تازہ ترین
Home >> مضامین >> خوف کے سایے ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ
Qashqar Lab

خوف کے سایے ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

ربیع الاول میلادشریف کا مہینہ ہے ا س ماہ نبی کریم خاتم النبےئن حضرت مصطفےٰ ﷺ کی ولادت ہوئی اور اسی مہینے آپ کا وصال ہوا 12 ربیع الاول یوم ولادت بھی ہے یوم وصال بھی اس لئے اسلامی کیلنڈر میں اس تاریخ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے قرآن پاک میں بنی کریم ﷺ کے لئے بے شمار القا بات آئے ہیں ان میں رحمتہُ للعالمین بھی ہے رووف بھی ہے رحیم بھی ہے سورہ آل عمران آیت 159 میں حصور ﷺ کی نرم دلی کو مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ خصوصی مہربانی قرار دیا گیا ہے بنی کریم ﷺ کی بعثت مبارک کے بے شمار معجز ے تھے اس کا ایک اعجاز یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت کی دشمنیوں کا سلسلہ ختم ہو ا خون ریزی بند ہوئی گھوڑے اور اونٹ کو پانی پلانے کے جھگڑے پر کئی نسلوں تک دشمنی چلتی تھی سینکڑوں بے گناہ لوگ اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے بنی کریم ﷺ کی تعلیمات میں امن اورر سلامتی سب سے بڑی تعلیم ہے صحاح ستہ کی 6 ہزار احادیث میں سے دو تہائی کا تعلق حقوق العباد ، باہمی معاملات ، معاشرتی انصاف ، رواداری ،برداشت اور بھائی چارے کی خوبیوں سے ہے ایک تہائی کا عنوان دیگر عبادتیں ہیں قرآن پاک سورہ بقرہ آیت 126 اور سورہ ابراہیم آیت 35 میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے دعا کی قبولیت کا ذکر ہے اور ارشاد فرمایا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے امن کی جگہ بنا یا گیا سورہ قریس آیت 5 میں قریش اور مسلمانوں پر اللہ تعالےٰ کے احسانات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ اللہ تعالے نے ان کو خوف کی حالت سے نکال امن کی حالت دیدی 1439 ہجری کا 12 ربیع لاول پاکستان ، اسلام اباد ، لاہور ، کراچی ، کوئیٹہ اور پشاور میں ایسی حالت میں آیا ہے کہ یہاں بنی کریم ﷺ کے نام لیوا خوف کے سایے میں زندگی گذار رہے ہیں یہودی ، عیسائی ، ہندو،سکھ ،بدھ مت یا دہر ی ، ملحد سے خوف نہیں کلمہ گو مسلمان سے خوف ہے یہ بہت بھاری جملہ ہے مسلمان دُنیا میں امن اور سلامتی کی ضمانت بن کر آیا آج وہ خوف اور دہشت کی علامت بن چکا ہے اگر علامہ اقبال آج زند ہ ہوتے تو یقیناًمذہب اور سیاست کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بدل دیتے آج ان کا مشہور شعر وہ نہ ہوتا جو مشہور ہوا ہے بلکہ یوں ہوتا جو کسی کو معلوم نہیں
نظام پادشاہی ہو یا جمہو ری تماشا
’’ ملاِ ‘‘ ہو دینِ سیاست میں جو ’’ بن ‘‘ جاتی ہے چنگیزی
آج سے 100 سال پہلے 1917 ؁ء میں دین کی ترویج و اشاعت کا کام جید علمائے دین کے ہاتھو ں میں تھا دارلعلوم سے فارغ ہونے والے ہر عالم کی سند کے ساتھ شجر ہ ہوتا تھا کہ اس کا استاد کس کا شاگرد ہے یہ شجر ہ کم از کم 10 علما ء حق تک پہنچتا تھا اسی طرح کسی خانقا ہ کے پیر و مرشد کا با قاعد ہ شجر ہ ہوتا تھا کہ اُس کے پیرکس کے ہاتھوں پربیعت تھے یہ شجر ہ کم از کم 30 مشائخ تک جاتا تھا اس پس منظر کا عالم اور شیخ لوگوں کی رہنمائی کر تا تھا آج صورت حال اس کے برعکس ہے آج کی صور ت حال یہ ہے کہ علامہ تقی عثمانی ، مفتی منیب الرحمن ، مولانا ذولفقار احمد نقشبند ی ، مولانا محمد اکرام اعوان اور ہزاروں دیگر علماء و مشائخ کاذکر کہیں نہیں ہوتا جن لوگوں کا نام لیا جاتا ہے اُن کے پاس نہ علم کی سند ہے نہ استاد کا شجرہ ہے نہ شیخ کی بیعت کا پتہ ہے نہ شیخ کا شجر ہ ہے 2017 ؁ء میں فنانسر یعنی چندہ دینے والے کا حکم چلتا ہے 8 ربیع الاول ، 27 نومبر کو سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی اور افضل نور کے حوالے سے جو آڈیو گفتگو سوشل میڈیا پر چھا گئی اس میں جھگڑا یہ ہے کہ دین کا پر چار کر نے والا 50 کروڑ کا مطالبہ کر رہا ہے اور فنا نسر سوا پانچ کروڑ سے زیادہ ادا کر نے پر آمادہ نہیں 5 کروڑ 30 لاکھ وہ رقم ہے جو پہلے ہی ادا کی گئی ہے مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ بر صغیر کے نامور عالم اور دارالعلوم امینیہ دہلی کے مہتمم گذرے ہیں ان کے پاس کوئی اجنبی آتا کہ دارالعلوم کے لئے 5 ہزار روپے چند ہ لے آیا ہوں تو مفتی صاحب چند ہ قبول کر نے کے لئے کم از کم 3 مہینے کی مہلت مانگتے تھے 3 مہینوں میں دئیے گئے پتے پر سفرا بھیج کر اس کا حسب نسب اور ذریعہ آمدن معلوم کر تے تصدیق ہوجاتی تو خط لکھ کر قبولیت کا اظہار کر کے چند ہ لے لیتے مشکوک شخص ہوتا تو خط لکھ کر معذرت کا اظہار کر تے اور درخواست کر تے کہ اپنا چندہ کسی دوسر ے مصر ف میں خرچ کرو 1917 ؁ء کا 5 ہزار روپیہ آج کل کے 5 کروڑ کے برابر ہے مگر آج عالم دین کی بات کو ماننے کا دستور نہیں ہے جو شخص چندہ دیتا ہے وہ فنا نسر ہے وہ اپنی بات منواتا ہے چاہیے اس میں دین کے بُنیادی عقائد کی نفی کیوں نہ ہو شعائر اسلام کی توہین کیوں نہ ہو یہی وجہ ہے کہ سینئر وکلا ء اور سینئر صحافیوں نے علما ئے حق سے اپیل کی ہے کہ ایک با ر پر اجتہاد کے ذریعے اس طرح کی سیاست میں دین ، مذہب ، قرآن اور رسول ﷺ کے مبارک نام کا تڑکہ لگانے کا سلسلہ ختم کرائیں ورنہ کوئی بھی فنانسر 5 کروڑ روپے کا چندہ دیکر خواندہ یا نیم خواندہ لوگوں کے ذریعے دین کے نام پر فساد بر پا کر اسکتا ہے اسی لئے شاعر نے علامہ اقبال کے کلام کی نئی پیر وڈی متعارف کرائی ہے ’’مِلاہو دین سیاست میں تو بن جاتی ہے چنگیزی ‘‘