66

ڈی سیٹ نہیں …. سی سیٹ۔۔۔( تحریر؛ شہزادہ مبشرالملک) * براق۔
ڈاکٹر فیضی صاحب نے … براق کی طرح دو ٹارگٹ فائر کیے ہیں …. دو شہیدوں … کے مطالق دونوں قابل رشک ہیں … مجھے خوشی اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی آخر مان ہی گئے کہ یہ …دہشت گرد… امریکہ اور انڈیا کے تو ہوسکتے ہیں ہمارئے اور اسلام کے نہیں ہوسکتے ….
براق… کے جنم کی خبر مارچ میں سننے تھے اب اس کی کاروائی کا سن کر دلی مسرت ہوئی کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک کاریگر اور مفید ٹکینالوجی ہمارئے سائنسدانوں نے ایجاد کی ہے جو ہمارئے قبائلی ،اور بلوچستان کے علاقوں کو … ایڈین نمک خواروں اور اسلام دشمن عناصر سے پاک کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی… اور اس کے لیے تمام سائنسدان مبارک باد اور ستائش کے مستحق ہیں…
* گدھوں کا گوشت۔
1600 گدھوں کے کھال اکھٹے … خادم اعلیٰ.. کے شہر لاہور کے اسٹور سے برآمد ہونے کا نظارہ دیکھ کر آپنے پاکستانی ہونے پر ٖفخر محسوس ہوا…. کہ ہمارئے مسلمان بھائیوں نے اسلامی جذبے سے سر شار ہوکے کیسے کیسے … مردار گوشت کے کباب ہمیں کھلا دیے ہیں… یہ سن کر اور بھی یقین ہوگیا کہ اس ملک میں … یورپ کی حرام زادی جمہوریت یوں ہی جاری ساری رہی اور ہمارئے بڑے بڑے ریسٹوراٹ میں … خنزیر اور گدھا جی کے… چرخہ… کھیلانے والے حکمران سلامت رہے تو اس ملک کو کہاں سے کہاں پہنچاسکتے ہیں… اس ملک کو صحت، تعلیم، میں اگر یورپ و امریکہ اور چین کے مقابل نہ لے جاسکے تو کیا ہوا…. حرام گوشت … کھیلانے میں ہم تو ان کے ہم پلا آگئے ہیں یہ کیا کم ترقی اور روشن خیالی ہے…. مذہبی دوکاندار بھی بہت خوش ہیں امریکہ سے کیسے بدلہ لے لیا ان کا انتخابی نشان اور قو می جانور کے یہ ناروا سلوک کرتے ہوئے…. کہ …کفن … چوغیک الگ اور پھال ……. بیش۔ چترال میں بھی بھائیو ہوشیار رہنا کہ کہیں ہمارئے ساتھ بھی یہ نہ ہورہا ہو…. ویسے دو دہائی پہلے … ایک بوری میں بند … کتوں کے سر… دریا چترال میں بھی …. جال… میں آگئے تھے… لہذا… ہوشیار باش… کہ اس ملک میں کچھ بھی ہوسکتا ہے بقول رشنو بابو ’’ ہمارا اسلام ٹوپی میں لگائے گئے گلاب کی مانند ہے جس کی جڑین تونہیں ہیں لیکن دیکھنے میں خوب صورت نظر آتا ہے۔‘‘
* ڈی سیٹ ٹو سی سیٹ۔
ہمارئے ایک دوست عمر نے زوردار … ای میل … مارا ہے اور جماعت اسلامی اور مجھے … 21 ۔21 گریٹ کے گالی دینے کے بعد … ڈی سیٹ… ہونے کی خوشی میں ایڈوانس میں اس کی منہ میں پانی ہی نہیں ..جاگ… بھی آگیے ہیں… حالانکہ جاننے والے جانتے ہیں… کہ میں نے ہمیشہ اپنی پارٹی … کی پوسٹ مارٹم ہی کی ہے اور کبھی بھی رعایت
اور جانب داری نہیں دیکھائی….. عمر صاحب آپ جانتے ہیں….
PTO

