98

پرندہ لہو میں تَر۔۔ ۔۔۔احسان شہابیؔ

fff
شام کے کھانے کے بعد حفیظ نے یہ حکمِ نادر شاہی صادرکیاکہ آج کی سیر لبِ دریا ہو گی۔ حکم صادر کرنے کے بعد رائے پوچھنا حفیظ کی عادت نہیں ۔ اس لئے بلا چون چرا ہاں کر دی۔
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
چاندنی راتوں میں لبِ دریا فطرت کا حسن سر چڑھ کے بولتا ہے۔حفیظ اس حسن کا تماشا نہیں دیکھتا بلکہ اس میں گھل مل جاتا ہے۔ اس میں جذب ہو کر اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ منظر کو دیکھتا نہیں بیتتا ہے ۔جھاڑیوں سے دامن نہیں بچاتا ، پانی میں راستہ نہیں ڈھونڈتا ، شڑاپ شڑاپ ناک کی سیدھ میں آگے بڑھتا ہے۔ جہان دل چاہے بیٹھ جاتا ہے ۔ ۔۔۔جب بیٹھ جاتا ہے تو پھر
حضرت داغ جہان بیٹھ گئے ،بیٹھ گئے
یوں ہم گھٹنوں گھٹنوں بھیگ کر ایک خوص کے کنارے ڈھیر ہوگئے۔ یہاں دریا کا پاٹ وسیع ہے ، پانی پا یا ب ہے۔ آس پاس جھاڑیوں کے مہیب سائے ہیں ۔دریا ہلکی سی لرزندگی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
دریا کے شور کے ساتھ مینڈک سُر ملانے لگے ۔پانی پر چاندنی کی چادر پھیل گئی۔گیلی گیلی ریت کی ٹھنڈک کے ساتھ ہلکی ہلکی ہوا چلتی رہی۔ ۔۔۔۔حفیظ کی تپتی آنکھیں اور اس کا گول گول وجود اس منظر کو اپنے اندر کھینچنے لگا۔۔ حسبِ معمول حفیظ نے بڑے چاؤ سے سیگریٹ سلگایا اور دلچسپ باتوں کی پھلجڑیاں چھوڑنے لگا۔ ۔۔’’کوئی مجھے چھوٹی سی آرام دہ ناؤ میں سُلا کر اس سست خرام تالاب میں دھکیل دے۔ ہَوا کے ریشمی جھونکے لوریاں سنانے آئے۔ چاند ستاروں کی ہم نشینی یوں ہی قائم رہے۔اس نیلے آب گیر میں یہ چکر تا دمِ سحر چلتا رہے۔ صبح آفتاب کی آتشیں کرنیں مجھے جگانے آئے‘‘ اس لمحے الّو کی آواز گونجی حفیظ چونک کر کہنے لگا ’’ الّو کے پھٹے ہیں وہ لوگ جو ان خوبصورت تالابوں میں دہشت پھیلاتے ہیں ۔کور ذوق ، بے حسِ ، جمال ناشناس ، درندہ صفت ہیں وہ لوگ جو ان خوبصورت حوصوں کو صرف اس غایت پر بناتے ہیں کہ پرندے مار سکے‘‘
تم پرندے مار دے سرو صنوبر مار دے
تری مرضی جس کو دہشت گرد کہ کر مار دے
اس کو کیا حق ہے یہاں بارود کی بارش کر ے
اس کو کیا حق ہے میرے رنگے کبوتر مار دے
حفیظ درست کہ رہا تھا ۔بھلا پرندے مارنا بھی کوئی انسانوں کا کام ہے ۔۔۔؟ پرندے مارنے کی بات چھیڑ کر حفیظ نے اس رومانوی ماحول کو آزردہ کر دیا۔ میں نے بچپن میں ایک فاختہ مارا تھا ۔
صبح کا وقت تھا ۔فاختوں کا ایک ٹولہ میرے گاؤں کے گردو نواح کے درختوں میں آ کر منتشر ہو گیا تو گھات میں بیٹھے شکاریوں نے ان پر گولہ باری شروع کر دی۔فائر کی گرج بھرج سے میری آنکھ کھل گئی۔عجلت میں بندوق ہاتھ میں لے کر باہر نکلا ہی تھا کہ چند حواس باختہ فاختے میرے گھر کے نزدیک ہی آخروٹ کے درخت کے گرد بے چینی سے منڈلا نے لگیں ۔۔ جوں ہی ایک فاختہ ایک جھولتی ٹہنی پر بیٹھنے لگی میں نے شست باندھ کر گھوڑا دبا دیا۔ اگلے ہی لمحے فاختہ میرے سامنے نالی میں پھڑک رہی تھی۔میں نے اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں وہ کوفت اور درد دیکھا کہ ٓٓض ۔ ہماری گلی گوچوں میں یہ بارود کی بو دہشتگرد پھیلاتے ہیں۔۔۔ لیکن یہاں لبِ دریا اچھے بھلے لوگ پھیلاتے ہیں ۔ ہمارے سامنے جو وسیع و عریض مصنوعی تالاب تھے ان میں روز کئی بے زبان آبی پرندوں کے سینے چھلنی ہوتے تھے۔
