200

گلگت سے کالا پانی تک۔۔۔تحریر: امیرجان حقانیؔ

آغازِسفر
یہ میری ایک افیشل میٹنگ تھی۔ احباب کے ساتھ محفوِگفتگو تھا کہ سیل فون رنگ رنگ بجنے لگا۔ کال ریسو کی تو ایک کڑک دار آواز میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ آج تین بجے(24-08-15)استور کا سفر ہے۔ احبابِ سفر میں آپ بھی شامل ہیں۔ تین دن کا سفر ہے۔ کالا پانی تک جانا ہے۔ مسجد کی افتتاح ہے۔ آپ اپنا سیاحتی ذوق بھی پورا کیجیے اور اس کارِخیر میں حصہ بھی لیجیے‘‘۔ کالا پانی کا نام سن کر میں شش پنج میں مبتلا ہوا کہ کیا پاکستان میں بھی کالا پانی ہے۔میں نے اپنے گھر میں فوری اطلاع کی کہ اسباب سفر تیار رکھے جائیں۔ استور راما کا ایک سفر پہلے بھی ہوچکا تھا تاہم اب کی بار سفر کافی لمبا تھا اس لیے لازمی سفری اسباب تیار کرکے چار بجے گلگت سے استور روانہ ہوئے۔یقیناًسفر مشقت کا باعث ہوتا ہے اس لیے میں سفری دعائیں ضرور پڑھتا ہوں۔ہر مسافر اور سیاح کو ارادہِ سفر کے وقت یہ دعا ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ دعا ترمذی شریف میں ہے۔’’زودک اللہ التقویٰ و غفر ذنبک ویسرلک الخیر حیثُ ماکنتَ‘‘۔اور سفر سے پہلے دو رکعت نماز سفر بھی پڑھنی چاہیے۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت و مروی ہے۔اور بھی بہت ساری دعائیں ہیں جن کا سفر میں اہتمام کیا جاتا ہے۔
ضلع استور کا طائرانہ جائزہ
استور گلگت بلتستان کا ایک نیا ضلع ہے۔ یعنی 2004ء میں ضلع دیامر سے الگ کرکے ضلع بنادیا گیا ہے۔ استور میں سینکڑوں وادیاں اور نالے ہیں، بہتے آبشار ہیں۔ جن میں مشہور وادیاں پریشنگ، گوری کوٹ، گدئی، میرملک، روپل اور کالا پانی شامل ہیں۔اور کئی ایک درے بھی ہیں جن میں برزل، شونٹر، چھچھورکھنڈاور چاچوک عالم وغیرہ سیاحوں کے لیے دلچسپی کے باعث ہیں۔۔استور ضلع کا نام ہے اور ’’استور‘‘ ضلع کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ ہمارے مضیف جناب وزیر اقبال بتارہے تھے کہ ہیڈکوارٹر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ کوریکوٹ اور استورعیدگاہ۔ ہیڈکوارٹر استور سطح سمندر سے 2400میٹر بلند ہے۔استورکا رقبہ(مربع کلومیٹر )8657 ہے۔گلگت اسمبلی میں ضلع استور کی دو نشستیں ہیں۔رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے یہ دو نشستیں ناکافی ہیں۔ کم از کم تین تو ہونی چاہیے۔کسی زمانے میں استور چین ، افغانستان اور کشمیر و ہندوستان کے لیے ایک اہم سرائے کی حیثیت رکھتا تھا۔اور استور میں گھومنے پھرنے سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔استور بونجی سے گریز تک پھیلا ہوا ایک وسیع علاقہ ہے۔تھلیچی کے کے ایچ سے استور روڈ شروع ہوتا ہے۔دریا سندھ کراس کرنے کے لیے ایک آرسی سی بریج بنائی گئی ہے۔ر ام گھاٹ پل بونجی کے ساتھ معلق ہے۔ وہاں سے باقاعدہ استور کی وادیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ہزاروں آبشاروں، ندی نالوں اور گلیشئرزسے بہتا پانی دریائے استور کی شکل میں پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہہ رہا ہے اور دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔رام گھاٹ پل کراس کرتے ہی رائٹ سائٹ پر پہاڑوں اور گھاٹیوں کے ساتھ لپٹی سڑک ایک سیاہ لکیر جیسی نظر�آ رہی ہے۔روڈ کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ٹریفک چلتی رہتی ہے۔گاڑیوں سے بھی ان گھاٹیوں کا نظارہ قابل دید ہے۔کہیں پہاڑ سے آتا پانی آبشاروں کی صورت میں سڑک کے آس پاس گرتا ہے اور ان آبشاروں کی پھوہاریں گاڑیوں اور مسافروں پرپڑتی ہیں تو عجیب سی کیفیت ہوجاتی ہے۔ زندگی میں ایک نئی لہر سی دوڑ تی ہے اور سفر کی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں۔ان آبادیوں میں مکانات، ایک ادھ دوکان اور پھلدار درختوں کے جھنڈ، جن پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے شگوفے ، آلو کے کھیت اور مکئی و گندم کے سبزے انتہائی جاذبِ نظر لگتے ہیں۔
احبابِ سفر اور کثرت ازدواج
ہمارے احبابِ سفر میں گلگت سے قاضی نثاراحمدصاحب، مولانا منیر، برادرم حماد اور دیگر محافظین و پولیس عملہ شامل تھا۔ جگلوٹ سے ہمارے ساتھ مفتی شفیع صاحب(خطیب قطر دوحہ) بھی مع فیملی رفیق سفر تھے۔جگلوٹ ان کے دولت کدے پر چائے نوش کی۔ اور فوری پابہ رکاب ہوئے ۔ نماز مغرب تھلیچی کی مسجد میں ادا کی جہاں ہماری ملاقات تھلیچی کی معروف عملیاتی شخصیت ’’موران‘‘ سے ہوئی۔ جو میرے دور کے دادا بھی لگتے ہیں۔عملیات میں انہیں یدطولیٰ حاصل ہے۔ چلتی گاڑی رکوادیتے ہیں۔نماز مغرب کے بعد ہماری گاڑیوں نے فراٹے بھرنے شروع کیے ۔ سیدھا استورہرچو جاکر رک گئیں۔استور ہرچو میں مفتی شفیع صاحب نے ایک مسجد اور مدرسہ بنوائی ہے۔ مدرسہ کے طلبہ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے تاہم ہمیں جلدی سے آگے نکلنا پڑا۔ تھلیچی سے مجھے مفتی شفیع صاحب کی معیت میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ بڑے ملنسار اور باذوق آدمی ہیں۔ 1992ء کو دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ دورہ حدیث کے پوزیشن ہولڈر ہیں۔ آ ج کل قطر دوحہ میں خطابت اور پاکستان ایمبیسی اسکول میں بطور لیکچراراصلاحی و تعلیمی فرائض انجام دے رہے ہیں اور گلگت بلتستان میں کئی دینی مکاتب کے معاون خاص ہیں۔ مفتی صاحب نے تین شادیاں کی ہیں جن سے دس اولاد ہیں۔ ہم نے بھی اپنی دیرینہ چاہت یعنی دوسری شادی کے حوالے سے ان سے گفتگو کی اور ضروری ٹپس لیے۔شادیوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مثنیٰ(دو)، ثلث(تین) اور ربع(چار)ٰ کے الفاظ نازل فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’ فانِکحوا ما طاب لکم مِن النِساءِ مثنیٰ وثلاث ورباع ،فاِن خِفتم الا تعدِلوا فواحِدۃ‘‘ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم(زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں امت وسط‘‘ قرار دیا ہے۔امتِ وسط کا لفظ اس قدر وسیع معنویت رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہ۔ ہمیں تو پوری انسانیت میں عدل قائم کرنے کا حکم ہے۔ شیخ القرآن مولانا طاہر صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ بدبخت ہوگا وہ انسان جو اپنی دو بیویوں کے درمیان عدل قائم نہ کرسکتا ہو‘‘۔تو میں کہتا ہوں کہ وہ خاک انسانیت میں عدل قائم کرے گا۔
سیاحتی و دفاعی حوالے سے استور کی اہمیت
تقریباً رات دس بجے ہم گوریکوٹ میں وزیراقبال کے دولت سرے میں پہنچ گئے۔ ہمارے کالا پانی تک کے مضیف وزیر اقبال ہیں۔یہاں استور کے سابق ممبر اسمبلی قاری عبدالحکیم صاحب، برادرم انجینئر نقشبر صاحب داریلی اور دیگر احباب شدت سے انتظار کررہے ہیں۔مہمانوں کو ایک خوبصورت مزین و مرصع گھر میں بٹھادیا گیا۔فرشی نشست ہے۔کھانے کا دور چلا، کئی قسم کے دیسی و بِدیسی کھانے پیش کیے گئے۔ جی بھر کر کھایا۔ قہوہ کا اپنا مزہ تھا،علاقائی حالات زیر بحث آئیے۔وزیر اقبال کے پاس گلگت بلتستان اور استور کے حوالے سے کثیر معلومات ہیں۔وہ انتہائی جذباتی ہوکر اپنے مہمانوں سے پوشیدہ جذبات شیئر کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ استور سیاحتی اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔استور کا روڈ وسیع اور کشادہ ہونے کے ساتھ ہر وقت کلیر ہوناچاہیے۔میں سوچ رہا تھا کہ دفاعی حوالے سے بلتستان سے زیادہ اہم اور سیاحتی حوالے سے ناران کاغان اور ہنزہ وغذر سے زیادہ دلچسپ اور جاذب النظر استور کویوں نظر انداز کرناکسی طور نیک شگون نہیں۔حکومت کے ساتھ استور کی عوام اور ممبران بھی برابر کے قصور وار ہیں کیونکہ یہ لوگ اجتماعی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے استور کے تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہے۔مجھے استوریوں کی یہ عادت ایک سیکنڈ نہیں بھاتی۔اگر یہ لوگ بھی بلتیوں کی طرح ایک قوم ہوکر سوچتے تو آج استور دنیا کے چند اہم سیاحتی مقامات کا روپ دھارتا۔
وزیر اقبال کا افسانوی گھر اور دھڑم خیل قبیلہ
وزیراقبال استور گوریکوٹ کے ہیں مگر ان کے پاس موجودہ نیشنلٹی سوئزر لینڈ کی ہے۔ انہوں نے شادی بھی سوئزر لینڈ سے کی ہے ۔ان کے دو بچے اور ایک بچی ہے۔ سوئس بینک کے ملازم ہیں۔ انتہائی ملنسار انسان ہے۔ان کی خصلتیں سوئس ہیں۔ مغرب کے کسی ملک میں عشرت کی زندگی گزارنے والے پہلے پاکستانی دیکھا جو پاکستان اور گلگت بلتستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ان کاگھر، صحن، مویشی خانہ، چھوٹا سا چڑیا گھر اور دیگر مصروفیات دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ان کے باغیچے میں ہری ہری باریک کونپلیں اور رنگ برنگ پھول، سبزیاں اور نایاب درخت اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ صاحب باذوق ہیں۔میٹھے سیب پک کرتیار ہیں۔ ہم نے جی بھر کر کھائے۔ وزیر اقبال کو ہر قسم کے نایاب جنگلی و پالتو جانور پالنے کا بے حد شوق ہے۔کئی قسم کے جانوراور پرندے ان کے گھر کا زینت بنے ہوئے ہیں۔ان کے لیے انتظامات بھی کمال کے کیے گئے ہیں۔وزیراقبال دھڑم خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ استور میں ہمیشہ حکومت اور نمبرداری دھڑم خیلوں کے پاس رہی ہے۔برٹش انڈیا کے دور میں دھڑم خیل قبیلے کو استور کی وزرات سونپی گئی تھے۔ وزیرروزی خان ہری سنگھ اور غلاب سنگھ کے استور میں وزیر تھے۔ یہ دونوں کشمیر کے مہاراجے تھے۔ آزادی کے بعد بھی استور کے اکثر ممبران گلگت اسمبلی بھی دھڑم خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستاان کی پہلی گورنر محترمہ شمع خالد مرحومہ بھی دھڑم خیل تھی۔ دھڑم خیلوں کا تعلق افغان قبیلوں سے بہت قریبی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ پٹھان قبیلوں کی ایک شاخ ہے۔
گوریکوٹ اور مضافات کا دوبینی نظارہ
وزیر اقبال کی بالاکونی سے استور گریکوٹ اور دیگر مضافاتی وادیوں کا منظر انتہائی صاف اور خوبصورت دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے ان کی جرمن میڈ دوربین(German made Telescope) سے پورے علاقے کی سیر کی۔ دور دور تک کا نظارہ کیا۔ کہیں بہتے پانی نظرآتے، کہیں برف کے بڑے بڑے تودے دکھائی دیتے۔فلک بوس چوٹیاں اور ان چوٹیوں کو ڈھانپتا ہوا برف ، برفافی تودوں کی کشش، گلیشئرز کا رعب کسی رومینٹک(Romantic ) منظر سے کم نہیں۔ پھر تا حد نگاہ پہاڑوں، وادیوں اور چٹانوں پر اُگ آنے والے پھول ،نیلے نیلے، اودے اودے ، پیلے پیلے بیل بوٹے گویا مکمل بہار کا سماں پیش کررہے ہیں۔دوربین سے تمام وادیوں اور گھاٹیوں کانظارہ کیا۔پہاڑی ٹیلوں اور سبزوں پر مارخور، برفانی چیتے ،برفانی لومڑی اور گیڈر وغیرہ چلتے دکھائی دے رہے تھے۔مجھے ایسا لگاکہ برفیلے پہاڑوں اور کھائیوں میں یہ جنگلی جانور بسیرا جمائے ہوئے سیاحوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں اور اس بات کی گواہی بھی کہ اللہ رب العزت اتنے سخت موسم اور حالات میں بھی اپنی مخلوقات کو زندہ وسلامت رکھتا ہے ۔فباء ی آلاء ربکما تکذبان۔
