تازہ ترین
Home >> خواتین کا صفحہ >> روز اَفزوں انتخابی بخار (پروفیسررفعت مظہر)

روز اَفزوں انتخابی بخار (پروفیسررفعت مظہر)

نوازلیگ کا 5 سالہ ہنگامہ خیز دَورِ حکومت اپنے اختتام کی جانب رواں دواں۔ ہنگامہ خیز اِس لیے کہ بیچارے ’’شریفین‘‘ کو کسی نے’’ ٹِک‘‘ کر حکومت کرنے ہی نہیں دی۔ 2013ء کے انتخابات سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اُڑچن سامنے آتی ہی رہی۔ انتخابات کے فوراََ بعد تو عمران خاں نے کہہ دیا کہ وہ ترقیاتی کاموں میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے لیکن عملی طور پر اُنہوں نے ترقی کا پہیہ روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ تو بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ عمران خاں مجمع لگانے کے فَن میں طاق ہو چکے ہیں۔ بھٹو نے روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا اور عمران خاں نے ’’میوزیکل کنسرٹ‘‘ کے نام پر۔ خاں صاحب یقیناََ جانتے ہوں گے کہ یہ قوم ’’مُفتے‘‘ کی شوقین ہے۔ پھر اگر مفت میں میوزیکل کنسرٹ ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے۔ اُن کے جلسوں میں گانے بجانے کا بھرپور اہتمام بھی ہوتا تھا اور موسیقی کی دُھنوں پر’’ تھرکنے‘‘ کابھی۔ اُنہوں نے تو 2014ء کے دھرنے میں’’پبلک کے پُرزور اصرار پر‘‘بیچارے پرویز خٹک کو بھی ناچنے پر مجبور کر دیا۔ تحریکِ انصاف کے ’’اے ٹی ایم‘‘ نے ڈی جے بَٹ کو کروڑوں دے کر کامیاب جلسے کروائے لیکن دوسری طرف نوازلیگ نے اوّل تو کوئی جلسہ کیا ہی نہیں اور اگر کیا بھی تو پھُسپھسا ،بے رنگ ،بے بُو،بے ذائقہ۔ بھلا عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور ابرار الحق کے گانو ں کے مقابلے میں امیر مقام جیسے پہلوان کی تقریریں کون سُنے گا؟۔ عمران خاں کے جلسوں کو دیکھ کربڑی عمر کے لوگ دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھے رہے البتہ نوجوان جھومتے رہے۔ کیا ہوا جو ترقی کا پہیہ رُک گیا، نوجوانوں کو بھرپور ’’انٹرٹینمنٹ‘‘ تو میسر آگئی، ترقی تو ہوتی ہی رہے گی، آج نہیں تو کل سہی۔
کپتان کے جلسوں کا ایک کردار گھنگرو کی طرح بجنے والا شیخ رشید ہے جس کے سیاستدانوں نے جَل بھُن کر سیخ کباب ہوتے ہوئے کئی نام رکھ چھوڑے ہیں لیکن ہم اُسے ’’جُماں جَنج نال‘‘ ہی کہتے ہیں کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جس کے اپنے ’’پَلّے‘‘ تو ’’کَکھ‘‘ نہیں البتہ جہاں کہیں مجمع دیکھتا ہے ،تقریر شروع کر دیتا ہے۔ آجکل وہ تھوڑا خاموش ہے یا خاموش کروا دیا گیا ہے۔ وجہ شاید یہ کہ مولانا طاہرالقادری نے چال تو بہت خطرناک چلی اوردو متحارب سیاسی جماعتوں کو ایک سٹیج پر لا بٹھایا لیکن شیخ رشید نے لعنت ،لعنت کی ایسی گردان کی کہ کپتان نے بھی جوش میں آکر لعنت ،لعنت کہنا شروع کردیا جس سے بھان مَتی کا یہ کنبہ تنکوں کی طرح بکھر گیا۔ اب طاہرالقادری کی طرف سے اکٹھی کی گئی تمام سیاسی جماعتیں تلواریں سونت کر تحریکِ انصاف کے پیچھے دوڑ رہی ہیں اور نوازلیگ خوش کہ چلو ’’خس کم جہاں پاک‘‘۔
طاہرالقادری کی طرف سے سجائی گئی سٹیج سے شیخ رشید نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہوئے اپنے استعفے کا اعلان بھی کیا تھا۔ شیخ رشید نے تو خیر استعفےٰ دینا تھا ،نہ دیا لیکن عمران خاں کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کے استعفے اُن کی جیب میں ہیں اور وہ جب چاہیں گے ،جمع کروا دیں گے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ استعفے 28 جنوری کے بعد پیش کیے جائیں گے کیونکہ اِس تاریخ کے بعد ضمنی الیکشن نہیں ہو سکتے۔ تحریکِ انصاف کے داور کُندی نے کہا کہ کپتان کے پاس تحریکِ انصاف کے اراکینِ قومی وصوبائی اسمبلی میں سے کسی کا استعفےٰ بھی موجود نہیں۔ اگر کپتان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تو آدھی تحریکِ انصاف انکار کر دے گی۔ سوال مگر یہ کہ اگروہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اُسے فائدہ کیا ہوگا؟۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ سینٹ مکمل نہیں ہو سکے گی اور اگلے چار ،پانچ ماہ تک قانون سازی کا عمل رُک جائے گا۔ اگر مارچ میں سینٹ کے بَروقت الیکشن ہو جاتے ہیں تو تحریکِ انصاف کی سینٹ میں نمائندگی برقرار رہتی ہے لیکن استعفوں کی صورت میں عین ممکن ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کے بعد اُس کے ہاتھ کچھ نہ آئے یا نمائندگی مزید کم ہوجائے۔ سینٹ کے انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان کا احتمال تو پیپلزپارٹی کو ہے جس کے26 میں سے 18 ارکان کی مدت مکمل ہو رہی ہے اور یہ طے کہ اتنی تعداد میں پیپلزپارٹی کے ارکان کا منتخب ہونا ناممکن۔ اِس کے باوجود بھی پیپلزپارٹی کے ہاں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا کوئی آپشن موجود نہیں۔ وہ سینٹ اور عام انتخابات بَروقت چاہتی ہے، خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ اِس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جو بہرحال جمہوری تقاضوں کو مدِّ نظر رکھتی ہے ۔
دوسری طرف تحریکِ انصاف کسی ’’معجزے‘‘ کے انتظار میں ہے جو اُسے کبھی امپائر کی انگلی کھڑی ہونے میں نظر آتا ہے تو کبھی مولانا طاہرالقادری کا کندھا استعمال کرنے کی شکل میں۔ کپتان نے تو مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے بَرملا کہہ دیاکہ اگر اُن کا سڑکوں پر نکلنے کا کوئی پروگرام ہو تو اُن سے مشورہ کر لیں کیونکہ اُنہیں ’’سڑکیں ماپنے‘‘ کا تجربہ ہی بہت ہے۔ اُدھر مولانا طاہرالقادری، جنہوں نے صرف دو دِن بعد اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا ’’ٹھنڈے ٹھار‘‘ ہوکر گھر بیٹھ رہے۔ دروغ بَرگردنِ راوی وہ اپنے دیس سدھارنے کی تیاریوں میں ہیں کیونکہ کینیڈا کے موسم میں اب وہ سختی نہیں رہی۔ سچ تو یہی کہ جس طرح ہم گرمیوں میں ’’مَری‘‘ جانے کا قصد کرتے ہیں، اُسی طرح مولانا سردیوں میں کینیڈا کی برفباری سے گھبرا کر پاکستان تشریف لے آتے ہیں اور جونہی موسم کی شدت کم ہوتی ہے، وہ اپنے دیس سدھار جاتے ہیں۔
یہ بجا کہ 18 جنوری کے’’ فلاپ شو ‘‘ کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی دھول کافی حد تک بیٹھ چکی اور وہ تجزیہ نگار ،جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ اب نوازلیگ کا دھڑن تختہ ’’ہووے ای ہووے‘‘ ، اُن کی اُمیدوں پر اَوس پڑ گئی۔ یہ بھی طے کہ اب بَروقت سینٹ اور عام انتخابات اظہرمِن الشمس لیکن نوازلیگ کو عام انتخابات میں جیت کے لیے ابھی بہت سا سفر کرنا باقی ہے۔ اگر نوازلیگ ’’سرویز ‘‘پر تکیہ کیے بیٹھی رہی اور گھر کی خبر نہ لی تو خدشہ ہے کہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پائے گی۔ میاں نوازشریف کے اِس بیان نے بہت سے دُرفطنیاں چھوڑنے والوں کے یہ کہہ کر مُنہ بند کر دیئے کہ دونوں بھائیوں (نوازشریف، شہبازشریف) کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں تو غلام اسحاق خاں کے دَور سے ہی شروع ہو گئی تھیں لیکن سازشیوں کو نہ تَب کامیابی ملی اور نہ اب ملے گی۔ یہ بھی عین حقیقت کہ میاں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو نہ صرف اپنا قائد سمجھتے ہیں بلکہ باپ کا درجہ بھی دیتے ہیں لیکن سابق وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خاں کے ساتھ اُن کی دوستی بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دے رہی ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ چودھری نثار علی خاں نوازلیگ کا اثاثہ ہیں لیکن یہ ’’راجپوتی خون‘‘ اب کچھ غصّے میں ہے۔ اِس لیے ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ چھوٹے میاں صاحب ،چودھری نثارعلی خاں کو منا کر اُنہیں نوازلیگ میں وہی حق دلائیں جس کے وہ اہل ہیں۔ چودھری صاحب سے بھی استدعا ہے کہ وہ ’’ہَتھ ہَولا‘‘ رکھیں کیونکہ یہ بھی تو مناسب نہیں کہ
اتنی بھی بَد مزاجی ہر لحظہ میر تجھ کو
اُلجھاؤ ہے زمیں سے ،جھگڑا ہے آسماں سے