85

ڈپٹی کمشنر چترال،صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخواہ،سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ ،محکمہ صحت کا عوام دروش کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک کا نوٹس لے۔صلاح الدین طوفان باغی

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)سماجی وسیاسی شخصیت صلاح الدین طوفان باغینے ایک اخباری بیان میں صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخواہ،سیکرٹری ہیلتھ ، ڈی جی ہیلتھ اور ڈپٹی کمشنر چترال سے محکمہ صحت کا عوام دروش کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دروش ہسپتال پہلے سے ہی مسائلستان ہے،دروش ہسپتال کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے پُرزور مطالبے پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے دروش ہسپتال کو ڈاکٹرز اور نرسز مہیاکرنے کا جو وعدہ کیا تھاوہ وعدہ بطریق احسن پورا کیا۔جس کا ہم نے اس وقت براہ راست اور میڈیا کے ذریعے شکریہ ادا کیا تھا۔لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز دروش ہسپتال آئے تھے لیکن 8مہینے ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے کے بعد پُراسرار طورپر ٹرانسفر کرکے چلے گئے۔جو کہ پی ٹی آئی انصاف والی حکومت جو کہ’’ سفارشات اور کرپشن کے سخت خلاف ہے‘‘کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ڈاکٹروں کی تبدیلی پر ڈی ایچ اوچترال،انتظامیہ صحت کے تمام زمہ داران وصوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔صلاح الدین طوفان نے دروش کے عوام کے طرف سے بھرپور اور پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دروش ہسپتال سے جتنے ڈاکٹرز ٹرانسفر کرکے چلے گئے ہیں اُنہیں فی الفور واپس بلائے جائیں یا ان کا کوئی متبادل بندوبست کیا جائے۔کیونکہ دروش ہسپتال پردو تحصیلوں کے مریضوں کا بہت بڑا بوجھ ہے جوکہ ان کو سنبھالنا دروش کے چند ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں۔صلاح الدین طوفان باغی نے ایک بار پھر چترال کے ڈپٹی کمشنر ارشاد سودھڑسے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام دروش کی نمائندگی کرتے ہوئے بھرپور کردار ادا کرکے اس مسئلے کاحل ڈھونڈے۔اُنہوں نے کہا کہ سڑکوں پر آنا،احتجاج کرنااور جلسہ جلوس کرنے کا ہماراشوق نہیں لیکن اگر دروش ہسپتال کا یہ اہم مسئلہ ہنگامی بنیادوں پر حل نہ ہواتو یہ سب کچھ کرنا ہماری مجبوری ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email