گوریکوٹ مسجد کا قضیہ اور قاضی کی سوچ
شیڈول کے مطابق ۲۵ اگست کو ہمیں سیدھا کالا پانی جانا ہے۔ تاہم قاضی صاحب کی گوریکوٹ آمد کی خبر پھیل چکی ہے ۔ ملاقاتیوں کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ کچھ لوگوں کے اہم مسائل ہیں جو قاضی صاحب کے سا تھ شیئر کررہے ہیں۔ استورگوریکوٹ کی جامع مسجد کا قضیہ بھی قاضی صاحب اور جج خورشید صاحب کے پاس ہے۔مسجد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے قاضی نثاراحمد نے کہا کہ’’ مجھے علاقے کا امن اور رواداری ہر اعتبار سے عزیز ہے۔ میری کوشش ہے ہوگی کہ اہل سنت کے دونوں دھڑوں میں ایک اچھا فیصلہ کروں اور ایک ایسا امام و خطیب کا تقرر کروں جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہوگا ۔ اس کی پہلی اور آخری ترجیح امن و سکون اور محبت و اخوت کا فروغ ہوگا اور علاقے میں دعوت دین وا شاعت توحید کا پرچار ہوگا۔ اور اس حوالے سے جج صاحب بھی مخلص ہیں۔ وہ بھی بھائی چارگی اور امن کے خواں ہیں‘‘۔
استور میںآرمی کی تعدی اور عوامی تویش
مجھے کدو کاوش اور جستجو کی فکر ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے۔اس لیے موقع پاتے ہی وزیر اقبال کو کریدنا شروع کیا۔وہ پہلے پاکستانی پھر استوری ہیں مگر کچھ اداروں کی ستم کاریوں پر سخت نالاں بھی ہیں۔ سویلین حکومت کی بے توجہی پر کڑھتے ہیں۔ وہ استور کو سوئزر لینڈ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس پلان بھی ہے مگر رفیقان کار نہیں۔انہیں سخت قلق ہے کہ چلم میں بارڈر بناکربند کردیا گیا ہے۔ چیک پوسٹ سے آگے سویلین کو جانے کی اجازت نہیں ، چیک پوسٹ سے آگے ہٹس (Huts)بنائے گئے ہیں جہاں آرمی آفیسرز اپنی فیملی سمیت سیر کو جاتے ہیں۔چلم میں چیک پوسٹ لگاکر عوام کو تنگ کرنا تُک ہی نہیں بنتا۔ان کا کہنا ہے کہ’’ رٹو اور دیگروادیوں میں ہزاروں کنال عوامی اراضی پرقبضہ جمانا دانشمندی نہیں ہے۔ کیا اسطرح دلوں کو فتح کیا جاسکتا ہے۔منی مگر میں بریگیڈ مِس (Brigade mess) دیکھ کرانسان کانپ جاتا ہے کہ کس طرح پاکستان کے ساتھ زیادتیاں کی جارہی ہیں‘‘۔ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ یہ باتیں سفر کی شیرینیوں میں کھٹاس پیدا کررہی ہیں۔خیر ہم نے تو آگے جانا تھا اور قدرت کی نیرنگیوں سے لطف اندوز ہونا تھا۔ سو چل دیے۔
راستے کی ایسی مفرح ساعتیں
دس بجے گوریکوٹ سے کالا پانی کے لیے روانہ ہوئے۔گوریکوٹ سے قافلہ بڑھتا گیا۔مجھے برادرم نقشبرکے ساتھ شریک سفر ہونا پڑا۔ مفتی ایوب(چیئرمین زکواۃ و عشرضلع استور) بھی ہمارے رفیق سفر ہوئے۔ قاضی صاحب ، قاری عبدالحکیم اور مولانا منیر ایک ساتھ بیٹھ گئے جبکہ وزیر اقبال اپنے لاؤولشکر سمیت اپنی ٹیوٹا میں پابہ رکاب ہوئے اور مفتی شفیع اپنی فیملی کے ساتھ محوخرام تھے۔گاڑیوں کا قافلہ چل پڑا۔ راستہ کالا پانی کا ہو، گاڑی لینڈکروزر ہو اور رفیقانِ سفرمیں انجینئر نقشبر جیسے باذوق ، ملنسار، آزاد طبع، علاقائی روایات، ثقافت، تاریخ اور ویلی ویلی سے آگاہ اور فرد فردسے واقف انسان ہو اور اس پر مستزاد مفتی ایوب جیسا معتدل مزاج شخص کی معیت ہو، ڈولتی گاڑی میں حمدیہ کلام، نعت، ملی نغمے اور دیسی ترانے مسلسل چل رہے ہوں توسوز و گداز کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور’’ سوختہ دل‘‘ فریفتگی وآشفتہ سری کی وادی سے نکل کر مسرت و آسودگی اور لذت وفرحت کے باغِ رضوان میں چہل قدمی کررہا ہوتا ہے۔ایسی مفرح ساعتیں کبھی کبھی نصیب ہوا کرتیں ہیں۔’’ریختہ دل ‘‘ آشفتہ نوائی سے باز آجاتا ہے۔. ایسے لمحات میں اگر مِسمریزم (Mesmerism)کا کوئی ماہر ساتھ ہو تو درونِ خانہ دل کے تمام پوشیدہ رازوں کو معلوم کرکے خوب محظوظ ہوسکتا ہے۔پھر قافلے میں قاضی نثاراحمد جیسا متقی اور بے باک لیڈر، قاری عبدالحکیم جیسا مدبر، مولانا منیر جیساخوش مزاج،مفتی شفیع جیسا’’ ماہرِ ازدواج وازواج‘‘ اور برادرم وزیر اقبال جیسا مہمان نواز اور مہذب انسان ہوں تودل کے نہاں خانوں میں سَرو ش غیب سے پیغام آتا ہے کہ تم سُورگ سے نکل کربہشت میں گھوم رہے ہو۔تو پھر مجھے یاد آتا ہے کہ ’’ اے کمبخت انسان ! تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگئے‘‘۔
تحصیل شونٹر کے مناظر اور سڑک کے کُلی
