51

نوالیگ پر دَورِ ابتلاء۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدرپر فردِ جرم عائد ہوچکی۔ احتساب عدالت انتہائی تیزی کے ساتھ اِس ریفرنس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے رواں دواں ہے ۔کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُسے بہرحال 19 مارچ 2018ء سے پہلے ریفرنس کا فیصلہ کرنا ہے،اِس لیے احتساب عدالت چھوٹی موٹی قانونی موشگافیوں کو خاطر میں نہیں لا رہی۔ طلال چودھری کہتے ہیں ’’نامکمل ریفرنس پر فردِ جرم عائد نہیں ہو سکتی‘‘۔ بھائی ! کبھی آپ نے سُنا یا پڑھا کہ اقامہ پر کسی ایسے وزیرِاعظم کو نااہل قرار دے دیا جائے جو پاکستان کی تاریخ کا واحد تین بار کا منتخب وزیرِاعظم ہو؟۔ یہ پاکستان ہے اور یہاں زورآوروں کا حُسنِ کرشمہ ساز جو چاہے کر سکتا ہے۔ میاں نوازشریف کی نااہلی تو ہو چکی ،اب سوال تو یہ ہے کہ کیا نوازلیگ اپنے وجود کو بچا بھی پائے گی یا نہیں۔ بظاہریہی نظر آ رہا ہے کہ زورآور صرف شریف خاندان ہی نہیں ،پوری نوازلیگ کو ہی سیاسی منظر نامے سے ’’آؤٹ‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُس پر چاروں طرف سے یلغار کی سی کیفیت ہے اور میاں نوازشریف ’’چَومُکھی‘‘ لڑائی لڑ رہے ہیں۔
باوجودیکہ ڈی جی آئی ایس پی آر دوٹوک کہہ چکے کہ ملک میں مارشل لاء آئے گا نہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت لیکن ٹیکنوکریٹس حکومت کی سرگوشیاں اب بھی پاکستان کی فضاؤں کو مسموم کر رہی ہیں۔ ہمارے تجزیہ نگار اپنے ارسطوانہ تجزیوں میں قومی حکومت کی ضرورت پر اپنا سارا زور صرف کر رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تجزیہ نگاروں نے اپنا اپنا قبلہ اور اپنا اپنا کعبہ منتخب کر رکھا ہے۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ کسی تجزیہ نگار کا نام سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کِس سیاسی جماعت کی بولی بولے گا۔ پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کی شدید ترین خواہش ہے کہ نوازلیگ کی حکومت کو مارچ 2018ء سے پہلے گھر بھیج دیا جائے تاکہ وہ مارچ میں منعقد ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کر سکے لیکن چونکہ فی الحال مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں،اِس لیے سارا زور قومی حکومت پر صرف کیا جا رہا ہے۔ میاں نوازشریف کا ایک دفعہ پھر مسلم لیگ نون کی قیادت سنبھالنا دیگر سیاسی جماعتوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا،اِس لیے دیگر جماعتیں آگ اُگلتے ہوئے طنز کے تیر برسا رہی ہیں۔ محترم عمران خاں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ نااہل ہو گئے تو تحریکِ انصاف کی قیادت چھوڑ کر خاموشی سے گھر چلے جائیں گے ،یہ نہیں کہیں گے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ کپتان صاحب کے ماضی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ نااہلی کی صورت میں بھی وہ ’’یوٹرن‘‘ لے لیں گے کیونکہ یوٹرن لینے میں اُنہیں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔
بلاول زرداری کہتے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خاں بھی اصغر خاں بن کر منصّۂ شہود سے غائب ہو جائیں گے۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے اور ہم اپنے کئی کالموں میں اِس کا ذکر بھی کر چکے ہیں۔ سوال مگر یہ کہ کیا عمران خاں کے اصغر خاں بن جانے سے پیپلزپارٹی برسرِاقتدارّ جائے گی؟۔ ہمیں وہی گھِسا پِٹا لطیفہ یاد آگیا کہ جاٹ کے بیٹے نے اپنے باپ سے پوچھا، ابّا ! اگر بادشاہ مر جائے تو پھر کون بادشاہ بنے گا؟‘‘۔ جاٹ نے جواب دیا ’’پُتّر ! بادشاہ کا بیٹا‘‘۔ بیٹے نے کہا ’’اگر وہ بھی مر جائے تو پھر؟‘‘۔ جاٹ نے کہا ’’پھر اُس کا بیٹا‘‘۔ جب جاٹ کے بیٹے نے چار، پانچ مرتبہ یہی سوال دہرایا تو جاٹ نے زچ ہو کر کہا ’’پُتّر! ساری دُنیا دے بادشاہ مَر جاون ،فیر وی جَٹ دا پُتر بادشاہ نئیں بن سکدا‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب پیپلزپارٹی کے لیے اقتدار سہانا خواب ہی رہے گا کیونکہ اُس میں اندرونی طور پر اتنی ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قصّّۂ پارینہ بنتی جائے گی۔ ویسے بھی سوائے قمر الزماں کائرہ کے پیپلزپارٹی کے سارے نامی گرامی ’’پہلوان‘‘ تو تحریکِ انصاف میں ’’پھُر‘‘ ہو چکے، شہیدوں کا’’ فیکٹر ‘‘ اب کام آنے سے رہا، تو پیپلز پارٹی کِس برتے پہ اقتدار کے خواب سجائے بیٹھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’زورآور‘‘ اب دینی جماعتوں کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں تاکہ اگر تمامتر کوششوں کے باوجود نوازلیگ متحد رہتی ہے تو کوئی تو ہو جو اُس کا مقابلہ کر سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں متحدہ مجلسِ عمل جیسا کوئی اتحاد وجود میں آنے والا ہے جو 2018ء کے انتخابات میں بھرپور حصّہ لے گا۔
ملین ڈالر سوال تو یہ ہے کہ کیا چاروں طرف سے گھری نوازلیگ اپنا وجود بچا پائے گی؟۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میاں نوازشریف کی پاکستان میں موجودگی (خواہ وہ جیل میں ہی کیوں نہ ہو) نوازلیگ کو متحد رکھے گی اور 2018ء کے انتخابات میں کامیابی بھی اُسی کے قدم چومے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے میاں صاحب 24 اکتوبر کو واپس آرہے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ پارٹی کو اُس کی اصلی حالت میں برقرار رکھنے ہی میں عافیت ہے۔ اُن کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’پنچھیوں‘‘ نے ’’چُر چُر‘‘ شروع کر دی اور پارٹی کے اندر سے یہ آوازیں اُٹھنے لگیں کہ میاں شہبازشریف کو قیادت سنبھال لینی چاہیے۔ رَدِ عمل میں یہ آوازیں بھی اُٹھنے لگیں کہ قیادت صرف میاں نوازشریف ہی کا حق ہے ،کسی اور کا نہیں۔یہ صورتِ حال بہرحال خطرناک ہے اور اِسی کا خاتمہ کرنے کے لیے میاں صاحب دیارِ غیر سے وطن لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں آنے والے وقتوں میں اگر قیادت میاں شہبازشریف کے سپرد کر دی جائے تو اِس میں کچھ ہرج نہیں کیونکہ چھوٹے میاں صاحب آج بھی بڑے میاں صاحب کو اپنے قائد اور باپ کا درجہ دیتے ہیں لیکن فی الحال ایسی کسی بھی کوشش سے پارٹی یقیناََ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ میاں شہباز شریف کی قیادت کا شور مچانے والے وہی لوگ ہیں جو 2008ء سے 2013ء کے دوران نوازلیگ میں شامل ہوئے ۔ اِن چڑھتے سورج کے پجاریوں کا کوئی سیاسی قِبلہ نہیں ہوتا۔ یہ ایسے پنچھی ہوتے ہیں جو ہواؤں کے رُخ پر ہی اُڑنا پسند کرتے ہیں۔ اِن میں ایک وفاقی وزیر ایسے بھی ہیں جو سات بار پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ’’شریف برادران‘‘ بھی خوب سمجھتے ہیں۔اِس لیے وہ اُن کی باتوں پہ کان نہیں دھریں گے۔ یہ لوگ تو میاں نوازشریف کی نااہلی کے ساتھ ہی ’’پھُر‘‘ ہو جاتے لیکن میاں صاحب نے جب تمامتر مخالفت کے باوجود بروقت جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور واپسی کا فیصلہ کیااور اِس چار روزہ سفر کے دوران جگہ جگہ اُن کا فقید المثال استقبال ہوا تو ’’پنچھی‘‘ وقتی طور پر کونوں کھدروں میں چھُپ گئے۔ میاں صاحب کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی یہ ایک دفعہ پھر دَم سادھ لیں گے لیکن ایسے ناسوروں سے چھٹکارا ہی بہتر ہے۔
میاں صاحب کے لیے اگر کوئی بات پریشان کُن ہو سکتی ہے تو وہ میاں شہباز شریف اور چودھری نثار علی خاں کی اختلافِ رائے ہے جس کی وجہ سے سخت گیر اور نرم گوشہ رکھنے والوں میں واضح تقسیم ہوچکی ہے۔ باوجودیکہ میاں شہبازشریف اور چودھری نثار علی خاں آج بھی میاں نوازشریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور وہ میاں صاحب کی سنگت چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اُن کی میاں صاحب کو نرم رویہ اپنانے کی تلقین ہی ’’پنچھیوں‘‘ کو شہ دینے کا سبب بنتی ہے۔ اِس لیے درمیانی راستہ نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email