96

جنگلات کی بے دریغ کٹائی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا،عطاء اللہ

چترال ( نمایندہ ڈیلی چترال) ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ خیبر پختونخوا عطاء اللہ طورو نے کہاہے کہ سرکاری وسائل میں کرپشن ناقابل معافی اور ناقابل برداشت جرم ہے جس کی بیخ کنی کی حتی الوسع کوشش کی جائے گی اور صوبائی محکمہ انسداد بدعنوانی نے کرپٹ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے گرد گھیر ا تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں سیکرٹری لیول کے افسران بھی آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیئے گئے ہیں۔ منگل کے روز اپنے دورہ چترال کے موقع پر مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپنی تعیناتی کے ایک سال کے اندر انہوں نے چھ سو سے ذیادہ گرفتاریاں عمل میں لائیں۔اور 130کروڑ روپے کی ریکوری کی جبکہ اس سے قبل اسی مدت کے دوران صرف 24افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور چھ کروڑ روپے ریکور ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن معاشرے کو دیمک کی چاٹ کر اس کی اساس کو کمزور کررہی ہے اور اس لغنت کے خلاف میڈیا سمیت معاشرے کے تمام حساس طبقے طبل جنگ بجاتے ہوئے اس محکمے کا ساتھ دیں تاکہ قومی مجرموں کی نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جاسکے۔ عطاء اللہ طور و نے کہا کہ چترال ایک پسماندہ ضلع ہے اور اس کی ترقی کے لئے آنے والی فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا جبکہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا ۔ اورصوبائی حکومت نے اس سلسلے میں اپنی سنجیدگی کا پہلے ہی مظاہر ہ کرتے ہوئے سینئر فارسٹ افسران کو کرپشن کے الزام میں گھر بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کا محکمہ تمام سرکاری محکمہ جات کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے ہوئے عوام کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور خصوصاًسرکاری سکولوں سے غیر حاضرہونے والے اساتذہ اور استانیوں کا خاص نوٹس لیا جائے گاجن سے نئی نسل کا مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے اپنے دورہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ہسپتال کے اندر بد انتظامی اور صفائی کی فقدان کو دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی اور محکمے کے سرکل افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہسپتال کی کارکردگی میں بہتری کے بارے میں انہیں آگاہ کرتے رہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں