69

دوست ممالک اور اداروں کے تعاون سے ہم صوبے میں بدا منی ، عدم تحفظ ، غربت اور بیروزگاری کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو ں گے۔عنایت اللہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال) خیبرپختونخواکے سینئر وزیر اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے صوبے کی ترقی اور اصلاحات کے عمل میں بھرپور تعاون پر جرمن ادارے جی آئی زی کے کردار کو سراہتے ہو ئے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اور سرکاری مشینری میں زیادہ سے زیادہ شفافیت لانے کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو ئے ہیں انکی بدولت نہ صرف صوبے کے عوام بلکہ بین الاقوامی برادری اور امدادی اداروں کا اعتماد بھی ہماری ترقیاتی پالیسیوں پر بحال ہوا ہے اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جرمنی سمیت دوست ممالک کے تعاون ، حکومت کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت غیر ملکی امداد کیلئے وضع کر دہ سٹرٹیجک ڈویلپمنٹ پارٹنر شپ فریم ورک کے آٹھ اہداف کا حصول بھی مزید تیز ہو گا جن میں صوبے میں پائیدار امن کا قیام، قانون کی بالادستی ، معاشی ترقی و روزگار کے مواقع میں اضافہ، بنیادی صحت ، تعلیم کا فروغ ، صنفی مساوات ، مالی وسائل میں اضافہ ، شفافیت و احتساب کے عمل کی مضبوطی اور حکومتی و ترقیاتی معاملات میں عوامی شرکت شامل ہیں وہ پشاور کے مقامی ہوٹل میں صوبے کے بلدیاتی امور میں تکنیکی معاونت سے متعلق جی آئی زی کے سبکدوش ہونے والے ٹیم لیڈر فلپ نیہنکی کے اعزاز میں تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے اس موقع پر پروگرام کی سربراہ کیتھرین ایزابیل فروہلنگ، نئے ٹیم لیڈر کرسچین کیفنزٹینر اور محکمہ بلدیات کے افسران نے بھی تبادلہ خیال کیا اور سبکدوش ٹیم لیڈر کی خدمات کو سراہنے کے علاوہ صوبائی حکومت کے ترقیاتی اہداف ، ترجیحات اور حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالی جی آئی زی حکام نے صوبائی حکومت کی شفافیت کی پالیسی اور کرپشن کے خلاف اقدامات کے علاوہ غیر ملکی امداد کا منصفانہ استعمال یقینی بنانے کیلئے ڈویلپمنٹ پارٹنر شپ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق کوششوں کو سراہا اُنہوں نے صوبائی حکومت کے انسانی فلاح و بہبود، خوشحالی اور اصلاحات و گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے اقدامات کی بطور خاص تعریف کرتے ہوئے ادارے کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور بتایا کہ صوبائی حکومت نے پوری دانشمندی سے ترقی کا رخ مادی اشیاء سے انسانی فلاح و بہبود اور خوشحالی کی طرف موڑ دیا ہے جو حقیقی ترقی کا پیش خیمہ ہے سینئر وزیر نے صوبائی حکومت کی ترقیاتی ترجیحات میں معاونت پر جی آئی زی سمیت تمام امدادی اداروں اور ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے شعبوں کی ترقی کے علاوہ ہم بلدیاتی نظام کو عوامی مسائل کے حل اور گلی محلہ کی سطح پر تعمیر و ترقی کی کنجی سمجھتے ہیں جس کیلئے ہم نے شروع دن سے تیاری کی پوری محنت سے ویلج کونسلوں تک وسائل اور اختیارات منتقل کرنے کیلئے جامع بلدیاتی نظام بنایا ہم نے صوبائی حکومت کے 30 فیصد سے زائد مالی وسائل بھی ضلع، تحصیل اور ویلج کونسلوں کو منتقل کئے اور اگر کسی کو شک ہو تو وہ ہمارے اور دوسرے صوبوں کے بلدیاتی قوانین دیکھ لیں تو صاف پتہ چلے گا کہ باقی صوبوں نے بلدیاتی نظام سے مذاق کیا ہے اب ہم نے نومنتخب بلدیاتی نمائندوں کی تربیت، انتظامی سہولیات اور میونسپل مشینری سمیت بنیادی ضروریات کیلئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا ہے جس میں امدادی ادروں کے تعاون کا خیرمقدم کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ بہتر پالیسیوں کی بدولت ہماری محصولات اور آمدن میں ٹیکس لگائے بغیر اضافہ ہوا ہے عنایت اللہ نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے دوست ممالک ہمیں درپیش چیلنجوں سے باخبر ہیں اور اس سلسلے میں معاونت کے خواہشمند ہیں اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تبدیلی اور اصلاحا ت کا جامع ایجنڈا شروع کیا ہے جس میں گڈ گورننس ، سرکاری اداروں کی خدمات میں بہتری ، احتساب و شفافیت ، حکومت اور عوام میں براہ راست روابط ، صوبے کے قدرتی وسائل سے بہتر استفادہ، ادارہ جاتی استحکام اور حکومت و امدادی اداروں اور ممالک کے مابین سود مند اور شفاف معاونت شامل ہیں انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ امدادی ادارے اپنی مشاورت اور یقین دہانیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے صوبائی حکومت سے فنی اور مالی معاملات میں بھر پور تعاون کریں گے تاکہ ہم صوبے میں ترقی کا عمل مزید تیز کرسکیں اور عوام بالخصوص غریب لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے قابل ہوں اُنہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اپنی شفاف مالی اور معاشی پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت امدادی اداروں اور بین الاقوامی برادری کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے کیونکہ ہم نے ان اقدامات کو قانونی تحفظ بھی مہیا کیا ہے جس کی بدولت امدادی اداروں کو یقین ہو گیا ہے کہ اُنکے عوام کے ٹیکس کا پیسہ یہاں شفاف اور منصفانہ انداز میں خرچ ہو گا او ر ماضی کی طرح حکمرانوں کی عیاشیوں اور لوٹ مار میں ضائع نہیں ہو گا اُنہوں نے کہا کہ دوست ممالک اور اداروں کے تعاون سے ہم صوبے میں بدا منی ، عدم تحفظ ، غربت اور بیروزگاری کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو ں گے اور یہاں معاشی خوشحالی ، انسانی فلاح و بہبود ، صحت و تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے علاوہ ہم اپنے عوام بالخصوص نوجوانوں کو انصاف اور ترقی کے مواقع دینے کے قابل بنیں گے جو حکومت کی اصل کامیابی ہو گی عنایت اللہ نے واضح کیا کہ ہم نے شہروں اور دیہات کی سطح پر سکول و ہسپتال سمیت تمام اداروں میں عملے کی حاضری اور سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کیا ہے جبکہ اعلیٰ افسران کو بھی اچانک دوروں اورسروس ڈیلیوری کے معیار پر مسلسل نظر رکھنے کا پابند بنایا ہے ہم نے تدریسی عملے کی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات کی مد میں پانچ کروڑ روپے رکھے جبکہ غیر حاضری اور تدریس میں عدم دلچسپی کے مرتکب اہلکاروں کیلئے 1683 سزائیں تجویز کی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے امسال ایک ہزار اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کیا ہے جو نئی پالیسی کے تحت ریٹائرمنٹ تک انہی سکولوں میں پڑھائیں گے جہاں وہ بھرتی ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں