50

ایم این اے شہزادہ افتخارالدین کے دعوت پروزیراعظم چترال کادورہ کرنےپررضامند/گولين ہائيڈل پاؤرپراجيکٹ اور گيس پلانڻوں سميت سڑکوں پر کام کا افتتاح کریگا

چترال (نمائنده  ) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزاده افتخار الدين نے بده کے روز اسلام آباد ميں وزير اعظم شاہد خاقان عباسی سے ان کے دفتر ميں ملاقات کی ۔ انہوں نے بتاياکہ وزير اعظم نے وفاقی حکومت کی فنڈز سے تعمير ہونے والی سڑکوں٬ گيس پلانڻوں کی تنصيب اور بجلی کے حوالے سے متعلقہ محکمہ جات کوڈائریکتوجاری کردئيے ۔ انہوں نے تفصيل بتاتے ہوئے کہاکہ وزير اعظم نے شندور٬ گرم چشمہ اور ايون کالاش واديوں کی سڑکوں کی جلد از جلد ڻينڈر کرنے کے لئے چير مين نيشنل متعلقہ محکمہ جات کوہائی وے اتهارڻی کو احکامات جاری کردئيے۔ اسی طرح وزير اعظم نے سوئی نادرن گيس پائپ لائنز لميڻڈ (ايس اين جی پی ايل ) کو ہدايات جاری کردی کہ سابق وزير اعظم نواز شريف کے اعلان کے مطابق چترال ٬ دروش اور ايون ميں گيس پلانٹ لگانے کے ساته ساته چار نئے مقامات بونی ٬ موڑکهو٬ مستوج اور گرم چشمہ ميں بهی گيس پلانٹ لگانے کی ہدايت کی۔ ايم اين اے شہزاده افتخار الدين کے مطابق چترال ميں ويمن يونيورسڻی کے قيام کے بهی انہوں نے ہدايات جاری کردئيے۔ ايم اين اے نے کہاکہ ان کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے وزير اعظم نے دسمبر کے اوائل ميں چترال کا دوره کرنے اور گولين ہائيڈل پاؤرپراجيکٹ اور گيس پلانڻوں سميت سڑکوں پر کام کا افتتاح کرنے پر رضامندی کا اظہار کيا۔شہزاده افتخا رالدين نے کہاکہ انہوں نے چترال کو ترقی کے مختلف شعبوں ميں درپيش مسائل حل کرنے ميں ہر ممکن جدوجہد کرتا رہا ہے جن ميں کاميابی عوام کے سامنے ہے جن ميں تين فيڈرل فنڈڈسڑکيں(شندور٬ گرم چشمہ اور کالاش ويليز)٬ گيس پلانڻوں کے ذريعے قدرتی گيس کی فراہمی٬ چترال يونيورسڻی کے لئے وفاقی حکومت سے پراجيکٹ کا 80فيصد فنڈز مہيا کرانا٬ واپڈ ا کے گولين گول بجلی کے لئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کے ذريعے اسے جلدپايہ تکميل تک پہنچانا شامل ہے جبکہ لواری ڻنل پراجيکٹ کا 80فيصد فنڈز بهی موجوده وفاقی حکومت نے دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بونی بزند روڈ کی توسيع اور پختگی کے لئے بهی انہوں نے وفاقی حکومت سے ايک ارب 12کروڑ روپے کی فراہمی کرائی ہے ليکن منصوبے ميں غير معمولی تاخير کا ذمہ دار صوبائی حکومت ہے جو اپنی ذمہ دارياں پوریکرنے ميں ناکام ہے۔ انہوں نے کہاکہ وه سياست ميں جهوڻے دعوے کرنے اور سياسی حريفوں کو نيچا ديکهانے کے لئے اوچهے ہتهکنڈے استعمال کرنے پر يقين نہيں رکهتے اور انہيں اس بات پر يقين ہے کہعوامی نمائندوں کی کارکردگی کا بہترين جج چترال کے عوام ہی ہيں۔

Print Friendly, PDF & Email