استور کی دو تحصیلیں ہیں۔ایک تحصیل استور اور دوسری تحصیل کا نام شونٹر ہے۔ شونٹر پل کراس کرتے ہیں دو راستے ہیں ایک شونٹر سے ہوتے ہوئے بائیں جانب چلم اور دوسائی سے ہوتے ہوئے اسکردو جانکلتا ہے جبکہ دوسرا روڈ رٹو کی طرف جاتا ہے۔ ہمارا سفر بھی رٹو روڈ سے ہوتے ہوئے کالاپانی تک تھا۔ شونٹر سے متصل ایک گاؤں ’’بولشربر‘‘ نامی ہے۔ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پورے استور میں اس گاؤں میں بہنے والے نالے کا پانی شفاف ہے۔ ٹراؤٹ مچھلیاں ہیں۔ میں نے خود مشاہد ہ کیا تو نالے کا پانی بہت شفاف اور دودھ جیسی رنگت کا ہے۔ بہتے نالے کے ساتھ فشریز کی فارم بھی دکھائی دے رہی تھی۔اس کے بعد پریجوٹ نام کا ایک خوبصورت گاؤں نظرنواز ہوتا ہے۔ رٹو جاتے ہوئے راستے میں چورت کا نالہ آتا ہے۔ چورت نانگا پربت کے دامن میں واقع ہے۔ چورت نالے سے بہنے والا پانی بہت ہی گدلا ہے۔ جبکہ رٹو سے آنے والا پانی بہت شفاف ہے۔ دونوں کا ملاپ بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔جیسے حور کے ساتھ لنگور کے امتزاج سے جو کیفیت رونما ہوتی ہے۔رٹو جاتے ہوئے رام پور گاؤں آتا ہے جس کو لنک روڈ جاتا ہے ۔ اور شوگام گاؤں تو اپنی رعنائی اور خوبصورت سے دل بھا لینے کے لیے تیار کھڑا ہے۔اور ہماری گاڑیاں سرپٹ دوڑ رہی ہیں جبکہ پیاربھرے مناظر باصرہ نواز ہورہے ہیں۔شوگام گاؤں میں برلب روڈ اسکول کے طلبہ والی بال کھیلنے میں مصروف ہیں جبکہ دائیں بائیں مکئی اور آلو کی فصلیں پک کر کسانوں کو کاٹنے کی دعوت عام دے رہی ہیں۔ شوگام کافی بڑا گاؤں ہے ، دو حصوں پر مشتمل ہے شوگام بالا اور شوگام پائین۔ کیا دیکھتا ہوں کہ انجینئر نقشبر گاڑی روک کر کسی کو سختی سے کہہ رہے ہیں کہ واٹرٹینک چلاکر لوگوں کو پانی دے دو ورنہ کل سے آپ کی ڈیوٹی روڈ کلی کی لگادونگا۔اور دوسری جانب سے ’’جی سر ‘‘کی آواز گونجتی ہے۔ میرے استفسار پر بتایا کہ شونٹر سے لے کر کالا پانی کے آخر تک روڈ کی مینٹیننس(Maintenance ) اور واٹر سپلائی کی ذمہ داری میری ہے۔ اور پھر پورے سفر میں روڈ کلیوں کو کھڑے کھڑے جھڑکتے رہے مگر ان کی جھڑکیوں کا کوئی برا ہی نہیں مناتا۔ وہ ہر بستی میں گاڑی روکتے ۔ لوگ ان سے ملتے ۔ اور اگلے دنوں کے ہدایات لے کر چل نکلتے۔عجب آفیسر ہیں۔ ہر مستقل اور ڈیلی ویجیز پر کام کرنے والے کُلی کے نام اور گاؤں سے واقف ہیں اور کام چوروں کی بری خصلتوں سے بھی آگاہ ہیں۔ محنت کشوں کو شاباش دیتے ہیں جبکہ نوسربازوں کو ڈپٹتے ہیں اور سخت سرزنش کرتے ہیں۔ شوگام کے ساتھ ناصر آباد ہے جس کا بالائی منظر بہت ہی پیارا ہے۔ سنا ہے کہ یہ علاقہ بدعات اور خرافات آماجگاہ ہے۔
رٹو آرمی پبلک اور سنوں اسکول اور کیڈیٹ کالج ڈرنگ
میرے سامنے استور کا مشہور گاؤں رٹو ہے۔ رٹو سے دائیں جانب میر ملک وادی کی طرف سڑک جاتی ہے جبکہ بائیں جانب کالا پانی کا راستہ ہے۔میرملک اور کالا پانی کے نالوں کے پانی کے ملاپ سے ایک چھوٹاسا دریا بن جاتا ہے۔یہ دو دریائی نالوں کے پانی کاایک حسین سنگم ہے جومعشوقانہ ادا پیش کررہا ہے۔ رٹو میںآرمی پبلک سکول ہے اور فوجی آفیسروں کے لیے ٹریننگ کا ایک اسکول بھی ہے اسکا نام (Army altitude school Rattu) ہے۔استور ی لوگ اسے آرمی سنوں اسکول سے یاد کرتے ہیں۔ رٹو میں آرمی نے چار ہزارکنال زمین بغیر معاوضہ(Compensation )کے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ جس سے لوگ سخت خفا ہیں اور نجی محفلوں میں خفگی کے ساتھ تذکرے کرتے ہیں۔لیکن مجھے یہ خیال باربار آتا ہے کہ آرمی جس جگہ میں بسیرا کرتی ہے وہاں بہت ساری سکیمیں لے آتی ہے جس سے لازمی طور پر مقامی لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں۔ کئی ادارے بنتے ہیں اور روڈ پانی اور بجلی کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل ہوتے ہیں اور پورا ایریا کمرشل بن جاتا ہے۔آرمی کی موجودگی پراگر مثبت نتائج پر نظر رکھی جائے تو اہلیان رٹو کو آرمی کی اس مقبوضبگی پر نالاں ہونے کے بجائے شاداں ہونا چاہیے۔بیشک کچھ سائٹس ایفکٹس ضرور ہیں فوائد بہر صورت کثیر ہوتے ہیں۔آپ دیامر کی مثال لیجیے ! دیامر میں کیڈٹ کالج بننی تھی اور 2012ء کو مکمل ہونی تھی تاہم چلاس کے چند وڈیروں کی انا پرستی کی وجہ سے نہ بن سکی۔ چلاس سٹی میں کالج کے لیے زمین نہ ملی، حکومت نے تھک داس میں بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے مگر اہلیان تھک و نیاٹ نے مکمل عاقبت نااندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے کالج بننے نہیں دیا ۔ افتتاحی اسٹیج گردایا ۔ اسی دوران مجسٹریٹ تنویر احمد کی کاؤشوں سے گوہرآباد کے علماء و عمائدین نے کیڈیٹ کالج کی تعمیر کے لیے ڈرنگ داس میں ہزار کنال زمین فری آف کاسٹ دینے کی آفر کی۔ تب ڈرنگ داس میں کالج بنانے کا م شروع ہو۔اس کے فوائد اور معاشی، تعلیمی و سماجی اثرات و فوائد پر الگ تحریر کی ضرورت ہے تاہم میں گوہرآباد کے علماء وعمائدین سے اتنا ضرور کہونگا کہ جس جگہ میں کیڈیٹ کالج کو ہزار کنال فری زمین دی ہے وہاں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دیامر کیمپس کے لیے بھی فوری زمین دینے کی آفر کریں، اور ایک مناسب جگہ دینی دارالعلوم بنانے کے لیے بھی وقف کرلیں اور ساتھ ہی افواج پاکستان کی ڈیمانڈ کے مطابق تین چار سو کنال انہیں بھی عطا کیجیے۔افواج پاکستان سے طے کرلیں کہ وہ اس ایریا کو وی آئی پی کینٹ ایریا بنائیں گے۔ ہر حال میں آرمی پبلک اسکول اور سی ایم ایچ ہسپتال بنوائیں گے۔اور سول نوکریوں میں گوہرآباد کا مخصوص کوٹہ ہو۔آرمی موجود ہوگی تو امن کا ہونایقینی ہے۔ ان کی موجودگی میں ہر ایر گیرا ماحول خراب نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایریاگلگت جوٹیال سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اہلیان دیامر و گوہرآبادکی معاشی صورت حال یکسر بدل سکتی ہے۔ مگر دکھ اس بات کا ہے کہ خدا کی زمین کو اپنی زمین سمجھنے والے لٹیروں نے ڈرنگ کیڈیٹ کالج کے کام رکوانے کی ٹھان لی ہے اور عدالتوں میں جاگُھسے ہیں۔میں اتنا ضرور کہونگا کہ خدا کی زمین مخلوقات خد ا پر تنگ کرنے والوں کے لیے اللہ کا فرمان ہے۔ ’’ ان عذابی لشدید‘‘