کہدونوں طرف برابر آگ لگانے کے بعد بالا آخر …. حضراتاں… اسمبلی میں گھس ہی گئے… میں نے پہلے بھی کہا تھا… یہ لوگ جیت کر بھی ہارنے والوں میں شمار میں ہوں گے… کیونکہ یہ جمہوریت ہے ہی … بد اخلاقی… سیکھانے کے لیے ہے… اچھے بھلے لوگ…. جمہوریت … کی سان میں خود کو رگڑ رگڑ کر… بے حیا … بھالو بنالیتے ہیں اور خود ان سے یا ان کی ناک کے نیچے وہ کچھ ہورہا ہوتا ہے لیکن وہ جمہوریت کے گیت گاتے ہوئے … اپنی قوم ، ملک، مذہب کے ساتھ وہ کچھ کرنے سے دریغ نہیں … جسے کرتے ہوئے … خونخوار… بھڑئیے بھی شرما جائیں… ہماری … ننی سی لوکل اسمبلی کے چند روزہ عہدوں کے لیے دو طرف سے افسوس ناک رسہ کشی ہوئی … اب اگر چے تیری پارٹی نے بھی بہت ہاتھ پاؤں مارا ہے … بحرحال آپ کے مطابق عارضی ہی صحیی … نظامت… کا تاج سجا تو ہمارے سر ہی ہے… آپ پھر بھی دیکھ لے گے اگر … حضرتاں… ڈی سیٹ ہو بھی گئے تو سیٹ ہمارا ہی ہوگا… ہم لوگ … PTI کو بغل بچہ بناکر کام چلا لیں گے آپ پرشان نہ ہوں… میرے لیے اہم یہ ہے… کہ یہ لوگ اپنے دعویٰ کے مطابق کام بھی کرتے ہیں یا نہیں…. اگر نہیں تو انہیں روزانہ… سی سیٹ یعنی … اصل سیٹ کی جانب دیکھنا ہوگا… جہاں …. وسع کرسیہ السموت والارض… لگائے … اللہ …یہ سب تماشا دیکھ رہا ہے… اگر اسے یاد کیا جاتا تو یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا.

*تارکول مبارک۔
مدتوں بعد…. سینکڑوں لوگوں کے … پھیپڑوں… کو گرد و غبار سے … اجاڑنے… کے بعد…. سیلاب ناہنجار کے طفیل ہمارئے حکمرانوں کواس شہر ناپرسان پر ترس آہی گیا… اور کڑوپرشت تا چھاونی تارکول کے کام کا آغاز ہوا… ورنہ ہم… انصاف کی ناانصاف حکومت سے … لیپ ٹاپ…. تقسیم کرنے کی بجائے… آئی ڈراپ… تقسیم کرنے کا … زرین مشورہ… دے چکے ہوتے… چترال ٹائمز میں افتتاحی تقریب کے تصویری جھلکیاں دیکھ کر ایسا لگا کہ کاش میں سنگ تراش ہوتا تو … گورنر کاٹج … والے پہاڑ پر اچانک نمودار ہونے والے ان …ہیروز… کے مجسمے …. بامیان… کے بت کے طرح سجا دیتا… جو دو سال کے چھپ کا … روزہ… توڑ کے آج تصویfffر بنانے آپنی قیمتی وقت کو برباد کرکے…. قوم پر احسان کرتے ہوئے … چیوپل… آہی گئے… جو پھر کبھی لوٹ کر اس …. سفید افریقن ہاتھی نما پراجیکٹ کو دیکھنے آئیں گے بھی یا نہیں … اس لیے میں … بروقت شہریوں ، تجار، وکلاء، سول سو سیاٹی، میڈیا گروپس، خصوصاٰٰ ایجنسیز، اور کمانڈاٹ صاحب سے اپیل کرونگا… کہ آپ کی کوشیش بسیار اور دباو کے بغیر اس کام کا ہونا محال تھا… بڑے بڑے منصوبے بنانا اور انہیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے انہیں …. کوالٹی… اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانا اصل کام اور۔۔. گوڈ گورننس… کہا جاتا ہے… یہاں پہلے وقتوں میں … میں نے خود… جلے ہوئے …موبل آئیل… تار کول کی جگہ استعمال ہوتے دیکھے ہیں… لہذا کام کی نگرانی کی جائے … گرد و غبار کو پانی چھڑکائے بغیر تارکول ڈالا گیا اور موٹائی اور کولٹی کو ناقص رکھا گیا تو چند مہینے بعد ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔
’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت’’

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں