73

صدا بصحرا ۔۔۔ خیبر پختونخوا کا منظر نامہ ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے پنجاب اور سندھ یا بلوچستان کی سیاسی فضا میں کو ئی خاص تبدیلی نہیں آئیگی البتہ خیبر پختو نخوا کا سیاسی منظر نامہ یکسر بدل جائے گا ملاکنڈ ،بنوں ،ڈی آئی خان ،کو ہاٹ ،پشاور اور مردان ڈویژن کے ساتھ ہزارہ کے اضلاع بٹگرام ،تورعز اور کوہستان میں بھی متحدہ مجلس عمل کو برتری ملے گی صوابی اور نوشہرہ کے دو اضلاع کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر حکمران جماعت کو زبر دست مقابلے کا سامنا ہو گا اندازہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی میں واحد اکثر یتی پارٹی بن کر متحدہ مجلس عمل سامنے آئے گی اے این پی ، مسلم لیگ (ن) یا پی پی پی کے ساتھ ملکر حکومت بنائے گی مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قائدین کی طرف سے اتحاد کا اعلان ہو نے کے باوجود کارکنوں کے درمیان برادرانہ ہم آہنگی کا فقدان پایا جاتا ہے سوشل میڈیاپر تین باتیں گردش کر رہی ہیں مولانا انس نورانی اور اُن کی پارٹی کے لئے کارکنوں کے دلوں میں کدورت باقی ہے ملت جعفریہ کے لئے قبولیت کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آتا جماعت اسلامی اور جمعیتہ العلمائے اسلام (ف)کے کارکن ایک دوسرے سے بد ظن ہیں جماعت اسلامی والے پی ٹی آئی کو ترجیح دیتے ہیں جمیتہ کے کارکن مسلم لیگ (ن)کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں دونوں نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو دل سے قبول نہیں کیا اس سے بھی مشکل مرحلہ یہ ہے کہ جمیعتہ العلمائے اسلام (ف) صوبائی اسمبلی کی زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے جماعت اسلامی کی قیادت صوبے میں اپنا وزیر اعلیٰ لانے کے لئے زیادہ سیٹیں اپنے نام کرنا چاہتی ہے نیز دونوں جماعتوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے متوقع اُمیدواروں کا پہلے سے اعلان کیا ہوا ہے اتحاد کی خاطر کسی نامزد اُمیدوار کو بٹھانا اور اُس کے حامیوں کو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہو گا جس اُمیدوار کی قربانی دی گئی وہ آزاد حیثیت سے میدان میں آئے گا اور پھڈاڈالے گا مگر یہ سیاسی معاملہ اور اہل سیاست کا کام ہے شاعر نے کہا
اُ ن کا جو کام ہے اہل سیاست جانیں
میر ا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
خیبر پختو نخوا کو ہمیشہ سے سیاسی تجربہ گاہ کی حیثیت حاصل رہی ہے ہر انتخابات میں یہاں نت نئے تجربے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں اس صوبے کی اپنی کو ئی جماعت بھی نہیں ابھرتی کسی قومی پارٹی کو بھی یہاں پنجاب اور سندھ کی طرح پذیرائی نہیں ملتی اس وجہ سے خیبر پختو نخوا کی اسمبلی کو لٹکی ہوئی اسمبلی (Hung Assembly) کہا جاتا ہے 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی معلق اسمبلی ملی تھی جماعت اسلامی کی مدد سے پر ویز خٹک نے حکومت بنائی اگر جماعت اسلامی کا تعاون نہ ہوتا تو جمعیتہ العلمائے اسلام (ف)کی حکومت آسکتی تھی دیگر جماعتیں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کر چکہ تھیں اس نازک موڑ پر قومی وطن پارٹی نے بھی پرویز خٹک کا ساتھ دیا تھا بعد میں حالات نے پلٹا کھایا خیبر پختونخوا کے بدلتے ہوئے منظر نامے کو سامنے رکھ کر پاکستان تحریک انصاف اپنے دوستوں اور بہی خواہوں کو متحرک کر کے اسمبلیوں کو توڑ کر قومی حکومت بنانے پر زور دیگی قومی حکومت میں عمران خا ن کے وزیر اعظم بننے کا امکان پیدا ہو گا اور 2018ء کے انتخابات کو چند سالوں کے لئے ملتوی کرنے کا راستہ نکل آئے گا یہ محتا ط اور صاف راستہ ہو گا اگر امپائر کی انگلی حرکت میں آجائے تو دلی مراد پوری ہو گی دوسرا قوی امکان یہ ہے کہ شہباز شریف اور آصف زرداری مل کر واشنگٹن کے ساتھ ڈیل کر کے خود کو ایک بار پھر قابل قبول بنا لینگے اسمبلیوں کو توڑنے نہیں دینگے چائنا پاکستان اکنامک کو ریڈور کو چند سالوں کے لئے موخر کرنے پر سمجھوتہ ہو جائے گا اور چین کا راستہ روکنے کے لئے واشنگٹن کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا اس صورت میں 2018 ؁ء کے انتخابات وقت پر ہو نگے خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا پنجاب اور سندھ میں ملی مسلم لیگ اور لبیک یا رسول اللہ کو چندسیٹو ں کے ساتھ دو چار وزارتیں دی جائینگی اس طرح نیا بندوبست بھی سب کے مفاد میں ہو گا ایسے حالات میں پاکستان تحریک انصاف کے لئے کوئی جگہ نہیں رہے گی اگلے انتخابات تک انتظار کا مشورہ دیا جائے گا خان صاحب یورپ میں چھٹیاں گذارینگے اور کرکٹ میچوں میں ماہرانہ رائے دینے کی ذمہ داریوں کے علاوہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے عطیات جمع کرنے کی مہم بھی چلاسکینگے اس طرح خیبر پختو نخوا کا نیا سیاسی منظر نامہ پورے ملک کی سیاست کا رُخ بدل کر رکھ دیگا شاعر نے سچ کہا ’’ہم بدلتے ہیں رُخ ہواؤں کے‘‘

Print Friendly, PDF & Email