تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> انجمن ترقی کہوارچترال کے زیراہمتام چترال کے معروف شاعر ، ادیب اور مقبول صحافی تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی تقریب
Qashqar Lab

انجمن ترقی کہوارچترال کے زیراہمتام چترال کے معروف شاعر ، ادیب اور مقبول صحافی تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی تقریب

چترال ( محکم الدین ) چترال کے معروف شاعر ، ادیب اور مقبول صحافی تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس انجمن ترقی کھوار کے زیر انتظام مقامی ہوٹل میں ہفتے کے روز منعقد ہوا ۔ جس میں مرحوم کے بھائی حاجی محمد انور ، حاجی فخرالدین اُن کے فرزند ارجمند فہد احمد ، مہمانان خصوصی جبکہ ممتاز سنئیر ادیب اور سابق تحصیل ناظم چترال امیر خان میر صدر محفل تھے۔ انجمن ترقی کھوار کے صدر شہزادہ تنویرالملک سمیت بڑی تعداد میں انجمن کے ممبران اور مرحوم کے دوستوں و اقارب نے اس تعزیتی نشست میں شرکت کی ۔ عبدالولی خان عابد ، مولانگاہ نگاہ ، عنایت اللہ اسیر ، محمد عرفان عرفان ، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے مرحوم کی ادبی زندگی اور انجمن ترقی کھوار چترال کیلئے اُن کی ناقابل فراموش خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ شہزادہ حسام الملک گورنر دروش کی وفات کے بعد غلام عمر مر حوم نے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، محمد عرفان اور دیگر ادب دوست حضرات کے تعاون سے انجمن ترقی کھوارکے نام سے جس ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اُس کی آبیاری میں تاج محمد فگار نے ایسا کردار ادا کیا ۔ کہ اُس کی مثال ادب کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آپ نے ادب کے فروغ کیلئے اپنی ذات اور گھر بار سب کچھ قربان کیا ۔ آپ ہر شاعر اور ادیب کی دل وجان سے عزت کرتے تھے ۔ دور دراز کے ادبی دوستوں کی اپنے گھر میں مہمان نوازی کرتے ۔ اور اُن کی خدمت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے اور یہ خوبی جان جان آفرین کے سپرد کرنے تک اُن کے ساتھ رہی ۔ یہی صفت اُن کو ادب کی دُنیا میں ممتاز بناتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ تاج محمد فگار کو اس بات کا اتنا یقین تھا ۔ کہ دُنیا ساتھ رہنے والی نہیں ہے ۔ آپ نے ادب کی دُنیا میں مقامی ادبی دوستوں کے علاوہ پاکستان کے نامور ادیبوں اور قلمکاروں کی اپنی رہائشگاہ میں میزبانی کی۔ جس کی بدولت ملک کے نامور ادیب مستنسصر حسین تارڑ ، سلمہ اعوان ، ڈاکٹر ایلینا بشیر ، خاطر غزنوی جیسے بلند پایہ ادیب اور لکھاریوں نے اپنی تصنیفات میں تاج محمد فگار کی محبتوں کا تذکرہ اُن کو ہمیشہ کیلئے زندہ رکھا ۔ مقالہ نگاروں نے مرحوم کے شعری مجموعے ” مرگست اور دل فگار “میں اُن کے بلند خیالات پر بھی سیر حاصل روشنی ڈالی ۔ اور غزل اور نظم کی صورت میں اُن کے کلام کو نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ قرار دیا ۔ اور اُس پر تدبر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ مقالہ نگاروں نے تاج محمد فگار کی اچانک وفات پر چترال اور گلگت بلتستان کے شعراء کے صدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، کہ گلگت کے شعراء عبد الخالق تاج اور جمشید خان دُکھی نے نہ صرف فوری طور پر انجمن ترقی کھوار سے رابط کرکے افسوس کا اظہار کیا ۔ بلکہ ایک تعزیتی ریفرنس بھی منعقد کرکے مرحوم کی خدمات پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ صدر چترال پریس کلب ظہیرالدین نے مرحوم کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ۔ کہ مرحوم نے ایک سنئیر صحافی کی حیثیت سے چترال کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں کما حقہ اپنا کردار ادا کیا ۔ آپ صحافت کے اُستاد تھے ۔ اور ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ اُن کی خدمات ادب کے ساتھ ساتھ صحافت کیلئے بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ پروفیسر ظہورالحق دانش نے نظامت کے فرائض انجام دینے کے دوران مرحوم کے کئی اشعار پڑھے ۔ اور اُن کی یاد کو ترو تازہ کیا ۔ صدر انجمن شہزادہ تنویرالملک نے پروفیسر اسرارالدین کا لکھا ہوا مقالہ پیش کیا ۔ اس میں مرحوم کی پیدائش سے لے کر بچھڑنے تک کے 74سالوں کا احاطہ کیا گیا تھا ۔ جس میں اُن کی دیگر خوبیوں کے علاوہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ محبت اور خود پروفیسر کیلئے اُن کے دل میں ادب و احترام کی لازوال یادوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ ممتاز شعراء صالح ولی آزاد اور افضل اللہ افضل نے مرحوم کی یاد میں لکھے گئے مرثیے نذر محفل کئے ۔ جبکہ مرحوم کے قانونی بیٹے ( داماد ) عبدالحمید پاشا ڈائریکٹر جنرل انٹرئیر منسٹری اور میجر ( ر) سیف الاسلام نے آڈیو لنک کے ذریعے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد فگار کی بطور والد اور بطور دوست کردار پر روشنی ڈالی ۔ اور اُن کی شفقت و محبت کی لازوال یادوں کو اپنی زندگی کا اثاثہ قرار دیا ۔ مرحوم کے اکلوتے فرزند فہد احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اُنہیں اپنے والد کی زندگی اور دوستوں پر فخر ہے ۔ جو اُنہیں عزت اور ادب کے ساتھ یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر انجمن ترقی کھوار کے صدر اور ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ مہمان خصوصی حاجی انور نے ریفرنس کو ادب دوستی کی مثال قرار دیا ۔ جبکہ صدر محفل امیر خان میر نے کہا ۔ کہ چترال کے آب و گل میں یہ خوبی موجود ہے ۔ کہ خاندانی رشتے کے علاوہ بھی لوگ ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تاج محمد فگار سے میری محبت ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح تھا ۔ اُن کی وفات سے مجھے جو دُکھ پہنچاہے ۔ اُسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس قسم کے محافل ادب کے فروغ کا ذریعہ ہیں ۔ جنہیں جاری رکھا جانا چاہیے ۔

error: Content is protected !!