آج بھی اس کا تصور کر کے میرا رواں رواں لرز اٹھتا ہے۔ ہمارے سامنے پھیلے ان وسیع و عریض تالابوں میں روز کئی بے زبان آبی پرندوں کے سینے چھلنی ہوتے ہیں ۔
یہ مہاجر پرندے چترال کو گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن یہاں کے انصار ان کی خوب آو بھگت کرتے ہیں ۔ ہر سال بڑے زور شور اور مشقت کے ساتھ ان سادہ لوح پرندوں کے قتلِ عام کے لئے ساماں کرتے ہیں ۔ زرِ کثیر خرچ کر کے دور دور سے پتھر ڈھو کر لاتے ہیں ۔ لبِ دریا بند ھ باند کر تالاب بناتے ہیں۔ اور اس پر مستزاد اڑتے پرندوں کو دھوکہ دینے کے لئے پلاسٹک کے ڈمی تالابوں پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان نقلی ہم جنسوں کو دیکھ کر پرندے بہت جلد اتر آتے ہیں اور بے حسوں کا لقمہ بن جاتے ہیں ۔
بے رحم شکاری صبح تڑکے مخصوص گرم لباس پہنتا ہے دستانے چڑھاتا ہے، مفلر سے چہرے کو ڈھانپتا ہے، بہت سارے چھرے دار کارتوس اور بندوق ساتھ لیتا ہے اور لمبی سی چھڑی ہاتھ میں اٹھا کر پالتو کتے کو پچکارتے ہوئے سوئے دریا نکلتاہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سومنات کی مندر پر چڑھائی کا ارادہ ہے۔۔ تالابوں کے ساتھ بنے بنکرزمیں گھات میں کر بیٹھ جاتاہے ۔۔۔۔۔۔تب غریب الوطن پرندے ان بظاہر حسین آبی قتل گاہوں میں اتر آتے ہیں اور گھات میں بیٹھے سنگدل شکاری جدید چھرے دار بندوق سے فائر کرتا ہے۔۔۔۔ اور پھر تالاب کا نیلگوں پانی ان بے گناہوں کے لہو میں رنگ جاتا ہے۔
فطرت لہو ترنگ ہے غافل نہ جل ترنگ
کچھ وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں کچھ مجروحیں رِستے زخموں کے ساتھ پھر اڑان بھرتے ہیں اور کسی چٹان پر گرکر مور و ملخ کا رزق بن جاتے ہیں ۔
آکر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
ظالم شکاری خوشی خوشی ان کو گھر لے جاکر پیٹ کی آگ بجھاتا ہے ۔۔۔۔۔پھر برسوں تک سینہ پھلا پھلا کر اس کارنامے کو سناتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس نے چند بے زبان پرندوں مارنے کا نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں برما کے محاذ پر جاپانی فوج کے ساتھ مڈبیڑ کا واقعہ سنارہا ہے۔۔۔۔۔
میں ان ہی خیالوں میں گم تھا کہ حفیظ اللہ امین جو میرے پہلو میں بیٹھے بولتے بولتے اب اونگنے والے تھے، ہاتھ کے اشارے سے واپسی کی خواہش ظاہر کی۔ہم جھاڑیوں میں بوجھل قدموں کیساتھ چلتے رہے۔۔۔الّو کی چیخ دور تک ہمارا پیچھا کرتی رہی خیالوں میں بے بس پرندے گرتے رہے ، پھڑکتے پھڑکتے ٹھنڈے ہوتے رہے۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں