64

صدا بصحرا ۔۔۔۔حزب اللہ کے خلاف مہم ۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

خبر آئی ہے کہ عرب لیگ کا اہم اجلاس ہنگامی طور پر مصر کے دار لحکومت قاہرہ میں بلایا گیا مصر کے فوجی صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی وزارت خارجہ کو میزبانی کا حکم دیا سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے اجلاس کی صدارت فرمائی گئی اجلاس میں عراق اور لبنا ن کے نمائیندے شریک نہیں ہوئے شام اور یمن کو دعوت نہیں دی گئی 20 ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اتفاق رائے سے فلسطینی مسلمانوں کی حریت پسند تنظیم حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد منظور کر کے اپنا فرض ادا کیا حسن نصر اللہ کی تنظیم حزب اللہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے لبنان کے عیسائی بھی اس تنظیم پر اپنی جان قربان کرتے ہیں جو لائی اگست 2006 ؁ ء میں 50 دنوں کی لڑائی کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے توپوں ،راکٹوں اور میزائلوں کو خاموش کر دیا تھا اب بھی اسرائیل کو حزب اللہ کی طاقت سے شدید خطرہ ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی حزب اللہ کو دھمکی دی تھی امریکی وزیر دفاع نے سینٹ کی خارجہ کمیٹی میں کہا تھا کہ ہم اسرائیل کی راہ میں کوئی ناگوا ر رکاوٹ باقی نہیں رہنے نہیں دینگے لیکن ایسی بے شمار وجوہات ہیں جن کی بنا پر امریکہ یہ کام خود نہیں کرتا سعودی عرب اور مصر سے کام لیتا ہے کویت ،بحرین ،اردن اور متحدہ عرب امارات سے کام لیتا ہے اومان ،مسقط اور دیگر عرب ملکوں سے کام لیتا ہے معمر قذافی کو شہید کرنے کے بعد لیبیا پر امریکہ نے قبضہ کیا تھا اب لیبیا سے کام لے رہا ہے ۔
تیر کھاکے دیکھا جو کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
اب کیا ہوگا ؟اسرائیل اور امریکہ کے وزرائے خارجہ عر ب لیگ کی قرار داد کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے جائینگے جب قرار داد پیش ہوگی تو روس اس کو ویٹو کر رے گا دوسری بار قرار داد آئیگی تو چین ویٹو کر رے گا ’’پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘یہ 100 سال پہلے کا قصہ ہے 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے شریف مکہ اور آل سعود کے جدّا مجد شیخ سعود کیساتھ معاہدہ کیا یہ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ تھا معاہدہ میں تین باتیں تھیں پہلی بات یہ تھی کہ جنگ میں ہٹلر کو شکست دینے کے بعد سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے ترکی کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے گا چاروں ٹکڑے برطانیہ کے غلام ہونگے عربوں کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا دوسری بات یہ تھی کہ شریف مکہ کو اردن میں بادشاہت دی جائیگی اور شیخ سعود کی اولاد کو حجاز مقدس کا بادشاہ تسلیم کیا جائے گا تیسری بات یہ تھی کہ فلسطین سے عربوں کو بے دخل کر کے یہاں یہودی ابادکاروں کی بستیاں تعمیر کی جائینگی اور 32 سالوں کے اندر یہاں ایک یہودی ریاست قائم کی جائے گی شریف مکہ اور شیخ سعود نے معاہدے پر دستخط کئے بالفور (Balfour) نے اس کا اعلامیہ جاری کیا تاریخ میں 100سال پرانی اس دستاویز کو بالفور ڈیکلریشن کہا جاتا ہے 1919 ؁ ء میں پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو بالفور ڈیکلریشن پر عملد رآمد شروع ہوا شریف مکہ اور شیخ سعود کو باد شاہت ملی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا علامہ اقبال نے کہا؂
اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
سلطنت عثمانیہ کے حق میں پاک و ہند کے مسلمانوں نے تحریک چلائی اُسے تحریک خلافت کہا جاتا ہے مولانا محمد علی جوہر ؒ ،مولانا شوکت علی ،مولانا عبیداللہ سندھی ؒ اور ترکستانی مسلمانوں کے لیڈر امام موسیٰ جار اللہ کے نام آج بھی عزت اور احترام سے لئے جاتے ہیں ریشمی رومال تحریک کا ذکر آج بھی ہوتا ہے ترکی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مرحلہ آیا تو مصطفی کمال اتاترک دشمن کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا ہوا مگر اردن اور سعودی عرب کے بادشاہوں کی مدد سے فلسطنیوں کو فلسطین سے بے دخل کیا گیا یہودیوں کو وہاں بسایاگیا لبنان کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں میں فلسطینی مہاجرین پر امریکہ نے کئی بار بمباری کی حزب اللہ انہی فلسطینی مسلمانوں کی تنظیم ہے حسن نصراللہ ان کا لیڈر ہے 1917 ؁ ء میں ایک ریڈ انڈین واشنگٹن گیا تو ٹکٹ چیکر نے ان سے پوچھا ’’میرا شہر تمہیں کیسا لگا ؟ریڈ انڈین نے سوال کیا ،پہلے یہ بتاؤ میر ا ملک تمہیں کیسا لگا ؟2017 ء میں ایک فلسطینی سیاح یروشلم گیا تو اسرائیلی سپاہی نے یہی سوال پوچھا ،فلسطینی سیاح نے یہی جواب دیا آج بھی فلسطینی اپنے وطن کی آس لگائے بیٹھے ہیں حزب اللہ ان مہاجرین کی اولاد نے قائم کی ہے کتنے دکھ کی بات ہے کہ ان کو اسرائیل اور امریکہ سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ سعودی عرب ،مصر اور عرب لیگ سے ہے یہ بھی دکھ کی بات ہے کہ مظلوم فلسطینی مہاجرین آج مدد کیلئے روس اور چین سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں حزب اللہ کے خلاف مہم 100 سالہ تاریخ کا تسلسل ہے

Print Friendly, PDF & Email