دادبیداد…علی گڑھ کے پشوری طالب علم…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی (تعارف)ڈپٹی اسپیکرخیبرپختونخوا ثریابی بی ۔۔۔۔تحریر:حمیدالرحمن حقی چترال کے گوداموں میں گندم ختم ہونے کا خدشہ ،پورے ضلع کیلئے صرف تین ہزار بوری گندم گوداموں میں موجود ، بعض گوداموں میں گندم کا معیار انتہائی ناقص، عوام کو مٹی اور بھوسہ خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ عوامی حلقے پاکستان مسلم لیگ (ن) لویر چترال کے صدر عبدالولی خان ایڈوکیٹ نے وفاق میں حکومت سازی کے معاملات میں کامیابی پر نامزد امیدوار وزیراعظم شہباز شریف کومبارکباد باد پیش چترال میں‌ڈسبلٹی انکلسیو ڈزاسٹر رسک ریڈکشن” کے موضوع پر چترال کے مختلف سٹاک ہولڈرز کے لیے national integrity development association (NIDA) کی طرف منعقد ہو منعقد Aga Khan Agency For Habitat Pakistan will be conducting an auction for the sale of PPR Pipes لواری ٹنل دیر سائیڈ پر این ایچ اے۔۔ٹھیکہ دار کے پاس مشینری کی کمی ہے۔۔قاری جمال ناصر چترال میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا ۔ ضلع کونسل میں تقریب ،ڈپٹی کمشنرمحمد عمران خان مہمان خصوصی تھے اپر اور لویر چترال کے اضلاع میں مختلف سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں موٹر گاڑیوں کی ٹریفک کے لئے بند چترال میں برفباری کے بعد موسم صاف ہونے اور دھوپ نکلنے پر چترال ٹاون کے چاروں اطرف میں سفید چادروں میں ملبوس
539

صوبائی اور مرکزی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکام

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)سابق ایم این اے چترال اور جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر چترالی نے حکومت کو خبردار کیا ہے ۔ کہ پندرہ دنوں کے اندر چترال میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو بسانے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ۔ تو تنظیم تحفظ حقوق سیلاب زدگان چترال کے پلیٹ فارم سے شدید احتجاج کا آغاز کیا جائے گا
۔چترال پریس کلب میں بدھ کے روز جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں اخونزادہ رحمت اللہ ، عبدالحق اورحکیم مجیب اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ چار مہینوں سے چترال کے طول و عرض میں سیلاب سے تباہ حال پانچ سو خاندان انتہائی مایوسی اور محرومی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں ۔صوبائی اور مرکزی حکومتیں سیلاب متاثرین کی بحالی میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اور لوگ مختلف مخیر اداروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ جبکہ سردیوں کا آغاز ہو چکا ہے ۔اب بارش اور برفباری میں خیموں یا کھلے آسمان تلے وقت گزارنا ممکن نہیں ۔اس لئے فوری طور پر ان متاثرین کیلئے چھت کا انتظام کیا جائے ۔
مولانا چترالی نے کہا ۔ کہ چترال کے سیلاب کے دوران وزیر اعظم ،چیف آف سٹاف اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے چترال کا دورہ کیا ۔ لیکن اس دورے سے چترال کے سیلاب متاثرین کو کچھ بھی نہیں ملا ۔ جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ جبکہ متاثرین یہ توقع کر رہے تھے ۔ کہ اعلی حکومتی شخصیات کی آمد سے اُن کی بحالی کیلئے زیادہ دلچسپی سے اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ لیکن یہ اُن لوگوں کیلئے محض ایک خواب ثابت ہوا ۔ وزیر اعظم کی طرف سے جانی نقصان کیلئے پانچ لاکھ اور مکمل تباہ شدہ مکان کیلئے چار لاکھ معاوضے کے اعلان پر ابھی تک عمل در آمد نہیں ہوا ۔
انہوں نے کہا ۔ کہ پاک فوج نے سیلاب کے دوران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ تاہم ایف ڈبلیو او کا کام غیر اطمینان بخش رہا ۔مولانا چترالی نے کہاکہ پاک فوج نے ریلیف کے مرحلے میں زبردست کارکردگی دیکھائی اور آرمی چیف نے خود چترال کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیاجس کے لئے چترال کے عوام ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہاتاہم چترال کے عوام بونی روڈ، گرم چشمہ روڈ اور بمبوریت روڈمیں ایف ۔ڈبلیو ۔ او کے کام سے مطمئن نہیں ہیں جس کا آرمی چیف کا سخت نوٹس لینا چاہئے انہوں نے چیف آف سٹاف اور کور کمانڈر پشاور سے ایف ڈبلیو او کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق احکامات دینے کا مطالبہ کیا ۔ ۔
مولانا عبد الاکبر نے کہا ۔ کہ گورنر کی طرف سے تعلیمی اداروں کے طلباء کی فیسوں کی معافی کے اعلان سے صرف کالج کے طلباء کو فائدہ پہنچا ہے ۔ جبکہ اس کا اطلاق یونیورسٹی سطح پر بھی ہونا چاہیے ۔ اور سیلاب سے متاثرہ چترال کے طلباء کو ایک سال کی بجائے دو سالوں کے فیسوں کی ریلیف دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے جنگلات کی کٹائی شدہ عمارتی لکڑیوں کو مقامی سطح پر نیلام کرکے متاثرین سیلاب کو دیا جائے ۔ تاکہ وہ اپنے مکانات تعمیر کر سکیں ۔ مولانا چترالی نے حکومت سے فوری طور پر سیلاب متاثرین کیلئے دس ارب روپے کے پیکج کے اعلان کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے پشاور یونیور سٹی میں بیا لوجی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ تمام ڈیپارٹمنٹ میں چترال کے ختم کردہ سیٹوں کی دوبارہ بحالی کا بھی مطالبہ کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں