59

نہ سمجھوگے تو مِٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو۔۔پروفیسررفعت مظہر

fff
یہ بھارتی وزیرِاعظم نریندرمودی بھی بڑی خاصے کی ئے ہیں۔اُن کے شیطانی ذہن نے نسلِ نَو کو گمراہ کرنے کے لیے تاریخی حقائق کومسخ کرتے ہوئے ستمبر 65ء میں اُٹھائی جانے والی ’’عظیم ہزیمت‘‘ کوعظیم فتح قراردے کر’’جشنِ عظیم فتح‘‘ کااعلان کردیا اورپورے بھارت میں اِس ’’عظیم فتح‘‘ کی گولڈن جوبلی تقریبات منانے کاحکم صادرفرما دیا ۔انتہاپسند ہندوتنظیموں کے نمائندہ نریندرمودی دراصل اپنی’’ لاف زنی‘‘ کے ہتھیارسے نسلِ نَوکو جنگی جنوں میں مبتلاء کرکے کسی سانحے کوجنم دیناچاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کا اعتدال پسندطبقہ اُن کی شدیدمخالفت کررہا ہیاور بھارت میں عام خیال یہی ہے کہ شاید نریندرمودی کی متعصبانہ پالیسیاں اور جنگی جنوں بھارت کووسط مدتی انتخاب کی طرف لے جائے کیونکہ بھارتی خوب جانتے ہیں کہ اگرپاکستان کے ساتھ جنگ چھڑی تویہ روایتی ہتھیاروں کی بجائے ایٹمی جنگ میں ڈھل جائے گی، وہ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ باطل کے سامنے سرنگوں ہونا پاکستانیوں کی سرشت میں سرے سے شامل ہی نہیں اور افواجِ پاکستان کی جرأت ،ہمت ،عزم اورحوصلے پربھارت توکیا پوری دنیا حیراں کہ یہ کِس ناحیے کے لوگ جن کی
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
اُنہیں کیا معلوم کہ یہ بستی تو ’’خُداکی بستی‘‘ ہے جس کے باشندوں کو بس ایک ہی سبق ازبَر کہ ’’شہیدکو مردہ مَت کہو ،وہ زندہ ہے اوراپنے رَبّ کے ہاں سے خوراک حاصل کررہا ہے البتہ تمہیں ادراک نہیں‘‘۔یہی وجہ ہے کہ طاغوت کی ہریلغار ناکام اوردینِ مبیں کے متوالے کامیاب وکامران۔ سچ تو یہی کہ
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دَورِ زماں ہمارا
اوروہ ’’کچھ بات‘‘ یہی کہ اِدھر’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعروں کی گونج میں جرّی جوان سَرپہ کفن باندھ کر نکلتے اور اُدھر فرشتے قطاراندر قطار نصرت کی نویدسناتے ،یہ اعلان کرتے میدانِ کارزار میں اترتے ہیں کہ’’جا ءَ الحق و زھق الباطل ، ان الباطل کان زھو قا ۔۔۔ سورۃ الاسر۱ ء : ۸۰‘‘(حق آگیااور باطل مِٹ گیا، تحقیق کہ باطل کومٹناہی تھا)۔یہی وہ جذبۂ حریت ہے جوہرمسلمان کے قلب وذہن کومسخر کرتے ہوئے یہ درسِ خودی دیتاہے کہ
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
’’ہندولالا‘‘ پہلے اپنے اندر یہ جذبہ توپیدا کرلے ،پھر جشنِ فتح بھی منالے ۔
ستمبر 65ء کی جنگ کے تاریخی حقائق کومودی صاحب جھٹلاسکتے ہیں نہ اُن کے حواری ۔حقیقت یہی کہ وہ واہگہ بارڈرہو یا چونڈہ ،کھیم کرن ہویا اکھنور ،فاضل کاہو یاراجستھان ،ہرجگہ بھارت کے حصے میں ہزیمت ہی آئی۔ اِس ہزیمت کابین ثبوت یہ کہ بھارت خودہی اپنے حلیف روس کے ذریعے جنگ بندی کی بھیک مانگنے اقوامِ متحدہ پہنچاجو معاہدہ تاشقندکی صورت میں سامنے آیاجس کے خلاف پاکستانی قوم کاردِعمل بھی تاریخ کا حصّہ ہے۔ ایسا پہلی بارنہیں ہواکہ بھارت نے جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کاسہارا لیاہو۔ اِس سے پہلے بھی بھارتی فوج کشمیرمیں ذلتوں کا سامناکر چکی۔ ہوایوں کہ قیامِ پاکستان کے وقت مہاراجہ کشمیرنے پاکستان سے الحاق کااعلان کیالیکن بعد میں بَدعہدی کرتے ہوئے اُس نے بھارت سے الحاق کااعلان کردیا جسے کشمیریوں نے ماننے سے انکارکر دیا ۔اُس وقت پاک فوج اِدھراُدھر بکھری ہوئی تھی اِس لیے کشمیری مجاہدین اورقبائلیوں نے مل کربھارتی فوج کاراستہ روکااور جب مجاہدین جموں اور سری نگرپر قبضہ کرنے ہی والے تھے تو بھارت واویلا کرتاہوا اقوامِ متحدہ پہنچ گیاجہاں امریکہ اورروس کی مدد سے کشمیرمیں ’’استصواب رائے ‘‘ کی شرط پر جنگ بندی کی قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوگیا ۔اِس قرارداد پربھارت کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہرلال نہرونے عمل درآمد کا اعلان بھی کیالیکن اُس ’’کشمیری پنڈت‘‘ کے مَن میں پہلے دِن سے ہی کھوٹ تھا اَس لیے اُس نے قرار دادپر عمل درآمد کی بجائے کشمیریوں پر ظلم وبربریت کے سارے دَروا کردیئے۔ جواہرلال نہرونے بخشی غلام محمدکی کٹھ پتلی وزارتِ عظمیٰ بناکر اتنے ظلم ڈھائے کہ انسانیت مُنہ چھپانے لگی ۔بھارتی وزیرِداخلہ لال بہادر شاستری نے بھی وحشت وبربریت کی انتہاکر دی(یہ وہی لال بہادرشاستری تھا جوبعد میں وزیرِاعظم بنااور معاہدہ تاشقند کے وقت واصلِ جہنم ہوا)۔کشمیریوں پر ستم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے لیکن وہ ڈٹے رہے اور بالآخر 8اگست 1965ء کواعلانِ بغاوت کرتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر میں ’’انقلابی کونسل‘‘ قائم کی جسے بھارت نے پاکستانی’’ حملہ آور‘‘قرار دے کرآزادکشمیر پرحملہ کردیا۔ یکم ستمبرکو پاک فوج نے جب جوابی کارروائی شروع کی اورمقبوضہ کشمیرمیں اندرتک گھُس گئی توبھارت نے 6ستمبر 65ء کی صبح غیراعلانیہ جنگ چھیڑدی ۔پاک فوج نے اپنے سے چھ گنابڑی طاقت کو نہ صرف ناکوں چنے چبوائے بلکہ واضح فتح بھی حاصل کی۔اِس 17 روزہ جنگ میں افواجِ پاکستان نے بھارت کے 130 ہوائی جہا زاور500 ٹینک تباہ کیے ۔7 ہزار فوجی واصلِ جہنم ہوئے اور 8 سو فوجی قیدی بنائے گئے ۔پاک بحریہ نے کوئی نقصان اٹھائے بغیر بھارت بحری جہاز فریگیٹ اور’’دوارکا ‘‘کابحری وفضائی اڈہ بھی تباہ کیا۔ 17 سو مربع میل علاقے پرقبضہ ،ڈھیروں گولہ وبارود ،امریکی اسلحہ ، توپیں ،گنیں اور 18 ٹینک بالکل درست حالت میں ہاتھ آئے جبکہ پاکستان کانقصان اِس سے کہیں کم بلکہ نہ ہونے کے برابرتھا ۔اگراسی کانام ’’فتح‘‘ ہے توپھر بھارت کوشرم سے ڈوب مرناچاہیے۔
کہے دیتے ہیں کہ ہم پُرامن قوم ہیں اور امن ہی ہماری اولین ترجیح ۔بھارتی اپنے انتہاپسند رہنماپر کان دھرنے کی بجائے اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں جن کے مطابق
شکتی بھی ، شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
لیکن اگر وہ کسی احمقانہ زعم میں مبتلاء ہیں توپھر
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں