لگا دیتے ہیں۔ عدلیہ بحالی کے بعد وکلاء صاحبان یہ بھی اپنا حق سمجھتے ہیں کہ جج صاحبان اُن کی مرضی کا فیصلہ کریں اور جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر کمرۂ عدالت کو تالا بھی لگا دیتے ہیں۔ یہ پریکٹس ایک عرصے سے جاری ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں تواتر سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی 13 اکتوبر کو احتساب عدالت کے سامنے ہوا ہوگا لیکن لوگ رائی کا پہاڑ بنا لیتے ہیں اور ایسے غلط سلط تجزیوں اور بے بنیاد خبروں کو اچھالنے میں ہمارا میڈیا بھی کسی سے کم نہیں۔
کپتان تو ایک مقبول جماعت کے سربراہ ہیں اور اپنی مرضی کا تجزیہ پیش کرنا اُن کا بنیادی حق لیکن ’’حواری‘‘ زیبِ داستاں کے لیے بات کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔احتساب عدالت کے باہر ’’سَرپھٹول‘‘ کے بعد عمران خاں نے ٹویٹ کیا ’’عدالت میں رینجرز کی موجودگی پر درباری احسن اقبال کا رچایا گیا تماشا سمجھ میں آگیا۔ سارا تماشا جج کو غیرمحفوظ بنانے کے لیے رچایا گیا۔ ثابت ہوگیا کہ نون لیگ اداروں کا جنازہ نکالنا چاہتی ہے۔ قوم اِس ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور ریاستی ادارے بچانے کی تیاری کرے‘‘۔ عمران خاں کا مشورہ سَر آنکھوں پر لیکن اداروں کا احترام اگر وہ اپنی ذات سے شروع کریں تو اُن کے کہے کا کچھ اثر بھی ہو۔ 2013ء سے اب تک اُنہوں نے ہمیشہ اداروں کے خلاف ہی تو آگ اُگلی ہے۔ جس عدلیہ کے آج وہ پاسبان بنے بیٹھے ہیں ،اُسی کے چیف جسٹس کو جلسۂ عام میں کہا ’’کتنے میں بِکے؟‘‘۔ عام انتخابات کو آراوز کا الیکشن کہا، آراوز عدلیہ ہی سے تھے۔ صوبائی اور مرکزی نگران حکومتوں پر جانبداری کاالزام لگایا اور ایک بریگیڈئیر (جس کا اُنہوں نے آج تک نام نہیں بتایا) کو بھی دھاندلی کی سازش میں موردِالزام ٹھہرایا۔ پینتیس پنکچروں کی بات قوم ابھی تک نہیں بھولی ،جس پر بعد میں کہہ دیا ’’وہ تو سیاسی بیان تھا‘‘۔ بات بہت طول پکڑ جائے گی اِس لیے مختصر یہ کہ وہ آج بھی اپنی اُسی ڈگر پر قائم ہیں۔ کیا دہشت گردی کورٹ میں بیٹھا فیصلہ کرنے والا شخص ’’جج ‘‘ نہیں جو اُنہیں مفرور قرار دے چکا ہے؟۔ کیا الیکشن کمیشن میں ریٹائرڈ جسٹس صاحبان نہیں بیٹھے، جن کے خلاف وہ ہر روز زہر اُگلتے رہتے ہیں، جہاں اُن کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں؟۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ خاں صاحب عدالتوں میں حاضر ہوتے ہیں نہ پارلیمنٹ کا مُنہ دیکھتے ہیں؟۔ جب ایسی صورتِ حال ہو تو اُن کی باتوں پر کون اعتبار کرے گا ۔
کپتان کی زبان بولنے والے ایک درباری تجزیہ نگار نے ایسے ہی الفاظ تجزیہ نگاروں کے پینل میں بیٹھ کر کہے۔ اُس نے کہا ’’اب مجھے سمجھ آئی کہ رینجرز کو کیوں ہٹایا گیا۔ یہ سب سوچی سمجھی سازش تھی‘‘۔ لکھاری موصوف کے کالم ہم بڑے شوق سے پڑھتے تھے اور اب بھی پڑھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کالموں کو اِدھر اُدھر سے لطائف اکٹھے کرکے مزّین کرتے ہیں اور چونکہ ہم لطیفے بڑے شوق سے سنتے اور پڑھتے ہیں اِس لیے ہمیں اُن کے کالم بھی پسند ہیں۔ اب وہ ماشاء اللہ ’’ارسطوانہ تجزیے‘‘ بھی کرنے لگے ہیں اور اُن کے ہر تجزیے کی تان نوازلیگ کی مخالفت پر ہی ٹوٹتی ہے۔ ہم اُنہیں مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ وہ صرف لطیفوں تک ہی محدود رہیں، تجزیہ نگاری اُن کے بَس کا روگ نہیں کیونکہ صحافت میں پہلے ہی کثافت کی اتنی آمیزش ہو چکی کہ اب مزید گنجائش نہیں۔
کپتان کے ’’لے پالک‘‘ شیخ رشید (جنہیں بھائی عطاء الحق قاسمی نے اپنے کالم میں ’’شیداٹَلّی‘‘ لکھا ہے لیکن ہم ایسی گستاخی نہیں کرسکتے) نے کہا ’’ملک میں کچھ ہونے والا ہے‘‘۔ شیخ صاحب عرصۂ دراز سے فوج کے خودساختہ ترجمان بنے بیٹھے ہیں لیکن فوج اُنہیں گھاس ڈالتی ہے ،نہ کچھ کہتی ہے۔ ابھی چند دِن پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی طویل پریس بریفنگ میں دوٹوک الفاظ میں کہاکہ فوج کے آنے یا مارشل لاء کی بات کرنا ہی فضول ہے لیکن شیخ صاحب کے نزدیک ’’کچھ ہونے والاہے‘‘۔ ایسی باتیں شیخ صاحب پیپلزپارٹی کے دَورِ حکومت سے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن جب فوج ’’کَکھ‘‘ نہیں کرتی تو وہ تھک بلکہ ’’ہَپھ‘ کر کہہ دیتے ہیں ’’فوج نے سَتّو گھول کر پی رکھے ہیں‘‘۔ ویسے ہم انہی کالموں میں شیخ صاحب کو یہ مخلصانہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ لال حویلی کے سامنے پھٹّہ لگا کر ’’طوطافال‘‘ نکالنا شروع کر دیں، کاروبار چمکنے کی گارنٹی ہم دیتے ہیں لیکن جتنی دیر تک کپتان کا سایہ اُن پر سلامت ہے ،وہ ایسا کریں گے نہیں کیونکہ وہ ’’پیوستہ رہ شجر سے ،اُمیدِ بہار رکھ‘‘ کے قائل ہیں۔ جب تک وہ ’’شجرِ نوازلیگ‘‘ سے وابستہ رہے ،اُنہوں نے خوب انجوائے کیا۔ پھر پرویزمشرف کے دَورِحکومت میں بھی اُن کی چاندی رہی لیکن جب مشرف کوزوال آیا تو شیخ صاحب نے شریف برادران کے بہت ’’منتیں ترلے‘‘ کیے مگر بات نہ بنی۔ ہمارے یہ شریف برادران ایسے ضدی ہیں کہ اُن پر شیخ صاحب کے ’’تَرلوں‘‘ کا ’’کَکھ‘‘ اثر نہ ہوا۔ اب ایک کپتان ہی کا تو سہارا ہے جس کے ساتھ وہ ’’ لسوڑے‘‘ کی طرح چمٹے ہوئے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کے اندر جتنی نفرت اُن کے خلاف ہے ،اور کسی کے خلاف نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔
کپتان کے ایک اور درباری فواد چودھری بھی آجکل بہت چہک رہے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں کے چکر کاٹنے کے بعد اب وہ تحریکِ انصاف میں جلوہ افروز ہیں۔ وہ تحریکِ انصاف کے ترجمان ہیں اور ترجمانی کا حق خوب ادا کر رہے ہیں کیونکہ غیرپارلیمانی زبان میں وہ کپتان سے بھی دو ،چار ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ کسی زمانے میں وہ پرویزمشرف کے حق میں بھی اِسی طرح سے سچّے جھوٹے دلائل دیا کرتے تھے۔ پھر پیپلزپارٹی کے دَور میں وہ آصف زرداری کی مدح سرائی میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نظر آئے۔ پتہ نہیں 2018ء کے انتخابات کے بعد وہ کِس جماعت کے پلیٹ فارم سے آگ اُگلتے نظر آئیں گے۔ اُنہوں نے بھی احتساب عدالت کے باہر ہونے والے تصادم کو نوازلیگ کی سازش اور تاخیری حربے قرار دیاہے حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ نوازلیگ خواہ جتنے بھی تاخیری حربے استعمال کر لے ،فیصلہ تو بہرحال سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ چھ ماہ کی مخصوص مدت میں ہی ہونا ہے۔ ہم تو اُنہیںیہی مشورہ دیں گے کہ وہ ’’ہََتھ ہَولا‘‘ رکھیں کیونکہ 2018ء کے انتخابات میں ہمیں تو تحریکِ انصاف کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسی صورت میں اُنہیں یقیناََ ’’پھُدک‘‘ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں جانا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email