گھاس کٹائی، عورت اور گدھا اور این جی اوز
رٹو میں لوگ گھاس سنبھالنے میں مصروف ہیں۔ ٹریکٹرز، گدھوں اور انسان سوکھی گھاس کھیتوں اور سبزہ زاروں سے محفوظ مقامات کو منتقل کررہے ہیں۔گھاس کٹائی کا موسم ہے ۔ سوکھی گھاس کے حوالے سے استور خود کفیل ہے۔ سب سے زیادہ گھاس استور میں کاٹی اور جمع کی جاتی ہے۔ آٹھ ماہ تک جانوروں کو یہی سوکھی گھاس کھلائی جاتی ہے۔ عورتیں ایک مخصوص انداز میں گھاس کاٹتی ہیں۔ کم از کم نواردوں کے لیے ان کی ’’گھاس کٹائی‘‘ کا یہ عمل خوش گوار حیرت کا سبب بنتا ہے۔ میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ استور میں عورت اور گدھا سب سے مظلوم ہے۔ کیوں کہ ان دونوں سے سخت مشقت لی جاتی ہے۔ اگر میں اسے جبری مشقت کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم انسانی حقوق کے علمبردار ، حقوق نسواں کا ڈھونڈورا پیٹنے والے این جی اوز اور حیوانات کے حقوق کا نام دے کر فنڈ بٹورنے والے انسان نما درندوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اور انجینئر نقشبر اور مفتی ایوب اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اِس دوغلے پن پر کڑھتے بھی ہیں۔
کالا پانی تک کے گاؤں اور پگڈنڈی پلیں
شونی گئی کی آرسی سی پل کراس کرنے کے بعد گاڑیاں روک لی گئی۔ احباب نے وضو بنالیے اور ہم نے بھی دریائے کالا پانی میں اتر کروضو بنانے کی ایکٹنگ کی اور اپنا تصویری شوق پورا کیا۔ یہاں سے کالا پانی کے چھوٹے بڑے گاؤں شروع ہوتے ہیں۔سڑک پہاڑوں سے ہوتے ہوئے چھوٹی چھوٹی وادیوں میں اتررہی ہے۔ سڑک کے دونوں طرف آبادیاں ہیں اور ان آبادیوں میں پھلدار درخت اور کھیت ہیں۔ کھیتوں میں گندم مکئی اور آلو اُگ آئیے ہیں اور چھوٹے چھوٹے پودے اور بیل بوٹے کھیتوں کی خاکی رنگت کو مائل بہ سبز کررہے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیاں گہرے سبز پتوں اور لذیذ پھلوں سے لدی ہوئی ہیں۔ ہر طرف ہریالی کا سماں بندھا ہوا ہے۔شونی گئی سے کالا پانی کے آخر تک دریا کے دونوں کناروں میں مختصر آبادیاں ہیں جن میں فقیر کوٹ،درلہ،کھمئی،شنکر گڑھ،سکمال،چیچڑی ،گشاٹ، اسپہ،اشاٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ گشاٹ آخری آبادی ہے جہاں لوگ سال کے بارہ مہینے رہتے ہیں۔ اس سے آگے کالا پانی کے آخر تک صرف موسم گرما میں لوگ بیل بکریوں لے جاتے ہیں۔دریا کے دو طرف آبادیوں کو ملانے کے لیے لکڑی کے تختوں اور آہنی رسیوں سے پل بنائے گئے ہیں۔ان پلوں پر گاڑی چڑھتی ہیں تو وہ بوجھ برداشت نہ کرکے جھول رہی ہوتی ہیں۔اور روڈ سائٹ پر جو پل ہیں ان میں کچھ آرسی سی ہیں اور اکثر بڑی بڑی لکڑیوں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔گاڑیاں ان پر چڑھتی ہیں تو خوف کے مارے پورا بدن کانپ جاتا ہے۔
شنکرگڑھ میں کی مسجد اور لہلہاتے کھیت
ہمارے قافلے کے احباب ایک وسیع گاؤں میں اترگئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مڈل اسکول کا بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ مسجد کے بورڈ پر لکھا ہوا ہے کہ ’’مسجد خدیجہؓ، شنکرگڑھ استور، زیرنگرانی جامعہ اسلامیہ نصرۃ الاسلام گلگت، بتعاون صدیقی ٹرسٹ کراچی‘‘۔ میرے دماغ کی اسکرین پرایک مظلوم عالم دین مولانا نذیراللہ خان ؒ کی تصویر گھومنے لگی۔کیا غضب کے انسان تھے کہ گلگت بلتستان کی دور دراز غریب علاقوں میں مسجدیں بنوائی ہے۔ہنزہ علی آباد کی مسجد قباء بھی دیکھ کر مولانا یاد�آئے تھے اور آج پھر سی ان کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔میں لٹرین کرنے دور کھیتوں میں نکل گیا۔ شنکرگڑھ کی آبادی بہت پیاری لگی۔ مدمقابل پار دریا ایک باریک درہ نما پہاڑی ہے جس کے قدرتی حسن اور سبزے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ دیر تک میں اس سبزے کے حسن میں کھوگیا۔بخدا ایسی حسین جگہوں میں مجھے حسین چہرے یاد آجاتے ہیں۔جن کی یادیں دل و دماغ سے وابستہ ہیں اور محو نہیں ہوتی۔شنکرگڑھ کی پوری وادی گندم اور آلو کے کھیتوں سے لہلہارہی ہے۔ہر طرف سبزہ اور جنگلی پھول ہیں۔دھوپ کی تمازت سے فصل پکنے کے آخری مراحل میں ہے۔ اور کہیں کہیں عورتیں گھاس کاٹ رہی ہیں اور لڑکے لڑکیاں پیٹھ پر لادے محفوظ مقامات تک گھاس لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پس منظر میں دیو ہیکل پہاڑ اپنے سروں پر برف کی سفید چادریں اوڑھے اپنی ہیبت دکھا رہے ہیں۔یہ نسبتاً ایک بڑی وادی ہے ۔ خوبصورت لباسوں میں ملبوس مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ مجھ جیسے چندسیاح بھی گھوم رہے ہیں۔بہتے پانی سے وضو بنالیا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا کہ قاضی صاحب نے فرمایا۔’’ میاں حقانیؔ ، یہ دیکھو، یہ مسجد ہماری جامعہ کے زیرنگرانی ہے، مولانا نذیراللہ صاحبؒ کے کمالات کا منہ بولتا ثبوت ہے‘‘۔میں نے عرض کیا کہ حضرت دیکھ چکا ہوں اور مسجد اور اس کے بورڈ کی تصویر بھی محفوظ کرلی ہے۔ دور رکعت نماز پڑھ لی اور تب دیکھا تو احباب میرے انتظار میں ہیں بتایا گیا کہ قاری عبدالحکیم کا آبائی گاؤں ہے۔ ان کے بھتیجے کے گھر چائے کی ضیافت ہے۔ یقیناًاتنی تھکاوٹ اور ٹھنڈک میں چائے کی چاہ مزید بڑھ جاتی ہے۔ سو چائے کے ساتھ سموسے ، چپس اور روسٹ سے پیٹ کی پوجا کی اور چل دیے۔
