71

امت مسلمہ کو متحد ہونا ہوگا،ہماری تقسیم دشمن کے لیے فائدہ مند ہے، سراج الحق

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اس وقت پوری امت مسلمہ کو ایک ہونے کی ضرورت ہے ہماری تقسیم دشمن کے لیے فائدہ مند ہے اور ہمارا ایک ہونا دشمن کے لیے خطرہ ہے ۔ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک سٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہے ۔ کچھ دینی جماعتوں سے رابطے ہوئے ہیں اور کچھ سے رابطے ہونا ہیں لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ تمام ان لوگوں کو اکٹھا کیا جائے جو نظریہ پاکستان پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں اور ان کے دامن پر کرپشن کے دھبے نہیں ۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے پی میں اتحادی حکومت میں شامل ہیں باقی سیاسی مسائل پر وہ بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں آزاد ہیں اور ہم بھی آزاد ہیں ۔ جماعت اسلامی کراچی میں پہلے بھی موجود تھی اور اب بھی موجود ہے شہر کو ڈسٹرب کرنے کے لیے بین الاقوامی سازش کے تحت جماعت اسلامی کو دیوار سے لگایا گیا ۔ ان خیالات کا اظہار سراج الحق نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ دین اسلام ہمیں ایک ہونے کا حکم دیتا ہے اس وقت پوری امت اسلامیہ کو ایک ہونے کی ضرورت ہے عالم اسلام کس طرح تقسیم در تقسیم ہے ۔ شعیہ اور سنی بنیاد پر لڑائیاں جاری ہیں ۔ مسلکوں کی بنیاد پر قومیتوں کی بنیاد پر اور لسانی بنیادوں پر لڑائیاں جاری ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری تقسیم دشمن کے لیے فائدہ مند ہے اور ہمارا ایک ہونا دشمن کے لیے خطرہ ہے ۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے میں شامل تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے ان کو یہ کام حوالہ کیا گیا تھا کہ تمام دینی جماعتوں سے رابطے کریں کچھ سے رابطے ہو گئے ہیں اور کچھ سے رابطے ہونا ہیں لیکن میرا اپنا یہ خیال ہے کہ تمام ان لوگوں کو اکٹھا کیا جائے کہ جو نظریہ پاکستان پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں اور جن کے دامن پر کرپشن کے دھبے نہیں ہیں ۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا اشتراک ایک مخلوط حکومت میں ہے یہ اتحاد اب بھی خیبر پختونخوا حکومت میں ہے ۔ باقی سیاسی مسائل پر وہ بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں آزاد ہیں اور ہم بھی آزاد ہیں ۔ پی ٹی آئی اپنے جلسے ، جلوس اور ریلیاں کر رہی ہے اور ہم اپنے نعرے ، منشور اور پروگرام کے تحت کر رہے ہیں ۔ وہ بھی آزاد ہیں ہم بھی آزاد ہیں ۔ مخلوط حکومت میں وہ بھی شامل ہیں ہم بھی شامل ہیں ۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی میں جماعت اسلامی موجود ہے اور پہلے بھی موجود تھی ایک بین الاقوامی سازش کے تحت شہر کو ڈسٹرب کرنے کے لیے جماعت اسلامی کو دیوار سے لگایا گیا اور وہاں ایسے عناصر لائے گئے جن کی سیاست کی وجہ سے وہاں تعصب میں اضافہ ہوا ۔ لوگ آپس میں لڑے ۔ مسلکوں کی بنیاد پر ، زبان کی بنیاد پر اب تک کراچی میں 24 ہزار افراد قتل ہو گئے ہیں۔ مزدور جلائے گئے ، وکلاء جلائے گئے ایک خوف کی فضا قائم کی گئی ۔ یہ سب کچھ نہیں تھا جب شہر میں ایم کیو ایم کا وجود نہیں تھا ۔ ایم کیو ایم کے بعد یہ ساری چیزیں عام ہو گئیں ۔ اب وہ اگر تین چار دھڑوں میں تقسیم ہیں تو اب ایک دوسرے کے بارے میں گواہیاں دے رہے ہیں کہ قتل میں وہ ملوث تھے اور لوٹ مار میں وہ ملوث تھے۔ پہلی بار ان کے لیڈروں نے ایک دوسرے کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا ہے۔ اچھی بات ہے۔ اس سچ کو قبول کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی میں موجود ہے اور 17 دسمبر کو القدس اور بیت المقدس کی حمایت میں ایک ملین مارچ کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر میں جماعت اسلامی موجود ہے تبھی ملین مارچ کر رہی ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لئے تو ہمارے سب سے رابطے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ایسا الیکشن جس میں پیسے کا عمل دخل ختم ہو اور ایک ایسا الیکشن کا نظام ہو جس میں عام آدمی کو بھی اسمبلی میں جانے کا موقع ملے اور کرپٹ لوگوں کے لئے امیدوار بننے کا راستہ بند ہو جائے۔ میرا مطالبہ ہے جو لوگ نیب زدہ ہیں جن کے نام پاناما لیکس میں ہیں جنہوں نے قر ضے لے کر ہڑپ کروائے ہیں اور معاف کروائے ہیں ایسے ناجائز کاموں میں شامل جتنے بھی نام موجود ہیں ان کو آئندہ الیکشن میں حصہ نہ لینے دیا جائے تاکہ پاک لوگ اسمبلیوں میں پہنچیں تو لوگوں کا مسئلہ حل ہو گا۔ہم چاہتے ہیں کہ تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہوں ۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں نواز شریف کے علاوہ بھی 436 افراد کے نام ہیں، اس میں سیاسی رہنما بھی ہیں، اس میں بیورو کریٹ بھی ہیں، اس میں جج بھی ہے اور اس میں ہر طرح کے لوگ ہیں جب نوازشریف نااہل قرار دیئے گئے اور وہ حکومت سے رخصت ہو گئے تو ہم نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں ہم نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ باقی لوگوں کا آڈٹ اور ان کا حساب کتاب ہو جائے اب عدالت نے نیب اور وفاق کو سمن جاری کئے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ خاصی سست رفتاری ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کیس کو جلدی جلدی نمٹایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email