156

جماعت اسلامی بھی بول پڑی۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

fff2
اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی ایک منظم مذہبی سیاسی جماعت ہے جبکہ اس حقیقت کوبھی رد نہیں کیاجاسکتاکہ مالاکنڈڈویژن بالخصوص دیر پائین اور دیربالاپرمشتمل علاقہ اس کاجماعت کاگڑھ ماناجاتاہے۔ماضی کے دریچوں میں جھانکاجائے توجماعت اسلامی کے بائیکاٹ کی صورت میں دیگر سیاسی جماعتوں کوانتخابات میں کامیابی ضرور ملی ہے لیکن جب بھی یہ جماعت انتخابی دنگل میں اتری ہے سیاسی حریفوں کوبری طرح پچھاڑکرمنتخب ایوانوں میں پہنچی ہے ۔پچھلے عام انتخابات میں سوائے ایک صوبائی نشست کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے تمام حلقوں پر اس جماعت کے امیدوارکامیاب قرارپائے تھے اوراگر ذکر ہوحالیہ بلدیاتی انتخابات کاتودونوں اضلاع میں جماعت اسلامی ہی چھائی رہی ہے مگر ناقابل تردیدحقیقت یہ بھی ہے کہ غیر معمولی عوامی قوت کی حامل اس جماعت کودونوں اضلاع میں تین بڑے دھچکے بھی لگے ہیں۔ سینیٹرمنتخب ہونے پر جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق کی خالی کردہ صوبائی نشست پی کے 95 لوئردیرپر 7مئی کوضمنی الیکشن ہواتوجماعت اسلامی کے امیدواراعزازالملک کامیاب تو قرار پائے تاہم ان کی کامیابی کانوٹیفیکیشن تاحال جاری نہیں ہوا جس کی وجہ یہ بنی کہ خواتین کوحق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کے معاملے پر بعض مردوزن کی جانب سے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے پر الیکشن کمیشن نے مذکورہ الیکشن کوکالعدم قرار دیتے ہوئے 12 جولائی کو دوباہ الیکشن کاحکم دیاتھا تاہم جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیاہے اور مقدمہ ابھی عدالت میں زیرسماعت ہے۔یہ جماعت اسلامی کولگنے والا پہلا دھچکاتھا۔ دوسرادھچکاتب لگاجب جعلی ڈگری کیس کے معاملے میں عدالت نے عرصہ دوماہ قبل پی کے 93سے جماعت اسلامی کے منتخب ممبرملک بہرام خان کی نااہلی کافیصلہ دیااور مذکورہ فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے دوباہ انتخاب کاشیڈول جاری کیاجبکہ پی کے 93 کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کے امیدوارصاحبزادہ ثناء اللہ نے غیرمعمولی کامیابی کاتاج سر پر سجاتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیدوار ملک اعظم جوکہ نااہل ہونے والے ایم پی اے کے فرزند ہیں کوشکست سے دوچارکیااگرچہ ہارجیت انتخابی عمل میں ہوتی رہتی ہے مگر بادی النظرمیں دیکھا جائے تویہ جماعت اسلامی کولگنے والاغیرمعمولی دھچکاتھاجو اس حلقے میں جماعت اسلامی کی شکست اور مخالفین کی جیت کی نئی تاریخ رقم کرنے کاباعث بناماضی میں اگرچہ 1997ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نون کے امیدوارملک جہانزیب خان بھی اس حلقے سے منتخب ہوئے تھے مگر اس وقت بائیکاٹ کے باعث جماعت اسلامی انتخابی عمل کاحصہ نہیں تھی۔شائد انہی سیاسی دھچکوں کانتیجہ ہے کہ جماعت اسلامی احتجاج اور الیکشن کمیشن کے خلاف ہرزہ سرائی پر اتر آئی ہے ۔ضمنی الیکشن کی صورت میں پی کے 93کامعاملہ تومنطقی انجام کوپہنچاتاہم پی کے 95کامعاملہ تاحال عدالت میں ہے اورجب تک عدالت اس معاملے پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتی تب تک فریقین صرف انتظارہی کرسکتے ہیں اپنی کسی رائے کااظہارنہیں کرسکتے مگراس کے باوجودجماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاہے کہ پی کے 95دیرلوئرمیں فوری طورپراعزازالملک کی کامیابی کانوٹیفیکیشن جاری کیاجائے ۔27ستمبرکوتمیرگرہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مقدمہ ابھی عدالت میں ہے لیکن پچھلے پانچ مہینوں سے مذکورہ صوبائی حلقے کے ڈھائی لاکھ سے زائد عوام منتخب ایوان میں نماندگی سے محروم چلے آرہے ہیں جو کہ ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ان کے مطابق عدالت کی جانب سے مذکورہ زیرسماعت کیس کا فیصلہ ان کے ممبراسمبلی کے خلاف آنے اور ری الیکشن کاحکم صادر ہونے کی صورت میں ان کی جماعت فیصلے کا احترام کرے گی اوراس کی روشنی میں دوبارہ الیکشن میں جائے گی تاہم جب تک عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آتا تب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے یہاں سے منتخب ہونے والے ایم پی اے کی کامیابی کانوٹیفیکیشن جاری ہونا ضروری ہے تاکہ حلقے کے عوام کااحساس محرومی ختم ہوسکے اور یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بھی ہے۔سراج الحق نے الزام لگاتے ہوئے مزید کہاہے کہ پی کے 95سے متعلق الیکشن کمیشن کافیصلہ معتصبانہ تھااور کراچی سے لے کرخیبر تک بیشتر سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے کردارپر انگلی اٹھارہے ہیں جبکہ مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد انہیں بھی الیکشن کمیشن پرتحفظات ہیں۔ادھر جماعت اسلامی دیر لوئر کے ہیڈکوارٹرتیمرگرہ میں احتجاجی مظاہرہ کرچکی ہے جبکہ پشاور میں الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرنے کابھی اعلان کیاہے۔اگرچہ مرکزی امیر سراج الحق اور ان کی جماعت کایہ مؤقف بجاہے کہ پی کے 95 کے عوام منتخب ممبراسمبلی نہ ہونے کے باعث متاثرہورہے ہیں جبکہ لاہورمیں سپیکرقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122،لودھراں کے حلقہ این اے 154 اورپی کے 93اس کی واضح مثالیں بھی ہیں جہاں منتخب ممبران اپنے عہدوں پر فائزرہے ساتھ ساتھ مقدمے بھی چلے ایسے میں اگر گنجائش ہوتومقدمہ بھی چلتارہے اورالیکشن کمیشن پی کے 95سے منتخب ممبراعزازالملک کی کامیابی کانوٹیفیکیشن بھی جاری کرے لیکن سیاسی امور کے ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ مذکورہ حلقوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں ان کے حلف لینے بعد ہی گئے ہیں اس لحاظ سے پی کے 95 کامعاملہ مختلف نوعیت کاہے جبکہ سراج الحق اور ان کی جماعت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے اعزازالملک کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کامطالبہ حیران کن اس لحاظ سے ہے کہ الیکشن کالعدم قرار دینے اور ری الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کرنے پر الیکشن کمیشن اس معاملے میں اپنافیصلہ تودے چکاہے ۔اگرچہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے اور کسی بھی معاملے پر احتجاج کرنااس کاجمہوری حق بھی ہے لیکن یوں اچانک اس کی نظرآتی مہم جوئی نے کئی سوالات کوبھی جنم دیاہے جس کاسیاسی امور کے ماہرین باریک بینی سے جائزہ بھی لے رہے ہیں۔بعض حلقوں کاخیال ہے کہ چونکہ پی کے 93کے ضمنی الیکشن میں شکست کاجماعت اسلامی پر عوامی دباؤبڑھ گیاہے اور اس معاملے میں وہ کوئی بھی وضاحت دینے سے قاصر ہے سوپی کے 95کے حوالے سے جاری مہم جوئی دراصل اس معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کی سعی بھی ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں