65

سوشل میڈیا میں غیر ذمہ دارانہ مواد چلانے پر علمائے کرام اور دینی جماعتوں کے اکابریں نے جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل اور امن وامان کو برقرار رکھنے پر متفق

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی چترال آمد کے موقع پر سوشل میڈیا میں بعض افراد کی طرف سے متنازعہ مواد پوسٹ کرنے کے حوالے سے چترال کے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کے خاتمے کے حوالے سے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ، ضلعی انتظامیہ ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کا چترال کے علماء کے ساتھ گفت وشنید کے نتیجے میں متنازعہ پوسٹ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج ختم کرنے پر اتفاق رائے ہوگئی۔ پیر کے روزتحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس کے کال پر چترال بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن ہوا اور اتالیق بازار ، سبزی منڈی بازار سے لے کر چیو بازار تک ڈھائی ہزار سے ذیادہ دکانیں اور ہوٹل بند کردئیے گئے تھے جبکہ منگل سے بازار حسب معمول کھل جائیں گے ۔ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کے بعد ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ، کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل معین الدین، ڈی پی او منصور امان، ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین جبکہ جماعت اسلامی کے امیر ضلع مولانا جمشید احمد اور جے یو آئی کے سینئر رہنما مولانا حسین احمد نے میڈیا کو بتایاکہ چترال امن کا گہوارا تھا،ہے اور رہے گا اور یہاں منافرت پھیلانے اور امن وامان کو خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا میں غیر ذمہ دارانہ مواد چلانے پر علمائے کرام اور دینی جماعتوں کے اکابریں نے جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل اور امن وامان کو برقرار رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں جبکہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق کڑی سز ا دی جائے گی جس کے لئے ملک میں موثر قانون موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسماعیلی کمیونٹی نے بھی گرم چشمہ کے مقام پر جلسہ منعقدکرکے متنازعہ پوسٹ کرنے والوں کی مذمت کردی ہے ۔ کرنل معین الدین نے کہاکہ چترالی عوام ،ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے چار ستون ہیٗں جبکہ آخری تین ستون امن وامان کو برقرار رکھنے کے ذمہ دارہیں اس لئے عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی بجائے باقی تین ستونوں پر اعتماد کرنا چاہئے ۔ انہوں نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ وہ ان اداروں کو اپنا کام کرنے دیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور دوسروں کا آلہ کار بننے سے گریز کریں بصورت دیگر سخت قانونی کاروائی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email