درلئی جھیل اوراور محبت کے پھول
درلہ گاؤں میں 2008ء کے سیلاب میں ایک جھیل بنی ہے۔ جس کا نام ’’درلئی جھیل‘‘ پڑ گیا ہے۔ اس کی لمبائی چار کلومیٹر تک ہے۔ ٹروٹ مچھلیوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔پانی کی رنگت نیلا بہ مائل سبز ہے۔ اس جھیل کے آس پاس گومئی گاؤں، اسپہ گاؤں اور دیگر چھوٹے چھوٹے گاؤں اپنی تما م تر کسمپرسی اور خوبصورتی کے ساتھ حکومت اور سیاحوں کو ندا دے رہے ہیں مگر کوئی ہے سننے والا…میری خواہش پر نقشبر نے جھیل کنارے گاڑی روک لی۔ جھیل کی نیلاہٹ کا روپ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ نظریں جھیل کے پانی پر گاڑھ لی اور دیر تک سوچتا رہا۔ جھیل کے شفاف پانیوں کی تہہ میں کوئی دکھائی دینے لگا۔ایک مہک، ایسی مہک جو مجھے ورطہِ حیرت میں ڈال رہی ہے۔انگشت بدنداں کھڑا ہوں۔ یہ محبت ہے۔ اور محبت کے پھول نظر آنے لگے مگر ان کی رنگت زرد ہے اور میری پہنچ سے باہر۔خوف محسوس ہونے لگا،میں اپنی آرزوؤں کی بلندیوں اور خواہشوں کی جھیلوں میں سرگرداں ہوں اور کوئی دور سے مجھ پر ہنس رہا ہے اور میری بے بسی پر طنز بھی کررہا ہے۔
آزادی سے پہلے کی سڑک
چیچڑی گاؤں سے آگے قمری تک وہی روڈ ہے جو قیام پاکستان سے پہلے بنایا گیا تھا۔ اب تک اس میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی ہے۔روڈ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ انجینئر نقشبر اپنی حد تک لوکل کُلی بھرتی کرکے روڈ مینٹین رکھنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں مگر یہ ناکافی ہے۔ ایک زبردست سکیم کی ضرورت ہے۔ تاکہ سیاحوں کی جنت کالا پانی دنیا کے لیے متعارف ہوجائے۔یہی روٹ تو ہے جس سے لوگ کشمیر جاملتے تھے۔ایاٹ سے کالا پانی تک تو پہاڑاور ان کی چوٹیاں بھی سبزے اور برف سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ ہے۔
بنگلہ ریسٹ ہاؤس اور گجروں کا قبرستان
کالا پانی کے راستے میں ’’بنگلہ ریسٹ ہاؤس‘‘ بھی ہے ۔ یہ ریسٹ ہاؤس پی ڈبلیو ڈی کے زیر انتظام تھا تاہم مقامی لوگوں نے گرادیا۔گرانے کی بظاہر کوئی علت معلوم نہ ہوسکی۔ اب ریسٹ ہاؤس کا ملبہ ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ ریسٹ ہاؤس کے ساتھ گجروں کا قبرستان ہے۔ گجربرادری کے لوگ موسم گرما میں اپنے مرحومین کہ یہی دفناتے ہیں۔ میں نے غور سے دیکھا تو کئی تازہ قبریں بھی نظرآنے لگی۔سڑک کے ساتھ ساتھ دریا بہتا ہے۔ سڑک انہی نشیب و فراز سے ہوتی پہاڑیوں اور گھاٹیوں کا سینہ چیرتی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔کہیں بلندی سے سڑک اترائی کی طرف جا رہی ہے۔اور کہیں اترائی سے بلندی کی طرف۔سبزوادیوں پر لپٹی سڑک کسی مہیب اژدھے کی طرح بل کھاتی گزر تی جارہی ہے۔اور ہم ڈولتے ہوئے منزل کی طرف رواں ہیں۔ ہمارے قافلے کی گاڑیاں ہم سے بہت آگے جاچکی ہیں۔ جبکہ ہم ہر ہریالی اور سبزے میں ’’پکچرنگ‘‘ کرتے جارہے ہیں اور برادرم نقشبر اپنے کُلیوں کو احکامات جاری کرتے ہیں۔ لامحالہ ہم لیٹ ہی ہونگے۔ان سبزوں میں ہزاروں آبشاریں ہیں۔ آبشاروں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے سینے پر مونگ دلتی یہ سٹرک محنت کشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونہ یہاں تک جدید مشنری کا پہنچنا محال ہے۔بہر صورت اللہ اللہ کرکے کالا پانی کے دامن میں واقع وزیر اقبال ہٹ(hut) پہنچ گئے۔

کالاپانی کے دامن کا جادوائی منظر
یہ دیکھو ! میرے سامنے کالا پانی کی چراگاہیں ایستادہ ہیں۔ تاحدنگاہ سبزہ ہی سبزہ ہے۔عصر کے وقت وزیراقبال ہٹس کے پاس پہنچ گئے۔ سامان سفر اتارلیے۔ گوریکوٹ استور سے وزیراقبال ہٹس تک 78کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ایک کپ چائے نوش کی۔ وضو ء بنانے سبزہ نمامیدان میں نکلے۔قارئین میں آپ کو وہی لے جانا چاہتا ہوں جہاں میں کھڑا ہوں۔
اٹھ کھڑا ہو۔
ہواؤں کے دوش وہی چلتے ہیں۔
آپ کشادہ سبزہ نما میدان میں ایک ٹیلے پر سکون سے پاؤں پھیلا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اگر آپ کے چہار جانب ایک کھلا سرسبز میدان ہو، میدان میں نالیوں کی صورت میں بہتا ٹھنڈا دودھیا پانی ہو، پانی کے کناروں پر میدان میں جا بجا اسٹریلوی نسل کی بھیڑیں،پنچابی بکریاں، دیسی گھوڑے، ہزاروی کچھر،استوری خوش گاؤ اور یاک، دیسی گائیں چر رہی ہوں۔
میدان کے عقب میں پہاڑیوں کے ڈھلوانوں پر ٹِکے چھوٹے چھوٹے ’’ شیلی‘‘ صنوبر(Junipers )کے جنگل ہوں۔اور برج پتر( Brich) کے درخت مزید خوبصورتی اور رنگینی کا سبب بن رہے ہوں۔
آبشاریں اور گلیشئرز دو قدم پر ہوں۔
بالکل سامنے نظر دوڑاؤ تو قاتل پہاڑ نانگا پربت کی چوٹی کا حسین نظارہ ہو۔
آگے دیکھو تو قمری کے پہاڑوں کی چوٹیاں ہوں اور نیلے آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتے گزر رہے ہوں۔
دھوپ ایسے کھِلتی ہو جیسے گلاب کے شگوفے، چاندنی کا غبار خیموں میں گھُستا ہو،سفید رنگت کے میلے کچیلے بچے ترچھی نگاہوں سے آپ کو دیکھ رہے ہوں۔
بکروالوں کی دوشیزائیں چادر کے اَوٹ سے آپ کی چال ڈھال کا جائزہ لیتے ہوئے آپ کی تفریح طبع کا سامان بن رہی ہوں۔
چار سو قسم کے پھولوں والی وادی کا ہر پھول الگ رنگت، خوشبو اورجسامت سے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
پھولوں اور جڑی بوٹیوں سے ٹکراتا پانی آپ کے نظام ہضم کو فعال بناتا ہے تو یقین جانیں!
