تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> لاسپور ویلی کو اس مرتبہ بھی بجلی سے محروم رکھا گیا، تو وہ سنگین اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوں گے؍منتخب نمائندوں کاپریس کانفرنس

لاسپور ویلی کو اس مرتبہ بھی بجلی سے محروم رکھا گیا، تو وہ سنگین اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوں گے؍منتخب نمائندوں کاپریس کانفرنس

چترال ( محکم الدین ) لاسپور کے بلدیاتی نمایندگان اور عمائدین نے خبردار کیا ہے ۔ کہ لاسپور ویلی کو اس مرتبہ بھی بجلی سے محروم رکھا گیا ۔ تو وہ سنگین اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ اور ماہ جولائی میں شندور فیسٹول کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے میں اُنہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔ اس لئے وہ قبل از وقت حالات سے حکومت کو آگاہ کر رہے ہیں ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل ذولفی ہنر شاہ ، و ناظمین و کونسلرز ، جماعتی خان ، شیر اعظم ، گلستان ، اسلام الدین ، حاصل مراد خان ، غلام حیدر ، مبارک شاہ ، شریف الدین ، پُنار ، رحمت اعظم ، رحمت ولی ، شیر نواز ، بلور خان ، میرزہ ولی ، اژوار خان اور جمہور ولی نے کہا ۔ کہ لاسپور ویلی اٹھارہ ہزار آبادی پر مشتمل ہے ۔ اس کے علاوہ ہزاروں سیاح اس علاقے میں تفریح کیلئے آتے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے ۔ کہ اس وادی کو ریشن بجلی سے محروم رکھا گیا ۔ اب گولین ہائیڈل پاور پراجیکٹ کی بجلی سے بھی محروم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور چیرمین واپڈا اور پیسکو سے مطالبہ کیا ۔ کہ گولین بجلی کیلئے مستوج سے لاسپور تک ٹرانسمیشن لائن بچھایا جائے جو کہ موجودہ پیڈو لائن سے صرف آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔تاکہ وہ نیشنل گرڈ سے منسلک ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لاسپور چترال کا حصہ ہے ۔ لیکن یہاں حکومت کی طرف سے کوئی سہولت دستیاب نہیں ۔ صرف اے کے ڈی این کے اداروں کے سہارے زندہ ہیں ۔ اب اگر بجلی سے بھی اس علاقے کو محروم رکھا گیا ۔ تو احتجاج کے سوا اُن کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت کی طرف سے تعمیر شدہ منی ہائیڈل سے اُن کو ٹرخانے کی کوشش کی جاری ہے ۔ جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم پُر امن لوگ ہیں ، ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ سابق وزیر اعظم کے اعلان کردہ بجلی سے فراہم کرکے مشکلات کا ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومتی عدم توجہی کی صورت میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا ، اور گلگت کے ساتھ ضم ہونے پر غور کیا جائے گا ۔