تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کی 4 ہزار مساجد کی شمسی توانائی پر منتقلی کا کام مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کی 4 ہزار مساجد کی شمسی توانائی پر منتقلی کا کام مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

پرویزخٹک وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ توانائی کی طرف سے پیش کردہ کارکردگی رپورٹ اور توانائی کے منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں صوبائی وزیر توانائی محمد عاطف خان، چیف سیکرٹری محمد اعظم خان، سیکرٹری توانائی انجینئر محمد نعیم خان، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید، صوبائی تیل و گیس کمپنی کے سربراہ رضی الدین ، صوبائی ادارہ توانائی پیڈو اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری توانائی انجینئر محمد نعیم خان کا کہنا تھا کہ اگلے چند مہینوں میں 8000 سکولوں، 5600 گھروں اور4000 مساجد کی سولر بجلی پر منتقلی کا کام شروع ہو جائے گا جودو مراحل میں پایہ تکمیل کوپہنچایا جائے گا۔

انہوں نے اجلاس کو یقین دلایا کہ مساجد میں شمسی توانائی کا ٹھیکہ ماہ رواں کے آخر میں دیا جائے گا اور امید ظاہر کی کہ منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلی نے کہا کہ محکمہ توانائی صوبے میں مسلسل لوڈ شیڈنگ اور عوامی مشکلات کے پیش نظر تعلیمی اداروں،ہسپتالوں، مساجد اورگھروں کو شمسی توانائی کے نظام سے منسلک کرنے کا ماڈل تیار کرے۔

وزیر اعلیٰ نے صوبے میں سولرائزیشن کے پہلے مرحلے پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کام مربوط انداز میں آگے بڑھنا چاہئے اور مرحلہ وار صوبے کے تمام شہروں اور دیہات کے گلی کوچوں اور بازاروں سے لے کر گھروں، سکول و ہسپتال اور مساجد کومنور کرنا چاہئے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں صحت سنٹرز، ڈی ایچ کیوز، آر ایچ سی اور بی ایچ یو ز کو بھی سولر انرجی پر منتقلی کے کام کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں بھی نو تعمیر شدہ منی مائکرو پن بجلی گھروں کو متعلقہ کمیونٹی کو حوالے کرنے کیلئے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے اس میں مزید تاخیر پرمتعلقہ ذمہ داران سے باز پر س کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے مزید 650 چھوٹے پن بجلی گھروں کی منظوری بھی دی اور ان منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

اُنہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ صنعتی زونز ، سرکاری دفاتر ، لفٹ ایرگیشن سکیم اور دیگر ضروری جگہوں پر بجلی کا مصرف نکالنے کیلئے طریقہ کار وضع کریں۔ ۔

 انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ واپڈا بجلی کے تیار پراجیکٹس کو ٹرانسمیشن لائن کی خدمات نہیں دے رہا ہے جس سے صوبے کو کروڑوں روپے کا نقصان روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بجلی کے تیار پراجیکٹس کو connectivity نہ دینا اورpower purchasing معاہدے نہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے اس لئے صوبائی حکومت اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھائے گی۔