آپ کالاپانی کے دامن میں میں کھڑے ہیں اور بہشت جیسے ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
جڑی بوٹیوں اور پھولوں کی اقسام
جو نشیب پہلے گلیشیرز نظر آتے تھے اب نالوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور یہی نالے دریاوں کا طفلی وجود ہے۔ اے ناداں انسان! پھر اپنے رب کے وجود کا کب تک انکارکرتا رہے گا۔’’ ماغرک بربک الکریم‘‘ تجھے تیرے رب سے کس نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ دیکھو!برف پوش پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانیں نظر آتی ہیں اور پانی رواں دکھائی دیتا ہے۔درخت، پودے نظر نہیں آتے مگر گھاس ،گل بوٹے، ہزاروں قسم کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں نے اور سبزے نے جنگل کو منگل بنا رکھا ہے۔استور کے ان سبزوں اور چراگاہوں سے 240قسم کی جڑی بوٹیوں کو ڈسکور کیا گیا ہے۔ اور تین سو سے زائد قسم کے پھول پائے جاتے ہیں۔ یہ تحقیق (Mountain and market biodiversity and business in Northern Pakistan )کی طرف سے حالیہ دنوں میں سامنے آگئی ہے۔ مزید کو منکشف کرنے پر کام جاری ہے۔
نایاب جڑی بوٹیوں کی زندگی خطرے میں
پنچاب، کشمیر اور ہزارہ ڈویژن سے سینکڑوں ’’بکروال‘‘ اپنی مال مویشاں اور بال بچے لے کر کالا پانی کے سبزہ زار چراگاہوں میں ڈھیرے جمائے نظرآرہے ہیں۔ ان کے ٹینٹ ہر نالہ اور سبزہ میں دکھائے دے رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات ان سے کچھ ٹیکس بھی وصول کرتا ہے تاہم استوریوں کی طرف سے بکروالوں کی آمد و رفت پر کسی قسم کی قدغن نہیں۔ شاید یہ آمد و رفت کا سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔آج کل یہ بکروال اور گجر لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ محکمہ ماحولیات و جنگلی حیات کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ استور کی ان خوبصورت وادیوں میں کئی ہزار قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ IUCN (the International Union for Conservation of Nature) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ استور کے ان مقامات میں دس جڑی بوٹیاں ایسی ہیں کہ جن کا وجود معدوم ہونے کو ہے۔ ان کی کٹائی پر پابندی عائد ہے تاہم بکروال اور دیگر لوگ ان کی غیرقانونی کٹائی کرکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔ مہدی شاہ حکومت نے پنچاب کے ایک بزنس مین میاں عادل محمود کو پانچ سال کے لیے ان نایاب اور دیگر جڑی بوٹیوں کو نکال کر لیجانے کی اجازت دی تھی تاہم لوکل کمیونٹی کی مداخلت سے چیف کورٹ نے اس اجازت نامے کو منسوخ کردیا۔ نرمادہ کے نام سے ایک جڑی بوٹی استور کے ان سبزہ زار علاقوں میں پائی جاتی ہے اور کچھ اہم جڑی بوٹیاں بھی ہیں جن کا وجود دنیا کے دیگر علاقوں میں معدوم ہوچکا ہے۔جی بی گورنمنٹ سے میری گزارش ہوگی کہ اس حوالے سے قانون سازی کرکے جڑی بوٹیوں کو محفوظ بنائے اور ان کے خرید و فروخت کو لیگالائز کرے۔ اور استور کو سیاحوں کی جنت بنالے۔
مسجد و مہمان خانے کی افتتاح ، تلاوت اور مختصر بیان
چائے نوشی اور نماز عصر کی آدائیگی کے بعد میزبان نے کہا کہ اب مسجد اور مہمان خانے کی جگہ دیکھی جائے تاکہ سنگ بنیاد رکھا جاسکے۔ ہم سب کی اپنی اپنی رائے تھی۔ تاہم قاضی صاحب کے ساتھ میزبان وزیر اقبال کی رائے پر سب نے صاد کیا۔
قاضی صاحب نے کہا کہ مسجد اور مہمان خانہ برلب روڈ ہوں۔
پھر وزیراقبال نے روڈ کے ساتھ وہ جگہ دکھائی جہاں سے گرم چشمہ نکلتا ہے اورساتھ ہی نالے کا شفاف پانی اپنی آب و تاب کے ساتھ بہتا ہے۔ جگہ مناسب ہے۔ گرم چشمہ، برابر میں بہتا نالے کا پانی، روڈ کا اتصال۔
شاید اس سے مناسب جگہ اس پورے ایریا میں کوئی نہیں ۔
حضرت قاضی صاحب نے مفتی شفیع صاحب سے کہا
’’ تلاوت قرآن سے آغاز کیجیے‘‘۔
مفتی صاحب نے انتہائی سریلی اور تجویدی لہجے میں ’’انمایعمر مساجد اللہ من آمن باللہ والیوم الآخر واقام الصلواۃ وآتی الزکوۃ ولم یخشی الااللہ‘‘ کی تلاوت کی۔
اتنی بلندیوں پر اس درد کے ساتھ تلاوت یقیناًفردوسی منظر ہے۔ قاضی صاحب نے کدال سے مسجد کی افتتاح کی۔ تمام مہمانوں نے کدال چلائی۔ میں بھی اپنے ناکارہ وجود کے ساتھ اس کارعظیم کا حصہ بنا۔ شاید یہی مغفرت کا سبب بننے۔ پھر حضرت قاضی صاحب نے ’’سنگ بنیاد‘‘ کا بنیاد پتھررکھ دیا اورمتصلاً آیات و حدیث کی روشنی میں متلو آیات مبارکہ کی مختصر مگر دل نشیں تشریح کی کہ بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ انہوں نے کہا’’پوری دنیا کی مسجد یں اللہ کے گھرہیں۔ اور تمام مساجد کعبۃ اللہ کی بیٹیاں یعنی بیت اللہ کی شاخیں ہیں۔ اس لئے مسجد کی تعمیر بہت بڑا کار ثواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جواللہ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں ایک بہترین گھر بناتا ہے اور مساجد کی تعمیر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ والیوم الااخر ۔ مسجدوں کو تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر۔ بحر حال مسجدوں کی تعمیر اسلا م میں محمود چیز ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ مسلمان اور مسجد کا گہرا تعلق ہے۔ مومن کا وجود ہی بغیر مسجد کے مشکل ہے۔ جہاں ایمان والے ہونگے وہاں مسجد ضرور ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، المومن فی المسجد کاالسمک فی الماء یعنی مومن مسجد میں ایسا ہے جیسے مچھلی پانی میں ۔مچھلی کی زندگی ہی پانی کے بغیر مشکل ہے۔ اگر کوئی مسلمان مسجد کے بغیر جی رہا ہے تو اس کی یہ زندگی اسلامی اور ایمانی زندگی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی حیوانی ہے۔ اس لحاظ سے مساجد کی تعمیر مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر تعمیر میں مبالغہ اور اس کی تزئین یعنی decoration منشا نبوت کے خلاف ہے۔ تاہم ضروری تزئین و آرائش اور لازمی سہولیات سے مزین کرنا حضرت عثمان غنیؓ کی سنت ہے۔ مسجد یں تو اللہ سے تعلق کو بڑھانے کے لئے ہیں۔ اور پھر مسجد کے ساتھ مسافر کھانا بنانا زیادہ افضل اور مناسب بات ہے۔‘‘
