تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد۔۔۔کابل میں دھماکوں کے بعد۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

داد بیداد۔۔۔کابل میں دھماکوں کے بعد۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

جمعرات 28دسمبر کو افغانستان کے دار الحکومت کابل میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 40بے گناہ شہریوں کی شہادت ہوئی ایک ہفتے کے اندر یہ تیسرا واقعہ تھا اس سے پہلے دو الگ الگ واقعات میں 11بے گناہ شہریوں کی شہادت ہوئی تھی ان سطور کی اشاعت تک اگر مزید واقعات پیش نہ آئے تب بھی کابل کے اندر بدامنی کی نئی لہر کو پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی کی حیثیت حاصل ہے بد امنی کے تازہ ترین واقعات کے بعد افغان میڈیا میں بھی اور بیرونی نشریاتی اداروں میں بھی پاکستان کا نام لیا گیا اور یہ پروپیگنڈا محض اتفاقی نہیں یہ سکرپٹ کا حصہ ہے سکرپٹ لکھنے والوں کے لئے سو یا ڈیڑھ سو بے گناہ شہریوں کو مار کر کسی اور کی طرف انگلی اٹھانا معمول کا واقعہ ہے وہ لوگ اس کو چائے کا گھونٹ سمجھ لیتے ہیں ماضی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں ایک ہی شخص نے افغان حکومت کے کسی دفتر کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان پر الزام لگا یا اور چند دنوں کے بعد پاکستانی سفارت خانے پر ہلہ بول دیا گویا یہ دکھایا جارہا ہے کہ افغان عوام کو اشتعال آگیا حالانکہ واقعہ اس کے برعکس تھا پاکستان کے خلاف حقانی نیٹ ورک کا گھسا پٹا الزام بار بار دہرایا جاتا رہا ہے اب یہ الزام اتنا پرانا ہوچکا ہے کہ اس پر کسی کو اعتبار بھی نہیں آتا کچھ عرصہ پہلے بھارتی دانشور ڈاکٹرڈاکٹر را م پونیانی سے پوچھا گیا کہ داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے معروضی حالات کے مطابق تین بنیادی باتوں کی طرف سامعین کی توجہ مبذول کرائی ان کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ اگر داعش ، القاعدہ وغیرہ مسلمانوں کی تنظیمیں ہوتیں تو مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی انڈونیشیا میں ہے وہاں کیوں نہیں ہیں؟ دوسرا نکتہ یہ ہے اگر داعش ، القاعدہ اور دیگر دہشت گر د تنظیمیں مسلمانوں کی بنائی ہوتیں تو ان کے ٹارگٹ غیر مسلم ہوتے یہ تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف کیوں لڑتی ہیں؟ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر دہشت گردی کے لئے قائم ان تنظیموں کا مقصد اسلام کی سربلندی کا کام ہوتا تو یہ بنگلہ دیش ، ملائشیا ، بھارت اور دیگر ممالک میں کام کرتے یہ تنظیمیں تیل، گیس اور جواہرات زمرد وغیرہ پیدا کرنے والے ملکوں اور علاقوں میں کیوں نظر آتی ہیں؟ ڈاکٹر رام پونیانی اعداد و شمار کی مدد سے تاریخی حقائق کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان تنظیموں کا تعلق ڈرامہ یا فلم کے سکرپٹ سے ہے سکرپٹ لکھنے والے نے لکھا ہے کہ سوڈان سے فلان تنظیم نکلے گی عراق سے فلان تنظیم کو اُٹھایا جائے گا شام سے فلاں تنظیم آئے گی سعودی عرب ، الجزائر ، صومالیہ اور افغانستان سے فلاں فلاں تنظیمیں آئینگی ضرورت پڑنے پر الگ الگ کام کرینگی حالات نے اجازت دی تو ان کو یکجا کیا جائے گا یہ تنظیمیں صلیب کا نشان لیکر مسلمان ملکوں کو اسلام کے نام پر تا راج کرینگی ہمارا کام تیل نکالنا ، گیس لے جانا اور جواہرات کو اُٹھاناہے مسلمان ملکوں کی دولت کو کھنگال کرنا ہے یہ تنظیمیں ہمارے لیے مددگار ثابت ہونگی ڈاکٹر رام پونیانی کے نزدیک نائن الیون بھی ڈرامہ تھا 3ہزاربے گناہ لوگوں کو صرف ڈرامہ رچانے کیلئے مارا گیا اُسامہ بن لادن کو خوشی سے جھومتے ہوئے اقرار کرتے ہوئے دکھایا گیا امریکیوں کو باور کرایاگیا کہ یہی شخص مجرم ہے مگر اُسامہ کو مار کر اس کی لاش کسی کو نہیں دکھائی گئی دعویٰ کیا گیا کہ لاش کو سمندر میں ڈالا گیا ہے یہ بھی ڈرامہ تھا اس طرح فرانس، جرمنی اور اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں بھی ان واقعات پر درست سوالات اُٹھائے گئے ہیں ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا کابل میں بدامنی کی نئی لہر پاکستان کے لئے ایک انتباہ یا اشارہ ہے امریکی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کا رخ پاکستان کی طرف ہوسکتا ہے گویا ان کو پاکستان کی میں دہشت گردی کیلئے دوبارہ استعمال کرنے والے ہیں مگر ’’ہم‘‘ کی ضمیر غائب ہے موجودہ حالات میں پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام کا فائدہ بھی دشمن کو پہنچ سکتا ہے دشمن ہمیشہ اس طرح کے حالات کا انتظار کرتا ہے اس وقت پاکستان کو دسمبر 2014ء میں اے پی ایس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی یکجہتی کی ضرورت ہے اسی طرز کی آل پارٹیز کانفرنس اور اُسی طرح قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے دشمن پڑوس میں تیار بیٹھا ہے ہم نے اگر دشمن کے عزائم کو سمجھنے میں غلطی کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی


error: Content is protected !!