تازہ ترین
Home >> مضامین >> رُموز شادؔ ۔۔ خزاں کے رنگ، چند دن کے مہمان۔۔ تحریر۔۔ارشاد اللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال
Qashqar Lab

رُموز شادؔ ۔۔ خزاں کے رنگ، چند دن کے مہمان۔۔ تحریر۔۔ارشاد اللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال

’’ خزاں کے رنگ، چند دن کے مہمان‘‘
اکتوبر کے آغاز میں جب پت جھڑ کا موسم شروغ ہوتا ہے تو ہر شجر اداس نظر آتا ہے ، باہر چاہے جتنا شور ہو ، فضا میں عجیب سی خاموشی محسوس ہوتی ہے اور ایسے میں جب ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ زرد اور نارنجی پتے گرتے ہیں وہ منظر تو حسین ہوتا ہے مگر اُن پتوں کے گرنے سے جو ہلکی سی آواز ہوتی ہے وہ آواز یوں لگتاہے جیسے کوئی بہت دھیمی سی سرگوشی جس کو سننا اچھا لگے…….. اس پٹ جھڑ میں بہت بار یہ آوازیں میں نے محسوس کی اور پہلی بار خزاں کے خشک موسم کے حسین ہونے کا دل سے اعتراف کیا ہے۔ پت جھڑ میں جب آنگن نارنجی اور سرخ پتوں سے بھرا ہوتا ہے ، ان پتوں پر ننگے پاؤں چلنا، پتوں کی چُرمُراہٹ اور ساتھ پتوں کی دھیمی سی خوشبو جو ہوا کے ساتھ محسوس ہوتی ہے بہت حسین مگر اداس منظر ہوتا ہے۔ عموماََ خزاں کے موسم کو اکثر لوگ اداسی سے موسوم کرتے ہیں۔ شاعر حضرات خصوصاََ اس موسم کو دل کے ٹوٹنے ، خوابوں کے بکھرنے ، امیدوں کے دم توڑنے ،اور ویرانی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ تیز ہوا جب خشک پتوں کو اڑا کے دو ر لے جاتی ہے اور وہ قدموں تلے آکے کچلے جاتے ہیں تو اسے شاعر دل کے اجڑنے سے تشبیہ دیتے نظر آتے ہیں ۔ عمومی خیال چاہے کوئی بھی ہو ، اگر مجھ سے پوچھیں تو میرا پسندیدہ موسم یہی خزاں ہے ۔ اگرچہ موسم بہار دل کی کلی کھلنے ، امید برآنے اور خوشیوں کا موسم ہے ۔ بلاشبہ چمن میں رنگ برنگ پھول کھلنے اور سرسبز شادابی کا نام ہی بہار ہے ۔ مگر میرے لئے پت جھڑ سب سے زیادہ خوبصورت موسم ہے ۔ نومبر او ر دسمبر دو مہینے ہیں جب قدرت کی صناعی اپنا شاہکار زرد، بھورے، عنابی یا گہرے سرخ رنگوں سے بکھیر رہی ہوتی ہے ، ہوا کے تیز جھکڑ ، خشک پتوں کو درختوں کو گرادیتے ہیں اور زمین رنگ برنگے پتوں سے سجی نظر آتی ہے ، لگتا ہے مختلف نوع کے پھول بکھرے ہیں جن سے زمین ڈھک گئی ہے ۔ خزاں کے یہ رنگ ، یہ موسم، یہ سماں ، دل کو جیسے مسخر کر لیتا ہے۔ ہمارے علاقے میں عموماََ ستمبر کے بعد رم جھم برکھا برستی ہے ۔ تیز ہوائیں چلتی ہی اور موسم تبدیل ہوجا تا ہے ۔ اکتوبر تک کافی ٹھنڈ ہوجاتی ہے ۔ ہیٹر جلنے شروغ ہوجاتے ہیں ۔ گرم کوٹ، دستانے، مفلر، اونی ٹوپیاں استعمال ہونے لگتی ہیں ۔ دسمبر اور جنوری میں سردیاں عروج پر ہوتی ہیں اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلاجاتا ہے ۔ ارے یہ تو موسم کا حال بتانے لگ گئی ، تذکرہ ہورہا تھا موسم خزاں کا ۔ میرا خیال ہے خزاں صرف میرا ہی پسندیدہ موسم نہیں بلکہ مصوروں کیلئے بھی آئیڈیل ہے۔ اس رب عظیم کی عظمت و بزرگی پر دل جھک جاتا ہے ۔ قدرت کی صناعی کی کیا تعریف کرو ، سمجھ میں نہیں آتا کیسے الفاظ میں ان خوبصورت مناظر کو ڈھالو ۔ موسم زیادہ ٹھنڈ ہوجائے تو باہر بیٹھنا مشکل ہوتاہے۔ میں ہیٹر کے پاس بیٹھ کے ہاتھ سینکتا ہوں اور کھڑکی کے پار سے نظارہ کرتا ہوں ۔ گھر کے پچھواڑے درختوں کا سرسبز جنگل اب ہرا نہیں رہا، پیڑوں پر رنگ برنگے پتے لگے ہیں ، ہوا چلتی ہے تو یہ جھوم جھوم کے پتے گرادیتے ہیں ، اور ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ یہ ٹنڈ منڈ ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ آنگن میں لگے تمام پھول مرجھاچکے ہیں ، بس ایک عنابی والے پھول ہیں جو موسم کی شدت کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چمکیلی دھوپ اچھا لگتا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ دھوپ روشنی اور تازگی دیتے ہیں جبکہ ابر آلود موسم اور مسلسل بارش سے طبیعت اداس ہوجاتی ہے ۔ مجھے لگتا ہے دل کی یہ بے کیف حالت موسم کے سبب نہیں بلکہ رشتوں اور محبت کی کمی کے باعث ہیں ۔ شکر ہے کہ میرے دیس میں محبت ،خلوص ،اپنائیت اور وضعداری ہے ، مرے دیس میں رہنے والا ہر شخص دوسرے سے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی ڈور سے بندھا ہوا ہے۔ اسی باعث ساون ہو یا خزاں ، گرمی ہو یا سردی مرے دیس میں ہر موسم موسم بہار ہے ۔
لیکن موسم کی تغیر کی اصل وجوہات اور حقیقت کیا ہیں ؟ آئے اک نظر اسلام کی رو سے دیکھتے ہیں۔ اہل زمین ایک سال میں چار موسموں گرمی، سردی، بہا ر اور خزاں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ ہر موسم اپنا الگ نشانیاں رکھتا ہے ۔ حضور ؐ نے فرمایا؛ ’’ سردی کا موسم مومن کیلئے بہار ہے‘‘( مسند احمد )۔ موسم بہار میں زندگی اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔ برسات کی ہوائیں اللہ کی رحمت کی نوید لاتی ہیں اور بارش سبزے اور نباتات کی باغات بچھا دیتی ہے ۔ موسم خزاں میں پتے جھڑتے ہیں اور درخت نیا لبادہ پہننے کی تیاری کرتے ہیں ۔ دن اور رات کے اس الٹ پھیر اور موسموں کے اس آنے جانے ہی سے کائنات کی رنگینی قائم ہے ۔ اس نظام کے انتہائی مربوط ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا خالق بہت دانا اور حکمت والا ہے ۔ اگر ہمیشہ ایک ہی موسم اوار ایک ہی درجہ حرارت رہے تو اس دنیا میں یکسانی اور بے رنگی پید اہوجائے ۔ ہمارا وقت گزرنے کا احساس ختم ہوجائے اور رنج کی کیفیت کبھی راحت میں بدلنے نہ پائے ۔ رات آتی ہے تو گزرے دن کی کلفتیں راحت میں بدلتی ہیں اور جب اس رات کی تاریکی ختم ہوتی ہے تو انسان اپنا اگلا دن انگڑائی لیتی ہے ۔ تخلیق کا یہ سفر قیامت آنے تک جاری رہے گا۔
قلم ایں جا رسید وسر بشکست……!!