گل بوٹوں کی وادی میں رقت آمیز دعا
پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر ایک پرسوز دعا کروائی۔تمام احباب نے خدا سے مانگنے کے لیے ہاتھ بلند کردیے۔ میں نے بھی اجتماعی دعا میں ہاتھ اٹھائے۔ اور ساتھ ہی آنکھیں بھی آسمان کی طرف اٹھائی۔ کیا دیکھتا ہوں
بادلوں نے چوٹیوں کو گھیرا ڈالا ہوا ہے۔
قدرت چارسو بکھری پڑی ہے۔
پانی کے کنارے آسمان سے بارش کی پہلی بوند پڑی۔
دل نے گواہی دی کہ یہی تو دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی ہے۔
جب آپ کا دل و دماغ، جسم کا ایک ایک عضو یہ محسوس بلکہ یقین کررہا ہے کہ قدرت آپ کے ساتھ ہے تو پھر دعائیں قبول ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
دیر تک اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کرتا رہا۔ تب آمین یارب العالمین کی صدا گونج اٹھی۔
آنکھیں تر ہیں اور دل مسرور۔
آذان مغرب کی صدائیں پوری وادی میں گردش کرنے لگی۔
مسجد کی افتتاح شدہ جگہ پر پہلی باجماعت نماز ادا کی گئی۔
اللہ ایسی نمازوں کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
علی الصبح کے لطف اندوز مناظر
کالا پانی کے دامن میں اللہ اللہ کرکے رات گزری،نماز فجر کے بعد تمام احباب سیر کو نکلے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ’’ اس خوشگوار موسم میں جو ’’ واکنگ‘‘ کے لیے نہیں نکلے گا وہ بدقسمت ہوگا ‘‘باجوداس کے میں تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گیا پھر کافی دیر تک سوتا رہا۔تاہم جلد جاگا، سویرے کے موسم سے لطف اندوز ہوا۔صبح کا منظر بہت ہی پیارا ہے۔
میں باہر نکلا۔
وزیراقبال ہٹ کے سامنے ایک چھوٹے سے ٹیلے کے کنارے پڑے ہوئے ایک پتھر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔
ہلکی ہلکی ہوا چل رہی ہے اور ٹھنڈ کافی زیادہ ہے۔
سویٹر اور گرم ٹوپی پہلے ہی پہن رکھی مگر کسی اور اوڑھنی کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگی۔
احباب کالا پانی کے دامن میں پھیلے ہوئے ہیں۔ خواتین و حضرات کا ٹہلنا، اٹکھیلیاں کرنا، سرگوشیاں کرنا، ہاتھ ہلانا، قہقہے لگا نااور پھر دھیرے دھیرے گھوم پھر کر ہٹس کی طرف آنا یقیناًایک جادوائی منظر ہے۔
چارسو نظریں ڈوڑائیں تودھوپ کی تمازت سے برف کے تودے اور گلیشئرز پگل پگل کر چھوٹے چھوٹے پانی کے دھاروں کی شکل میں دریا میں مل رہے ہیں اوراپنی ہستی کو مٹا کر ابدیت حاصل کر رہے ہیں۔یہی معاملہ عشق کے ساتھ بھی ہے۔عشق ’’ میں‘‘ کو ختم کر کے خواہش وصال میں اپنے وجود سے بھی لاپروا ہو جاتا ہے اور جب خواہش وصل پوری ہوتی ہے تو عاشق کی اپنی ہستی فنا ہو جاتی ہے مگر وہ دوام پا جاتا ہے اور دنیا کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔
ہمارے قا فلے کے دو ساتھ بھائی اسلام اور ’’ٹارزن‘‘کالاپانی کے دامن سے نظر آنے والی چوٹی کے ٹاپ کی طرف نکلے ہیں اور مجھے ان کی واپسی کا شدت سے انتظار ہے۔جب وہ پہنچے تو پوچھنا شروع کیا۔ وہ کہنے لگے ان چوٹیوں کے اُس پر کئی بکروال ٹینٹ لگا کرفروکش ہیں ۔ یہاں سے بھی بڑے سبزے اور چراگاہیں تا حد نگاہ دکھائی دیتی ہیں اور ندی نالوں اور بہتے پانیوں۔بے شک ’’ فیہما عینان تجریان‘‘۔
وزیراقبال کے شاہکار ہٹس
وزیراقبال نے تین ہٹس (Huts)بنائیں۔ایک مال مویشی کے لیے جس میں تین سو بھیڑ بکریاں رکھنے کی گنجائش ہے۔سخت موسم میں ہیٹنگ (Heating) کا بندوبست ہے۔ دو چھوٹے ہٹس ہیں جن میں ایک مختصر فیملی ارام سے رہ سکتی۔ ایک ہٹ بالکل تمام سہولیات کے ساتھ تیار ہے جس میں ہم نے رات گزاری، اس ہٹ میں کورکمانڈر اور دیگر اعلیٰ سرکاری و فوجی آفیسران اپنی فیملی کے ساتھ رات گزار چکے ہیں۔میرے کہنے پر وزیراقبال نے اپنی گھڑی سے موسمیاتی معلومات لینے شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ کالا پانی کا یہ پھیلا دامن سطح سمندر سے 3500میٹر بلند ہے جوکہ 1200فٹ بنتا ہے۔موسم خوشگوار ہونے کی صورت میں نمی 662 جبکہ 18سینٹی گریڈ ہے۔
کالاپانی کے منابع آب پر
رات یہ طے ہوا تھا کہ کالاپانی کے راستے سے بارڈ کراس کرکے قمری جائیں گے اور منی مرگ سے ہوتے ہوئے دیوسائی ، چلم، دومیل اور دیگر وادیوں کی سیر کریں گے۔ تمام ساتھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ برادرم نقشبر کے حوصلے اور میرے اصرار پر قاضی صاحب نے فیصلہ صادر کردیا کہ ہر حال میں آگے جائیں گے۔ وزیر اقبال ہٹ سے ٹاپ چوٹی تک 6کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ہم نے چل دیے۔ٹاپ پر پہنچے پہنچتے رہ گئے۔ راستہ کافی دشوار ہے۔کچھ گاڑیاں آگے نکل نہیں سکتی ہیں روڈ پر بڑے بڑے پتھر گرے ہیں۔ تاہم ہم وہاں پہنچے جہاں ٹاپ ہے۔ پانیوں کا منبع ہے۔ برفافی تودے پگلتے دیکھا، اور ان تودوں پربیل بکریاں اور خوش گاؤخرامے خرامے ٹہلتے دیکھا۔ سیکورٹی احباب نے نشانہ بازی کی۔ ہم نے بھی شوق پورا کیا۔اور چل دیے۔
واپسی پر راما میں
واپسی پرپھر وہی خوبصورت مناظر ہمارے سامنے ہیں۔ سیدھا راما پہنچے۔ دوپہر کے کھانے کا انتظام برادرم انجیئنر نقشبر نے راما ریسٹ ہاؤس میں کیا تھا۔نماز ظہر راما چشمے میں پڑھا، راما کا میدان سطح سمندر سے تقریبا 3175 میٹر بلند ہے اور راما جھیل 3500 میٹر بلند ہے۔رام جھیل ٹروٹ مچھلیوں کا مسکن ہے۔ راما چشمے والے میدان دیر تک گھومتے رہے۔ پھر پی ڈبلیو ڈی کے راما ریسٹ ہاؤس میں کھانا تناول کیا۔ اور چائے نوشی کی اور سیدھا ہر چو پہنچے۔ استور جامع مسجد کے دروازے سے ہمارے مضیفین نے ہمیں رخصت کی اور ہم نے انہیں الوداع کہا۔ میں خیالوں کی دنیا میں ڈوب گیا۔ ڈوبتا چلا گیا۔ وہاں گیا جہاں سے واپسی ناممکن ہے تاہم ایک جھٹکے سے خیالی دنیا سے حقیقی دنیا میں پہنچ گیااور
ہرچو میں اترکر مسجدمیں نماز عصر ادا کی۔متصل مدرسہ میں مقامی معتبر ین کے ایک مختصر اجتماع سے قاضی صاحب نے گفتگو کی ۔ وہاں سے سیدھا گلگت چل دیے۔استور کے کالاپانی کے اس مختصر سفر کے بعد اتنا ضرور کہوں گا کہ
؂ ہے اپنی وضع میں یہ نرالی جہان سے
اتری زمیں پہ جس کی شبیہ آسماں سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں