تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> صوبائی حکومت اور پیڈو نے واپڈا کے ساتھ پیڈو کی ٹرانسمیشن لائنوں کے استعمال کا معاہدہ کرنے سے اتفاق کیامگر عملی طورپر معاہدہ کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے/ شہزادہ افتخار الدین

صوبائی حکومت اور پیڈو نے واپڈا کے ساتھ پیڈو کی ٹرانسمیشن لائنوں کے استعمال کا معاہدہ کرنے سے اتفاق کیامگر عملی طورپر معاہدہ کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے/ شہزادہ افتخار الدین

چترال(نمائندہ  ) چترال سے رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخو،چیف سیکرٹری اور پیڈو حکام سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ گولین گول پاؤر ہاؤس سے اپر چترال کی تین تحصیلوں کو پیڈو کی ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی دینے کے لئے واپڈا کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں پہل کریں تاکہ عوام کو بجلی کی سہولیت ملے اور حکومت کے لئے امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ایک اخباری بیان میں اُنہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت جان بوجھ کر معاہدہ سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔گذشتہ چند مہینوں میں اس سلسلے میں جتنی میٹنگیں ہوئیں ان میں صوبائی حکومت اور پیڈو نے واپڈا کے ساتھ پیڈو کی ٹرانسمیشن لائنوں کے استعمال کا معاہدہ کرنے سے اتفاق کیامگر عملی طورپر معاہدہ کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔گذشتہ مہینے کوغذی میں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پیڈو حکام اور واپڈا حکم دونوں حاضر تھے۔اس موقع پر گولین گول بجلی گھر کے سوئج یارڈ کا بھی معائنہ کیا گیا۔تکینکی اور فنی طورپر اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اس سوئج یارڈ سے پیڈو کی لائنوں کو بجلی دی جاسکتی ہے۔فی یونٹ قیمت اور دیگر تفصیلات طے کرکے 5جنوری سے پہلے معاہدہ کرنے کاوعدہ کیا گیا ۔مگر5جنوری گذرنے کے باوجود پیڈوحکام نے معاہدے میں دلچسپی نہیں لی۔شہزادہ افتخارالدین ایم این اے کی طرف سے یہ ساتویں اپیل ہے۔اس سے پہلے جولائی2015میں ریشن کے مقام پر پیڈو کا4میگاواٹ بجلی گھر سیلاب میں بہہ گیا تو ایم این اے کی طرف سے بجلی گھر کی بحالی کے لئے اپیل کی گئی۔تکینکی طورپر بجلی گھر 6مہینوں میں بحال ہوسکتاتھا مگر پیڈو نے دلچسپی نہیں لی۔اب لائن خالی پڑی ہے۔پیڈو معاہدہ سے منہ موڑ رہی ہے۔