تازہ ترین
Home >> مضامین >> نومولود ضلع !چند قابل غور خدشات ………. کریم اللہ
Qashqar Lab

نومولود ضلع !چند قابل غور خدشات ………. کریم اللہ

8نومبر 2017ء کو پولو گراؤنڈ چترال میں منعقد ہ جلسے میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اوروزیر اعلی کے پی پرویزخٹک کی جانب سے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں چترال کے طول عرص میں جوش وخروش کا منظر ہے، پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت اپنے جلسے کو شاندار بنانے کے لئے ایڑی چوڑی کا زور لگارہی ہیں۔ اگر سب ڈویژن مستوج کو ضلع کا درجہ دیا جاتا ہے کہ ساڑھے آٹھ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ علاقہ صوبے کا سب سے بڑاضلع بن سکتا ہے۔ گرچہ نئے ضلع کے قیام پر ہر جانب خوشی کے مناظر دکھائی دیتی ہے لیکن کہوار زبان کا ایک مقولہ ہے کہ ”بیردو کفانو سو خوشان قبروغذابار کیا خبار” کے مصداق عجلت اور سیاسی مفادات کے لئے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے سے آنے والے وقتوں میں اپر چترال / مستوج کے عوام کو شدید مشکلات پیش آسکتی ہے ۔ گزشتہ کم بیش ایک ماہ سے سوشل اورمین اسٹریم میڈیا میں نومولود ضلع کے نام پر اہالیان چترال گتھم گتھا ہیں ،کسی کو مستوج نام رکھنے کی فکر ستائے جارہی ہے تو کوئی اپر چترال نام کے لئے گلہ پھاڑ پھاڑ کر نعرہ لگا رہے ہیں۔ البتہ ہم میں سے کسی کو بھی یہ احساس نہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سیاسی مفادات کے لئے ضلع کے نام پر لولی پاپ دیتا ہے تو پھر آنے والے وقتوں میں علاقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ نئے ضلع کے نام پر لڑی جانے والی لڑائی اور شور وغوغا کی بجائے ہم سب سر جوڑ کر بیٹھ جاتے اورحکومت وسیاسی قیادت کو مثبت تجاویز پیش کرچکے ہوتے تو شاید ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہ ہوتی ۔ ایک ضلع میں ڈی سی، ڈی پی او، سیشن کورٹ، ڈی آر او سمیت 18سے زائد لائین ڈیپارٹمنٹ کام کرتے ہیں ۔غالبا سن 2009ء میں تورغر کو ضلع کا درجہ دیا گیا تھا لیکن تاحال وہاں ڈیپارٹمنٹس کاقیام عمل میں نہیں آیا یہی صورتحال کوہستان میں بننے والے د و اضلاع کی بھی ہے۔ اگر اپر چترال کو ضلع کا درجہ دیا جاتا ہے تو اداروں کے قیام اور انفراسٹریکچر کی تعمیر کے لئے دس سے پندرہ ارب روپے کی ضرورت ہیں ، 8سے 10ہزار ملازمین بھرتی کرنی ہوتی ہے ۔ 18لائین ڈیپارٹمنٹس کے لئے عمارتوں کی ضرورت ہوگی، ان سب کے لئے بجٹ درکار ہے جو فی الحال صوبائی حکومت کے پاس نہیں۔ ان لوازمات کو پورا کئے بنا سیاسی مقاصد کے لئے اپر چترال کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو اس سے عوام کو سہولت کے بجائے مزید مشکلات پیش آسکتی ہے ،جس کا آزالہ شاید اگلے کئی برسوں تک ممکن نہیں۔ اس لئے پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت بالخصوص سابق ضلعی صدر عبدالطیف کو اس سلسلے میں غور کرنا ہوگا اور اگر ان لوازمات کو پورے کئے بنا سب ڈویژن مستوج کو لولی پاپ ضلع کی شکل دی گئی تو اگلے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔

error: Content is protected !!