80

یورپ چیخ اُٹھا۔۔۔سید شاہد عباس کاظمی

fff
جو کام بڑی فوجی طاقتیں نہ کر پائیں ۔ وہ کام ایک تین سال کے بچے نے کر دیا۔ ایک تین سال کے بچے نے پورے یورپ کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کم و بیش پوری اسلامی دنیا اس وقت شورش کا شکار ہے۔ اس میں کچھ حصہ تو اغیار کا ہے اور بہت سارا حصہ ہمارا اپنا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ محدودے چند جو راہنما میسر آئے ان کو رہنے نہ دیا گیا۔ اور کٹھ پتلیاں ہمارے سروں پر مسلط کر دی گئیں۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ ہم نے خود ان کو اپنے سروں پر مسلط کر لیا گیا۔ پاکستان اس وقت عملی طور پر حالت جنگ میں ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں آپریشن نہ ہو رہا ہے۔ اور یہ حال دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت کا ہے۔ ملت اسلامیہ کا نگہبان سعودی عرب۔۔۔ ایک ہمسایہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف ہے۔ یمن حوثیوں کا ہے؟ ایرانیوں کا یا سعودیوں کا؟ یا پھر یمنیوں کا؟ اس بات پہ جنگ جاری ہے۔ مصر میں جمہوریت کے نام پہ سالوں سے مسلط آمریت کا خاتمہ ہوا تو جمہوریت کو دوبارہ سے آمرانہ لباس پہنا دیا گیا۔ مفادات کے تحفظ کے لیے مرسی رکاوٹ تھے۔ اردن میں بھی روشن خیال نگہبان ہیں۔ افریقی مسلمان ملکوں کو تو کبھی سر اٹھانے ہی نہیں دیا گیا۔ افغانستان کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ حالات سدھرنا شروع ہوئے تو 9/11گڑھ لیا گیا۔ ایران پر کھولنے کی کوشش میں لیکن کھولنے نہیں دیے جا رہے۔ صرف ملائشیااور ترکی واحد اسلامی ممالک نظر آتے ہیں جو کسی قدر بہتر حالت میں ہیں۔
پورے قصے میں مسلمان ممالک یورپی ممالک و امریکہ کے طفیلی خطے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ کبھی بھی یورپ کے موقف میں دراڑ نہیں ڈال سکے۔ لیکن اب شاید شادیانے بجانے کا وقت ہے پوری مسلم دنیا کے لیے وجہ یہ کہ مسلمان مہاجرین کے حوالے سے نہایت سخت موقف رکھنے والا یورپ موم ہونے کے قریب ہے۔ یہ کام ایک تین سالہ بچے نے کیا ہے۔۔۔۔ جی ہاں ایک تین سالہ ” ایلان کردی”(Aylan Kurdi) نے۔
لیکن ایک چھوٹا سا مسلہ ہے۔ یہ کام وہ اپنی حیات میں نہیں کر سکا۔ اس کی لاش نے یہ کام کیا ہے۔ تاریخ لکھی جائے گی کہ مسلمانوں کی لمبی قطار یورپ داخلے کی منتظر تھی۔ اور ” ایلان” کی لاش نے ان کے روشن مستقبل کے بند دروازے کھول دیے۔ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ مسلمان اپنی نسل کو امن نہیں دے پائے اور وہ ساحلوں پہ مر گئی۔
شام میں اس وقت خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ حیران کن طور پر عالمی دنیا باغیوں کو اسلحہ دے رہی ہے اور ہم خوش ہو رہے ہیں کہ بشار الاسد سے جان چھوٹے گی۔ عقل کی اندھی مسلم امہ یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ بشار الاسد کو ہٹانا ہے تو ہم کیوں نہ ہٹائیں۔ کیا ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اگر اس کی پالیسیاں غلط ہیں تو تمام مسلم ممالک مل کر اس کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں؟ لیکن ایسا ہم نہیں کریں گے۔ کیوں کہ ایلان شامی بچہ ہے بس۔
ایلان اپنے خاندان کے ساتھ شورش زدہ شام سے یورپ داخلے کی کوشش میں تھا۔ اسے تو شاید پتا بھی نہ ہو کہ شام اور یورپ میں فرق کیا ہے۔ کشتی بوجھ نہ اٹھا سکی۔ اور ہمت ہار گئی۔ ایلان ، اس کا بھائی غالب یا گلب(Gallip) اور اس کی ماں ریان لہروں کی نظر ہو گئے۔ ان کا باپ ایک بوسیدہ تختے کے سہارے ان کو ڈوبتے دیکھتا رہا۔ عبد اللہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ اور اس کا خاندان 12لوگوں کے ہمراہ سمندر میں گم ہو گیا۔ لہروں نے ایلان کی سانسیں روک دیں لیکن وہ اس کی معصومیت کو ختم نہ کر پائیں۔ لہروں پہ جھولتا ہوا تین سالہ ایلان کا لاشہ ترکی کے ساحلی مقام بودرم (Bodrum)پہ کیا آیا پوری دنیا میں گویا بھونچال سا آ گیا (پاکستان دنیا میں نہیں آتا اسی لیے یہاں کا سب سے اہم موضوع سیاسی چپقلش ہی رہی)۔ دنیا کے کروڑوں مہاجرین جو یورپی ممالک سمیت دوسرے ممالک کا رخ کرنے کے بے تاب ہیں ان کے لیے "ایلان” اب ایک ہیرو کی طرح ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ برطانوی میڈیا اپنے وزیر اعظم کے نام ایک درخواست دے چکا ہے۔ جس پہ چند لمحوں میں10ہزار لوگوں نے حمایت ثبت کی ۔ "انڈیپنڈنٹ” نے اس درخواست کا ذریعہ اپنے اداریے کو بنایا ہے جس کا عنوان” کسی کا بچہ” ہے۔ اس میں انہوں نے برطانوی وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ تارکین وطن کے بارے میں مطلوبہ اقدامات کے حوالے سے وہ اپنا حصہ ادا کریں۔ ایک اور برطانوی اخبار سن(SUN) نے وزیر اعظم کے نام صفحہ اول پر پیغام لکھا کہ وہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں زندگی اور موت کے بیچ جہدوجہد کرنے والوں کی مدد کریں۔ برطانیہ کے ہی اخبار ڈیلی میل نے معصوم ایلان کا خاکہ تقریباً ہر صفحے پر شائع کیا اس سرخی کے ساتھ "ایک انسانی المیے کا ننھا شکار”۔
ساحل پر موندھی ایلان کی لاش نے وہ کر دکھایا جو ایک عرصے سے نہیں ہو پایا۔ تارکین وطن پر سخت گیر موقف رکھنے والا یورپی میڈیا چیخ چیخ کر تارکین وطن کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے۔ انڈیپنڈنٹ نے ہی اپنے ایک اداریے میں لکھا کہ اگر ایلان کا ننھا لاشہ یورپ کا سخت موقف تارکین وطن کے حوالے سے تبدیل نہ کر سکا تو پھر کس چیز کی گنجائش رہ جاتی ہے۔
ایلان اپنے خاندان کے ساتھ بوسیدہ کشتی پر روشن مستقبل کی راہ پہ گامزن ہوا ۔ لیکن منزل پہ نہ پہنچ سکا۔ اس بد قسمت خاندان کا سربراہ ہی بچ پایا۔ ایلان کی لاش امت مسلمہ کے منہ پر ایک طمانچے کی صورت ہے جو اپنے لوگوں کو دنیا بھر کی دولت ہونے کے باوجود وہ معیار زندگی نہیں دے پا رہے کہ وہ دوسرے ممالک میں تیسرے درجے کے شہری بن کر رہنے کو بھی تیار ہیں۔ عالمی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں مسلم دنیا کے حکمران خواب غفلت سے شاید اس وقت جاگیں گے جب پوری امہ ساحلوں پہ مردہ ملے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں